جو بائیڈن نے کس سے اور کیوں بات نہیں کی؟

Updated: February 23, 2021, 4:57 PM IST | Ahsan Kamal

شی جن پنگ سے بائیڈن کی گفتگو دو گھنٹے طویل تھی۔ بات چیت گوناگوں موضوعات پر ہوئی، جن میں مبینہ طور پر ہانگ کانگ اور سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پاما لی کے واقعات کوزیر بحث لایاگیا تھا۔

Xi Jinpin and Joe Biden.Picture:INN
جو بائیڈن اورشی جن پنگ ۔تصویر :آئی این این

زیرِ نظر مضمون کو گزشتہ کا ضمیمہ سمجھ لیجئے۔۳ ؍نومبر ۲۰۲۰ء کو جب امریکی صدارتی انتخابات کا نتیجہ آیا اور جوبائیڈن کامیاب قرار پائے تو ان کے لئے دنیا بھر کے سربراہوں کی طرف سے مبارکبادی کے پیغامات کا تانتا لگ گیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر جن پانچ ممالک کے سربراہوں نے جو بائیڈن کو مبارک باد دینے میں ۲۴؍ گھنٹوں یا اس سے بھی زیادہ وقت تک تامّل سے کام لیا، وہ صدر ولادیمیر پوتن، شی جن پنگ، محمد بن سلمان، نیتن یاہو اور نریندر دامودر داس مودی تھے۔ سب کے پاس اس تامّل کی اپنی اپنی وجوہات بھی تھیں۔ مثلاََ روسی صدر پوتن نے اس لئے تین چار دن تک خاموشی اختیار کئے رکھی کہ انہیں بخوبی علم تھا کہ جو بائیڈن ان کی اور ٹرمپ کی دوستی کو دوستی نہیں سمجھتے تھے، ملی بھگت مانتے تھے۔ جو بائیڈن کئی بار کہہ چکے تھے کہ پوتن نے ٹرمپ کو جتانے کے لئے انٹرنیٹ کے ذریعہ امریکی عوام تک جھوٹی خبریں پہنچائی تھیں۔پوتن دیکھنا چاہتے تھے کہ جو بائیڈن اپنی روش پر قائم رہتے ہیں یا صدر بننے کے بعد قدرے نرم پڑ گئے ہیں۔شی جن پنگ کو بھی انتظار تھا کہ بائیڈن چین کی طرف اپنا رویّہ کس حد تک بدلنے کو تیار ہیں۔ جہاں تک محمد بن سلمان اور نیتن یاہو کا تعلق ہے ، وہ تو سکتہ کے عالم میں تھے۔ انہیں تو جیرڈکشنر نے یقین دلایا تھا کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے نکل سکتا ہے، لیکن ٹرمپ ہارنہیں سکتے۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے کیوں ۲۴؍گھنٹے تک مبارکباد نہیں د ی، یہ صرف ان ہی کومعلوم ہے۔ جتنایہ اہم ہے کہ بائیڈن کو کس کس نے مبارکباد دینے میں تاخیر کی، اتنا ہی، بلکہ اس سے بھی زیادہ یہ اہم ہے کہ بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کس کس سے بات کی ہے۔ سچ پوچھئے کہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انہوں نے کس کس سے اب تک بات نہیں کی۔ جن پانچ سربراہوں نے انہیں دیرسے مبارکباد دی تھی، ان میں سے بائیڈن نے اب تک صرف پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ سے بات کی ہے۔ پوتن سے انہوں نے بہت سخت لہجہ میں بات کی ہے ۔ انہوں نے پوتن سے کہہ دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے امریکہ کو بھول جائیں اور جان لیں کہ ان کا سابقہ اب اس امریکہ سے ہوگا جو اپنے یہاں اور ساری دنیا میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کوشاں ہوگا۔ یہاں اشارہ گرفتار روسی لیڈر نیولنی کی طرف تھا، جنہیں امریکہ روس میں جمہوریت کا علم بردارسمجھتا ہے۔ شی جن پنگ سے بائیڈن کی گفتگو دو گھنٹے طویل تھی۔ بات چیت گوناگوں موضوعات پر ہوئی، جن میں مبینہ طور پر ہانگ کانگ اور سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پاما لی کے واقعات کوزیر بحث لایاگیا تھا اور معاشی معاملات میں حریفائی کا بھی ذکرہوا۔گفتگوتلخ بھی تھی اور شیریں بھی۔کیونکہ یہ تو طے ہے کہ امریکہ معاشی محاذ پر چین کی پیش قدمی سے پریشان ہے، لیکن ٹرمپ کی طرح اول جلول حرکتیں بائیڈن کا وطیرہ نہیں ہے۔ بات چیت کا اختتام اس نکتہ پر ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مقابلہ آرائی تو رہے گی، لیکن ٹکراؤ اور تصادم سے گریز کیا جائے گا۔ یوں تو جو بائیڈن کی ابھی محمد بن سلمان اور نریندر مودی سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے، لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ انہوں نے تادمِ تحریر نیتن یاہو سے بھی بات نہیں کی ہے۔بائیڈن کے اسٹاف کے اراکین سے جب یہ پوچھا گیا کہ صدر نے ببی سے، جو نیتن یاہو کی عرفیت ہے،اب تک بات کیوں نہیں کی اوریہ کہ کیا انہوں نے ایساعمداََ کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ عمداََ ایسا نہیں کیا گیا ہے اور یہ کہ ان سے بات وقت آنے پر ضرور کی جائے گی۔ صاف لگتا ہے کہ جواب ٹال دیا گیا ہے ۔
 یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ یہ اسرائیل کی طرف پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ ہے، لیکن چند باتیں جا ن لینا بہتر ہوگا۔ جوبائیڈن کیتھولک عیسائی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ پروٹسٹنٹ ممالک سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک میں کیتھولک عیسائی اقلیت میں ہیں۔ ہردو ممالک میں کسی کیتھولک کا صدر یا وزیر اعظم بننا بہت دشوار امر سمجھا جاتا ہے۔امریکہ میں آج تک  صرف جان ایف کینیڈی پہلے کیتھولک صدر تھے۔ جو بائیڈن دوسرےہیں۔ اسرائیل میں بائیڈن کا صدر بننا تشویش کا باعث خیال کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں بائیڈن ، ہر چند کہ نیتن یاہو سے اس طرح متنفّر تو نہیں جس طرح بارک اوبامہ تھے، لیکن وہ  بھی یاہو کو ایک بد دماغ اور ہٹ دھرم آدمی سمجھتے ہیں۔ اسرائیل کے قیام کے وقت سے ہی روم کا ہر پوپ یہ کہتا رہا ہے کہ یروشلم کو ایک بین الاقوامی شہر کا درجہ دیا جائے جو یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کیلئے یکساں طور پر پہنچ کے قابل رہے۔ خیال رہے کہ یروشلم دنیا کا واحد شہر ہے، جہاں دنیا کے تین بڑے مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مقدس مقامات ایک ساتھ موجود ہیں۔ یہاں یہودیوں کے ہیکل سلیمانی کے آثار ہیں، یہاں نظارہ ہے اور یہیں مسجد اقصیٰ بھی ہے۔ مزید بر آں بائیڈن ہمیشہ سے دو ریاستی فارمولے کی وکالت کرتے آئے ہیں۔ان کا موقف رہا ہے کہ اسرائیل کی طرح ہی فلسطین کو بھی ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا درجہ دیا جائے۔ بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے دوسرے ہی دن ٹرمپ کے جو فیصلے بدلے ان میں فلسطین کے بارے میں فیصلہ بھی شامل تھا۔ بائیڈن نے فلسطین کو دی جانے والی وہ سالانہ امداد بحال کر دی، جسے ٹرمپ نے ۲۰۱۸ء میں روک دیا تھا۔
  جو بائیڈن نے محمد بن سلمان سے بھی بات نہیں کی ہے۔ کیوں نہیں کی  ہے؟ ان کالموں میں اس کا بہت تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔ اور اب تو وہائٹ ہائوس کی ترجمان جین ساکی نے بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ بائیڈن اگر بات کریں گے بھی تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے کریں گے، کیونکہ وہی ان کے ہم رتبہ ہیں۔ اور اب آخر میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کا معاملہ رہ جاتا ہے۔ بائیڈن نے نریندر مودی سے بات نہیں کی۔اس پر سیاسی حلقوں میں پریشانی تو ہے لیکن حیرانی بالکل نہیں ہے۔ حیرانی نہ ہونے کی وجہ بھی سب کو معلوم ہے۔بات نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ امریکہ میں ’’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘‘نہیں، بلکہ بائیڈن سرکار ہے۔پریشانی یہ بھی نہیں ہے کہ انہوں نے مودی سے بات نہیں کی۔ پریشانی یہ ہے کہ اگر انہوں نے بات کی تو کیا کریں گے؟ جب بائیڈن روس اور چین سے انسانی حقوق کی پامالی پر بازپرس کر سکتے ہیں تو ہندوستان میں تو اس موضوع پر اتنا مواد موجود ہے کہ شی جن پنگ سے تو دو گھنٹہ ہی بات ہوئی ، مودی جی سے تو چار گھنٹے بھی کم ثابت ہونگے۔ صرف کشمیر کا مسئلہ نہیں ، اب تو کسان آندولن بھی موضوع سخن ہو سکتا ہے۔ اس پر دہلی پولیس کے قربان جائیے کہ گریٹاتھنبرگ اور دِشا روی کو بھی گرما گرم موضوع گفتگو بنا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK