شاہین باغ کی پرعزم خواتین جمہوریت کی سچی پاسبان

Updated: January 12, 2020, 9:40 am IST | Jamal Rizvi

یہ احتجاج جمہوریت کے تحفظ کی ایک قابل قدر کوشش ہے ۔ اس احتجاج میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اُن کا براہ راست تعلق ملک کے ان آئینی تقاضوں اور اصولوں سے ہے جن کی بنیاد پر سیکولرازم کا تصور قائم ہوتا ہے۔ ان سوالات کے ذریعہ یہ احتجاجی خواتین ملک کی اتحاد و سماجی یکجہتی کی روایت کو تقویت عطا کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے اس احتجاج کی مدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس کی سماجی اہمیت اور ہمہ گیریت میں بھی توسیع ہوتی جارہی ہے۔

 شاہین باغ کی پرعزم خواتین جمہوریت کی سچی پاسبان
شاہین باغ میں خواتین کا شہریت ترمیمی قانون کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ملک میں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ کے حکومتی اعلان کے بعدسے اب تک اس معاملے پر اقتدار اور عوام کے درمیان رابطہ کی جو صورت واضح طور پر سامنے آئی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکمراں طبقہ جب اقتدار کے زعم میں خود کو ’زمینی خدا‘ سمجھنے لگتا ہے تو نہ تو اسے عوام کے مسائل اور ان کے مطالبات پر کان دھرنے کی فرصت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ان سیاسی تقاضوں کی تکمیل کے لیے فکر مند ہوتا ہے جن کی پاسداری کی یقین دہانی اسے اقتدار تک پہنچنے میں مدد کرتی ہے ۔ ملک میں اس قانون کے نفاذ کے سلسلے میںابھی حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت اسے موجودہ شکل میں ہی نافذ کرے گی یا اس میں کچھ ترمیمات اور تبدیلیاں کرے گی یا پھر عوام کا پرزور احتجاج حکومت کو اس کی منسوخی کے لیے آمادہ کرے گا؟ اس قانون کے متعلق ایک طرف جہاں حکومت کا ہٹ دھرمی والا رویہ جمہوریت کے تصور کے عین خلاف ہے وہیں دوسری جانب ملک گیر سطح پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شامل عوام اس قانون کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار جس انداز میں کر رہے ہیںوہ اس ملک میں جمہوریت کی بقا کو یقینی بناتا ہے ۔ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے قایم کیا گیا تقریباً ہر ادارہ جب ارباب اقتدار کے آگے سرنگوں ہو چکا ہے ، ایسی صورت میں عوام کی جانب سے جاری یہ احتجاج ملک میں جمہوریت کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔ 
 شہریت کے نئے متناز ع قانون کے خلاف ملک گیر سطح پر جاری احتجاج کے درمیان شاہین باغ کی احتجاجی خواتین جس عزم و حوصلے کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ بے مثال ہے ۔ان پر عزم خواتین کا احتجاج نمایاں طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ اس ملک کے عوام کے درمیان مذہب اور قوم کی تفریق قایم کر کے ارباب اقتدار اس کی تاریخ اور سماجی ہم آہنگی کی روایت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک حکومت نے ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی ۔چار ہفتوں سے جاری اس احتجاج میں اگر چہ مسلمان خواتین کی تعداد زیادہ ہے تاہم دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کی اس میں شرکت یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک خالص سماجی مسئلے کو جس طرح مذہبی رنگ دینے کی کوشش ارباب اقتدار کے ذریعہ ہو رہی ہے وہ عوام کے ساتھ ایک چھلاوا ہے ۔حکومت نواز میڈیا بھی اپنے طور سے اس مسئلے کو مذہبی رنگ دینے میں پورے شد و مد کے ساتھ لگا ہے لیکن اقتدار اور متعصب میڈیا کی ان تمام کوششوں کو ان احتجاجی خواتین نے ناکام بنا دیا ہے ۔
 شاہین باغ کے اس مظاہرے میں ہر عمر اور طبقہ کی خواتین شہریت کے نئے متنازع قانون کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار جس مہذب اور معروضی انداز میں کر رہی ہیں وہ وطن سے ان کی بے لوث محبت کا ثبوت ہے ۔ ملک کا حکومت نواز میڈیا اس احتجاج کی کوریج میں اپنے تحفظات اور مفادات کو جس طرح ترجیح دے رہا ہے وہ بھی ملک کے جمہوری مزاج کے برعکس ہے ۔ حکومت کی کسی پالیسی یا قانون سے وابستہ ممکنہ سماجی نقصانات کا اظہار عوام کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے استعمال پر میڈیا کا ایک طبقہ اگر مسلسل نکتہ چینی کرتا رہے تو اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ غیر جانب داری اور شفافیت کا دعویٰ کرنے والا میڈیا عوام کے مفاد سے زیادہ اقتدار کی مرضی کا پابند ہو گیا ہے ۔کسی بھی جمہوری ملک میں میڈیا اور اقتدار کی ایسی جگل بندی عوام کے سماجی حقوق کو سبوتاژ کرتی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ 
 شاہین باغ کی خواتین کا یہ احتجاج جمہوریت کے تحفظ کی ایک قابل قدر کوشش ہے ۔ اس احتجاجی مظاہرے میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کا براہ راست تعلق اس ملک کے ان آئینی تقاضوں اور اصولوں سے ہے جن کی بنیاد پر سیکولرازم کا تصور قایم ہوتا ہے ۔ان سوالات کے ذریعہ یہ احتجاجی خواتین اس ملک کی اتحاد و سماجی یکجہتی کی روایت کو تقویت عطا کر رہی ہیں۔جیسے جیسے اس احتجاجی مظاہرے کی مدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس کی سماجی اہمیت اور ہمہ گیریت میں بھی توسیع ہوتی جارہی ہے ۔ اس ملک کے جمہوری نظام کے تحفظ کے تناظر میں دیکھیں تو یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مظاہرے کے ذریعہ ارباب اقتدار سے جو سوالات کیے جارہے ہیں ان کا مقصد صرف ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کی شہریت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اب اس مظاہرے میں خواتین کا وہ طبقہ بھی شامل ہوگیا ہے جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل میں حکومت کی کوتاہی پر اپنے غم اور غصہ کا اظہار کررہا ہے ۔ملک کے دوسرے شہروں سے آکر اس مظاہرے میں شامل ہونے والی غیر مسلم خواتین نے اس کو مذہب اور قوم کے محدود دائرے سے نکال کر جو سماجی وسعت عطا کی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی تفریق اور منافرت والی سیاست کے سہارے عوام کے سماجی مسائل کو مسلسل نظر انداز کرنے کی حکمت عملی بہت زیادہ مدت تک اقتدار کے متعصابہ رویہ کی ڈھال نہیں بن سکتی۔
 حکومت عوام کے جن بنیادی مسائل سے مسلسل چشم پوشی کرتی رہی ہے ان مسائل کے متعلق بھی اس احتجاجی مظاہرے میں موثر طریقہ سے آواز اٹھ رہی ہے ۔ اقتدار کی مصنوعی یقین دہانی کے باوجود یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہے کہ یہ متنازع قانون ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو سماجی و معاشی طور پر کمزوربنائے گا لیکن اب یہ مسئلہ صرف اسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں تک محدود نہیں رہ گیا ہے ۔ اس مظاہرے میں معاشی طور پر کمزور طبقہ سے وابستہ خواتین کی شرکت نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندو اور مسلمان کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس سے ان غریبوں کو بھی مختلف طرح کے مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا جو اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں ۔یہ طبقہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے روزی روٹی کا بندوبست کرنے میں عمر عزیز کا ایک طویل عرصہ شہر در شہر بھٹکنے میں گزار دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اس کے پاس وہ کاغذات کیسے مل پائیں گے جو اس ملک کی شہریت ثابت کرنے کے لیے حکومت کو مطلوب ہیں ۔ شاہین باغ کے اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعہ وہ سماجی تھیوری بھی بہت واضح طو ر پر سامنے آئی ہے جو صرف سرمایہ دار طبقہ سے ہی اقتدار کی ہمدردی اور انسیت کو ظاہر کرتی ہے ۔
 مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی حکومتی پالیسیوں میں سرمایہ دار طبقہ سے اقتدار کے اس لگاؤ کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے ۔ اس نئے متنازع قانون میں بھی حکومت اسی پالیسی کے تحت سماج کے نادار طبقہ کو پیچیدہ قواعد میں الجھاکر انھیں محرومی اور مجبوری کی نفسیات میں گرفتار رکھنا چاہتی ہے ۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے انھیں مختلف طرح کے سبزباغ دکھانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے ۔ شہریت کے اس متنازع قانون کے ذریعہ بھی ملک کے اکثریتی سماج کو ایسا ہی سبز باغ دکھایا جارہا ہے ۔ ملک کو درپیش سماجی اور معاشی مسائل کی نوعیت سمجھنے سے قاصر حکومت پرست طبقہ حکومت کے اس سبز باغ پر بھی اسی طرح یقین کر رہا ہے جس طرح نوٹ بندی کے فیصلے کو ملک کی معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک ناگزیر اقدام سمجھتا تھا ۔حالانکہ اب یہ سچائی پوری طرح سامنے آچکی ہے کہ نوٹ بندی کے اس فیصلے کا عوامی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں تھا بلکہ چند مخصوص اہداف کی تکمیل کی خاطر حکومت نے پورے ملک کے عوام کو اس میں اس قدر مبتلا کر دیا کہ اس کے اثرات آج بھی پوری طرح زائل نہیں ہوئے ہیں۔
 دہلی کے شاہین باغ میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے والی خواتین کا احتجاج اس یقین کو تقویت عطا کررہا ہے جو اس ملک کے جمہوری نظام اور سیکولر مزاج کو برقرار رکھنے میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے ۔ان پر عزم خواتین کے مطالبات کو مذہبی تعصب کی نظر سے دیکھنے کی بجائے اقتدار اور عوام کے مابین اس ربط کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس کی بنا پر جمہوریت کا تصور قایم ہوتا ہے ۔ ایک ہی شہر میں محض چند میلوں کے فاصلے پر شاہین باغ اور ارباب اقتدار کے پرشکوہ دفاتر کے درمیان دوری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ چار ہفتوں سے جاری اس احتجاجی مظاہرہ میں مختلف طرح کے مسائل کو برداشت کرکے روزانہ جمع ہونے والی ان پرعزم اور با حوصلہ خواتین کی آواز پر حکومت نے اب تک کوئی توجہ نہیں دی ۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں اقتدار کا عوام کے تئیں یہ رویہ  افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK