قوت سماعت و گویائی سےمحروم شخص جو لکڑی پر نقش و نگار بنانےوالے فنکار ہیں

Updated: January 17, 2022, 12:31 PM IST | Agency | Srinagar

قوت سماعت و گویائی سے محروم شخص جو لکڑی پر نقش و نگار بنانے والے فنکار ہیں سری نگر کے محمد یوسف مُرن اخروٹ کی لکڑی پر دلکش و مسحورکن نقش نگاری کیلئے مشہور ہیں

Muhammad Yusuf Moran .Picture:INN
محمد یوسف مُرن۔ تصویر: آئی این این

  سری نگر کے نرورہ عید گاہ علاقے سے تعلق رکھنے والے قوت سماعت و گویائی سے محروم کاریگر محمد یوسف مرن اخروٹ کی لکڑی پر دلکش و مسحور کن نقش و نگاری کرکے اپنے احساسات ہی نہیں بلکہ اپنی شخصیت کی جلوہ نمائی کرتے ہیں۔ محمد یوسف مرن نے اپنے بھائی بڑے مرحوم عبدالاحد مرن سے اس فن کے تمام  اسرار و رموز سیکھے ہیں اور آج وہ اپنے اس فن میں یکتائے زمانہ ہیں۔ تاہم محمد یوسف  کے  بھتیجےمدثر مرن کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے کشمیر کی شاندار ثقافت کا یہ قدیم ترین فن روبہ زوال ہے۔ مدثر نے اپنے والد  مرحوم عبدالاحد مرن اور چچا محمد یوسف مرن کی فنی صلاحیتوں اور ’ووڈ کارونگ‘ کے فن کی موجودہ صورتحال پر ایجنسی کے ساتھ  تفصیلی گفتگو کے دوران کہا کہ میں خود تعلیم کو خیر باد کہہ کر اس فن کے فروغ  کے لئے محو جد وجہد ہوں لیکن ابھی مشکل حالات سے ہی دوچار ہوں۔  مدثر مرن نے کہا: ’’ہم قریب ۲۰۰؍ سال  سے اس پیشے سے وابستہ ہیں اور تقسیم ملک سے پہلے ہمارے کراچی اور پشاور میں بھی مینو فکچرنگ یونٹ تھے جو بعد میں بند ہوگئے۔  میرے والد مرحوم عبدالاحد مرن ووڈ کارونگ کے فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور میرے چچا محمد یوسف مرن جو قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں، نے والد مرحوم سے ہی اس فن کے اسرار و رموز سیکھے ہیں۔‘‘  ان کا کہنا  ہے کہ’’محمد یوسف مرن کشمیر کے واحد کاریگر ہیں جو اس فن میں اپنی مثال آپ ہیں باقی کاریگر بھی ہیں لیکن وہ ان کے برابر نہیں ہیں۔میرے چچا گرچہ گوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں لیکن ان کے فن پارے ان کی زبان ہیں اور ان کے احساسات اور ان میں پوشیدہ ایک منجھے ہوئے کاریگر کی شخصیت کے مظہر ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ میرے چچا کے ہاتھوں سے تیار کردہ مختلف فن پارے دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔تاہم ان کا شکوہ تھا: ’’لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ نہ حکومت نے کبھی ان کی حوصلہ افزائی کی اور نہ ہی لوگ ان کی قدر کر رہے ہیں کیونکہ آخر وہ کشمیر کی ثقافت سے جڑے ایک اہم ترین فن کی ہی خدمت کر رہے ہیں۔‘‘ مدثر نے کہا کہ میں خود بھی اس وارثتی فن کا دلدادہ ہوں اور میں اس کے فروغ کے لئے خود میدان میں اترا ہوں۔ انہوں نے کہا: ’میں نے لیتہ پورہ میں قومی شاہراہ پر اپنا ایک شو روم قائم کیا ہے جس کو چلانے کے لئے مجھے گوناگوں مالی و دیگر مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرچہ کئی سال انتہائی خراب رہے تاہم سال گزشتہ ہمارا کام اچھا رہا جس سے ہماری امیدیں ایک بار پھر جاگزیں ہوئیں۔مدثر مرن کا دعویٰ ہے کہ اگر حکومت خاص کر متعلقہ محکمہ اس فن کی طرف متوجہ ہوکر اس کے فروغ کے لئے زمینی سطح پر کام کرے گا تو یہ نہ صرف ہزاروں بے روز گار نوجوانوں کے لئے روز گار کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوگا بلکہ کشمیری ثقافت سے جڑا یہ شاندار فن دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ کر ہماری نمائندگی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا فن ہے جس کو اگر اچھی طرح سے فروغ دیا جائے گا تو اس کا غیر مقامی و ملکی سیاحوں پر انحصار ہی نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ووڈ کارونگ کی مختلف آرائشی و عیش کی چیزوں کو یہاں کے بڑے بڑے ریستوران، بڑے سرکاری و غیر سرکاری دفاتر، ہوائی اڈے کی زینت بنایا جائے تو اس فن میں جہاں ایک طرف چار چاند لگ جائیں گے وہیں یہاں مقامی لوگوں میں بھی اس کی مزید تشہیر ہوگی اور بیرون وادی سے آنے والے لوگ خواہ وہ سیاح ہوں یا کاروباری لوگ یا دیگر شعبوں سے وابستہ لوگ ہوں، اس فن سے واقف ہوں گے۔ مدثر مرن نے یہ بھی کہا کہ ’’میرے ساتھ اس وقت کم سے کم ۱۰۰؍ افراد جڑے ہیں جن کی روزی روٹی اسی پر منحصر ہے۔لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس فن سے وابستہ ہیں وہ اپنے بچوں کو اس سے دور رکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں اس کا مستقبل بہتر نظر نہیں آ رہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK