جلگائوں کی ہونہار طالبہ کی’نیٹ‘ امتحان میں امتیازی کامیابی،قومی سطح پر ۲۰۹؍واں مقام حاصل کیا

Updated: November 22, 2022, 1:39 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

عظمیٰ شیخ اقبال شیخ کی دسویں جماعت تک کی تعلیم اردو میڈیم سے ہوئی ہے، گریجویشن کے دوران کالج ٹاپر کے ساتھ ساتھ شمالی مہاراشٹر یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ بھی بنی تھیں

Uzma Iqbal Shaikh .Picture:INN
عظمیٰ اقبال شیخ ۔ تصویر:آئی این این

یہاں کی اردو میڈیم کی طالبہ عظمیٰ ناز اقبال شیخ نے قومی سطح پر اپنے والدین و شہر کا نام روشن کیا ہے۔ عظمیٰ ناز نے جے آر ایف سی ایس آئی آر -این ای ٹی میں   قومی سطح پر ۲۰۹ ؍ واں رینک حاصل کیا ہے ۔یا د رہےکہ  عظمیٰ ناز اقبال شیخ  کی تعلیمی کارکردگی ہمیشہ سے ہی نمایاں رہی ۔ عظمیٰ  بی ایس سی میں کالج ٹاپر رہیں   اورشمالی مہاراشٹر یونیورسٹی کی گولڈمیڈلسٹ بھی بنی تھیں۔ اس کے علاوہ انہیں ایم جے کالج جلگائوں سے ایم ایس سی کے سال سوم میں’بیسٹ اسٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ کے اعزاز سے بھی نوازا گیاتھا۔  انقلاب کیلئے جانے والی خصوصی گفتگو میں عظمیٰ ناز شیخ نے بتایا کہ جلگائوں کے ایم جے کالج سےپوسٹ گریجویشن جون میں مکمل کرنے کے بعد میں نے ’CSIR NETJRF‘ کی تیاری کیلئے  پونے کےانسٹی ٹیوٹ فار  ایڈوانس اسٹڈیز سے کوچنگ حاصل کی۔ یہاںسے  دو مہینوں تک کوچنگ حاصل کرنے کے بعد ستمبر میں امتحان دیا اور اسکے نتائج سامنے ہیں ۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ عظمیٰ ناز اقبال شیخ نے پہلی ہی کوشش (اٹیمپٹ ) میںامتحان کامیاب کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں عظمیٰ ناز شیخ نے بتایا کہ ’’میری  ابتدائی تعلیم جلگائوں کے  اقراء اردو ہائی اسکول پرتاپ نگر  سے ہوئی، یہ اسکول  اب  سالارنگر میں جاری ہے۔ یہاں  سے ۲۰۱۵ء میں دسویں جماعت کا امتحان کامیاب کرنے کے بعد   جلگائوں ہی کے ڈاکٹر انا صاحب جی ڈی بینڈلے مہیلا مہاودیالیہ سے جونیئر کالج سطح کی تعلیم مکمل کی ۔ اس کے بعد مولجی جیٹھا (ایم جے )کالج جلگائوں سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن ( بی ایس سی اور ایم ایس سی )مکمل  ہوا۔‘‘ عظمیٰ نے آگے کہا کہ ’’مولجی جیٹھا (ایم جے )کالج جلگائوںسے بی ایس سی کے دوران ۲۰۲۰ء میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے عوض شمالی مہاراشٹر یونیورسٹی نے مجھے گولڈ میڈل سے نوازا تھا اورپوسٹ گریجویشن ایم ایس سی۲۰۲۲ء کےدوران ایم ایس سی سال سوم میں مجھے پورے کالج میںبیسٹ اسٹوڈنٹ آف دی ایئر کا خطاب بھی حاصل ہوا ۔ میں نے ۹۲ فیصد مارکس سے کامیابی حاصل کی تھی۔ جے آر ایف نیٹ کے ہدف اورمستقبل کے عزائم کے متعلق عظمیٰ نے کہا کہ ’’ اس امتحان میں شرکت کرنے کا ارادہ میں نے گیارہویں جماعت کے دوران ہی کرلیا تھا، اس امتحان کی اہمیت مجھے اس وقت زیادہ بہتر سمجھ میں آئی جب میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کررہی تھی۔ مجھے ان سینئرس سے بھی کافی مدد ملی جو پہلے ہی یہ امتحان کامیاب کرچکے تھے ۔  اس امتحان میں شرکت کی  ترغیب مجھے اپنی بڑی بہن پروفیسر غزالہ پروین شیخ سے ملی جو کہ نیٹ سیٹ کامیاب ہیں اور جلگائوں ہی  کے نوتن مراٹھا کالج  میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ اس امتحان کی تیاری کے متعلق عظمیٰ نے بتایا کہ  جیسے کہ میں نے پہلے ہی یہ ہدف طے کرلیا تھا کہ مجھے  نیٹ امتحان کامیاب کرنا ہے۔ اسلئے اس کی تیاری  جونیئر کالج سے ہی شروع کردی تھیں کیوں کہCSIR NET JRF امتحان سائنسی ، لائیو سائنس، فزکس، کیمسٹری سمیت سائنس کے تمام مضامین کے لئے منعقد کیاجاتا ہےاور جونیئر کالج سائنس فیکلٹی میں لگ بھگ یہی مضامین ہوتے ہیں۔ لہٰذا میں  کالج لیکچر کے بعد اپنے گھر پر ان مضامین کی بھرپور توجہ کے ساتھ پڑھائی کرتی تھی، حوالہ جاتی کتب کی بھی مدد لی۔پونے کےانسٹی ٹیوٹ فار  ایڈوانس اسٹڈیز میں دو مہینے کی  کوچنگ کے دوران روزانہ ۵؍ گھنٹے امتحان کی مشق کرائی جاتی ہے  اسکے علاوہ میں  ۵-۴؍گھنٹے اپنے گھر پر بھی مشق کرتی تھی ۔ طلباء و طالبات کیلئے آپ کوئی  پیغام دینا چاہتی ہیں ؟ اس استفسار پر عظمیٰ نے کہا کہ ’’طلباء و طالبات کو دوران طالب علمی ہی مستقبل میں کیا کرنا ہے طئے کرنا چاہئے اسکے بعد سنجیدگی ،غور و فکر کے ساتھ اس پر محنت کرنا چاہئے ،جیسا کہ میں نے خود کیا ہے، گیارہویں جماعت میں ہی میں نے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طئے کیا اور اسے حاصل کرنے کیلئے سنجیدگی ،محنت ایمانداری سے کوشش کی ۔کیونکہ اس دور میں مقابلہ آرائی کافی بڑھ گئی ہے۔ جب ہم نے ایک مرتبہ طئے کرلیا کہ یہی ہمارا مقصد ہے تو پھر ہمیں ناکامی کی پرواہ کئے بغیر اپنی محنت مسلسل جاری رکھنا ہے ۔ اس دوران اگر ناکامی  ملتی ہے تو اس کا تجزیہ کرنا ہے اور اگلی کوشش میں مزید بہتری کے ساتھ آگے قدم بڑھانا  چاہئے۔ہمیں محنت روز کرنا ہے اور پوری ایمانداری اور توجہ کے ساتھ کرنا ہے، پھر چاہے کتنا بھی مشکل امتحان کیوں نہ ہو ان شاء اللہ ہمیںپھل ملے گا۔عظمی ناز نےمستقبل کے متعلق کہا کہ میں لیکچرشپ کیلئے درخواست دوں گی اور میڈیکل زولوجی میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK