عفیف باقر:مروڈجنجیرہ کا حافظ قرآن نے پیٹروکیمیکل انجینئرنگ میں امتیازی کامیابی حاصل کی

Updated: November 12, 2020, 1:31 PM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

عفیف پانچویں میں تھا تو والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا، پھر والدنے داعی اجل کو لبیک کہا،اسکول اور مدرسہ کو اپنا گھر بنالینے والے اس طالب علم نے دینی او ردنیوی علوم میں یکساں طور پر بہترین کارکردگی پیش کی

Afif Baqar
عفیف باقر

آج آپ کی ملاقات ہم ایک ایسے نوجوان سے کرارہے ہیں  جنہوں نے  نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دینی اور دنیوی علوم میں یکساں مہارت حاصل کی  ہے۔  جی ہاں ہم بات کررہے ہیں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر یونیورسٹی کے ہونہار طالب علم  حافظ عفیف باقرکی  جنہوں نے حال ہی میں پیٹرو کیمیکل ڈپلوما انجینئرنگ میں۹۶ء۵؍ فیصد مارکس سے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے   انجمن  اسلام مروڈجنجیرہ سے ابتدائی تعلیم اور  درد مند ہائی سکول کانبلہ مہاڈ سے ہائی اسکول لیول تک تعلیم حاصل کی ہے۔  عفیف باقر جب پانچویں  میں تھے تو والدہ کا انتقال ہوگیا،   انہوں نے ابھی  دسویں بورڈ کا  امتحان دیا ہی تھا کہ  ان کے والد صاحب بھی فوت ہو گئے۔ اس بلند ہمت طالب علم نے کسی طرح خود کو سنبھالا اور تعلیمی میدان میں استقامت کیساتھ آگے بڑھتے رہے۔ عفیف نے دسویں جماعت میں ۹۰؍فیصد  سے زائد مارکس حاصل  کئے ،  ساتھ ہی ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کیا۔اب  انہوں نے  پیٹرو کیمیکل انجینئرنگ کا ڈپلومابھی امتیازی نمبرات سے کامیاب کرلیا ہے۔ان سے طویل بات چیت  کے اہم اقتباسات درج ذیل ہے:
عفیف اپنے خاندانی پسِ منظر سے متعلق کچھ عرض کریں؟
عفیف باقر: جی سر، میرے والدین وفات پا چکے ہیں۔ جب میں پانچویں  مین تھا تب میری والدہ کا انتقال  ایک ہفتے کی مختصر علالت کے بعد ہوگیا۔ والد صاحب نے دسویں تک تعلیم حاصل کی تھی اور کویت میں بطورِ الیکٹریشن ایک کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ والدہ کے انتقال کے بعد ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کا بہتر انتظام سنبھالنے کی غرض سے انہوں نے ملازمت چھوڑدی اور مروڈ جنجیرہ ہی میں مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ والدہ کی قبل از وقت موت اور ہماری پرورش اور چند گھریلو پریشانیوں کے ذہنی تنائو اور فکر نے انہیں بیمار کردیا۔ جماعت ہشتم میں انہوں نے میرا داخلہ دردمند اسکول میں کروادیا۔ قریبی رشتےداروں میں میری ایک پھوپھی ہیں جو بیرون ملک میں رہائش پزیر ہیں، والدہ کے انتقال کے بعد جب وہ گاؤں تشریف لائیں تو انہوں نے میرے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ کینیا  لے کر چلیں گئی۔ ایک گھر تھا جسے والد صاحب نے معاشی مسائل کے سبب فروخت کر دیا تھا۔ والد تنہائی سے ٹوٹ گئے اور ایک دن ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی  حالت ابتر ہونے لگی تھی تمام روپیہ پیسہ بیماری کی نذر ہوگیا۔ انہوں نے دوسرا نکاح کیا تھا مگر وہ رشتہ کامیاب نہ رہا۔  چند رشتےداروں اور ان کے ایک دوست نے ان کی دیکھ بھال کی۔ فالج کی وجہ سے وہ بول بھی نہیں پاتے تھے۔ دھیرے دھیرے ان کا ذہنی توازن بھی بگڑ گیا تھا۔ میں ان تمام باتوں سے بہت فکر مند رہتا تھا۔ایک دن اچانک ان  کا بھی انتقال ہو گیا۔
ایسے حالات میں اسکول کی تعلیم اور پڑھائی کیسے ہوئی ؟
عفیف باقر:  جماعت اول تا ہفتم تک کی میری تعلیم اردو میڈیم انجمن اسلام اسکول مروڈ جنجیرہ  سے ہوئی۔ والدہ کے انتقال کے بعد والد صاحب نے میرا داخلہ بعد ازیں دردمند کالسیکر ہائی اسکول کانبلہ تعلقہ مہاڈ میں کردیا۔ میں نے اسکولی تعلیم کے  ساتھ  ساتھ دینی تعلیم ہشتم سے دسویں جماعت کے درمیان مکمل کی۔میں  نے اپنے دنیاوی مسائل سے ابھرنے اور  پریشانیوں سے راحت حاصل کرنے کیلئے قرآن پاک کی  تلاوت کو معمول بنالیا جس سے مجھے سکون ملنے لگا ۔ دردمند اسکول ایک پرائیویٹ ادارہ تھا۔ بیماری سے قبل تک والد میری فیس ادا کرتے تھے لیکن بیماری کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا ۔میری فکرمندی دیکھ کر اساتذہ نے مفتی پورکر صاحب کو تمام احوال سے آگاہ کیا۔ مفتی رفیق پورکر  نے مجھے ہمت دی اور کہا کہ  مالی اخراجات کی فکر چھوڑ کر پڑھائی پر توجہ دوں۔ میں نے خوب محنت کی اور دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں مجھے ۹۰؍ فی صد مارکس حاصل ہوئے ساتھ ساتھ مجھے قرآن شریف کے۱۸؍ پارے  بھی حفظ ہو گئے۔ اسی دوران ایک دن اچانک والد صاحب کے انتقال کی خبر موصول ہوئی۔ اس ناگہانی گھڑی میں میرے اساتذہ نے میری دلجوئی کی اور مفتی صاحب نے میری ڈھارس بندھائی ۔    میں نے ایک سال مزید اسکول میں قیام کرکے حفظ قرآن مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے مرحوم  والدین کے حق میںیہ میری جانب سے بہترین خراج عقیدت ہوسکتا ہے۔
  پیٹرو کیمیکل انجینئرنگ میں داخلہ کا خیال کیونکر  آیا؟
عفیف باقر: جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں  دسویں جماعت میں کامیابی کے بعد میں نے ایک سال کا وقفہ لے کر حفظ مکمل کیا تھا۔ اسکے فوراً بعد میں نے اس خواہش کا اظہار مفتی رفیق پورکر صاحب سے کیا کہ مجھےمزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے۔ مجھے انجینئرنگ کی فیلڈ میں کیمیکل کی برانچ ہی چاہیے تھی اس کی  چند وجوہات تھیں۔ پہلی یہ کہ دسویں جماعت میں میرا کیمسٹری مضمون بہت اچھا تھا اورمجھے اچھے مارکس ملے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے والد گلف میں یہی کورس کرنے کے بعد اچھی ملازمت پر مامور  ہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ کیمیکل برانچ میں آرگینک کیمسٹری کا پارٹ میرا بہت اچھا تھا اور یہ شعبہ اسی جڑا تھا۔  زمین سے جو خام تیل نکلتا ہے اسے صاف کرکے  اس سے پیٹرول، ڈیزل، جیٹ ایندھن، کیروسین، نیفتھا اور تارکول وغیرہ علاحدہ  کیا جاتا ہے۔ اور بچپن سے یہ سنتے اور دیکھتے بھی آئے تھے کہ کوکن کے بہت سے افراد خلیجی ممالک  میں نوکری کی غرض سے جاتے ہیں،نیز   پیٹروکیمیکل فیلڈ میں روزگار کے مواقع بہت ہیں اور اس فیلڈ سے جڑے افراد کی گلف میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔  یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میں جلد ملازمت اور اچھی تنخواہ کے  مواقع ملتے ہیں۔ ان وجوہات کے سبب  میں  اس کورس میں داخلہ کا خواہش مند تھا۔ مفتی پورکر  نے فوری اس بات کا تذکرہ کوکنی جبیل کمیٹی کے ذمہ داران سے کیااور کمیٹی نے فوری طور سے میرے تمام تعلیمی اخراجات کا ذمہ اپنے سر لیا اور یوں میرا داخلہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر  یونیورسٹی کے مشہور و معروف لونار انجینئرنگ کالج کے ڈپلوما پیٹرو کیمیکل برانچ میں ہوا۔ میں نے یہاں خوب محنت کی چونکہ میں اردو میڈیم کا طالبِ علم تھا اسلئے شروع کے دنوں میں بہت دشواری پیش آئی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری ایکسٹرا محنت کی اور  انگریزی زبان کی کمزوریوں پر سبقت حاصل کرتا چلا گیا۔ میں کبھی مایوس نہیں ہوا اور نہ ہی مجھ پر اعتماد کرنے والے اور میری کفالت کرنے والے ذمہ داران کو کبھی مایوس کیا۔ الحمدللہ مجھے ڈپلوما انجینئرنگ میں امتیازی کامیابی ملی۔ میں آگے اور تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK