بیسٹ ڈرائیور کی بیٹی عالیہ مُلّا : لبرل آرٹس میں اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ ملا

Updated: November 30, 2020, 10:58 AM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

سانگلی کے آٹ پاٹی گاؤں سے تعلق رکھنے والی عالیہ نے اپنی ابتدائی تعلیم ممبئی کے بی ایم سی اسکول سے حاصل کی ہے ، پھر اپنی ذہانت کے دم پر اسکالر شپ حاصل کرکے جونیئر کالج کی پڑھائی سنگاپور سے مکمل کی ۔

Alia Mulla with Family - Pic : Inquilab
امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کی خبر سے عالیہ کے اہل خانہ بھی بے حد خوش ہیں۔ (تصویر :انقلاب

 بی ایس ای ٹی  ڈرائیور کی بیٹی عالیہ مُلّا نے اپنی ذہانت، محنت کے دَم پر بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم کا خواب پورا کرلیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ اس ہونہار بچی نے  اپنی ابتدائی تعلیم  بی ایم سی  اسکول سے حاصل کی ہے۔ اس کے بعد وہ جونیئر کالج کی تعلیم کیلئے  سنگاپور اور اب اعلیٰ تعلیم کیلئے  امریکہ  کے وہارٹن کالج (  میساچوسیٹس،نارٹن ایم  اے) جارہی ہیں۔
 عالیہ اپنی ابتدائی تعلیم کے متعلق بتائیے ؟
عالیہ ملا :جی  میں نے اپنی ابتدائی اول تا دہم تک کی تعلیم بی  ایم  سی  اسکول ابھیودیا نگر، کالا چوکی، ممبئی سے حاصل کی ہے۔ ۲۰۱۸ء  میں بغیر ٹیوشن کے دسویں جماعت میں ۹۱ء۶۰؍  فیصد مارکس سے کامیابی حاصل کی۔
 آپ کا دسویں کے بعد سنگاپور میں داخلہ کیسے ہوا؟
عالیہ :جب میں دسویں جماعت میں تھی تو میرے اسکول میں آکانکشا فاؤنڈیشن کےذمہ داران نے یو ڈبلیو سی  کالج سے متعلق تفصیلات بیان کی ۔ میرے دل  میں بھی بیرونِ ملک جا کر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی ، پھر میں نے انٹرنس امتحان دیا جس میں مجھے کامیابی ملی اور پھر انٹرویو کیلئے مجھے یو ڈبلیو سی  مہندرا کالج، پونے بلایا گیا۔ الحمدللہ! انٹرویو میں بھی کامیابی ملی اور یوں میرا مزید تعلیم حاصل کرنےکا خواب پورا ہوا اور میرا  سنگاپور جانا طے ہوگیا۔ آکانکشا فاؤنڈیشن نے اس سلسلے میں میری ہر ممکن مدد کی اور پھر میں اگست۲۰۱۸ء  میں سنگاپور پہنچی۔
 سنگاپور کے تعلیمی اخراجات کا نظم کیسے ہوا؟ 
عالیہ : میرا  یونائیٹڈ ورلڈ کالج آف سائوتھ ایسٹ ایشیاء(یو ڈبلیو سی ) میں گیارہویں لبرل آرٹ  میں داخلہ صد فیصد فیلو شپ پر ہوا تھا۔ دو سال تک مجھے رہائش، طعام، تعلیمی اخراجات کے علاوہ ماہانہ ۱۲۰؍ ڈالر جیب خرچ کے لئے ملتے تھے۔ سنگاپور جانے کے بعد مجھے وہاں ایک منفرد قسم کا ایکسپوزر ملا۔ نیا ماحول تھا۔ سبھی ہم جماعتوں کے  علاوہ سینئرز اور اساتذہ کا بھی کافی سپورٹ ملا۔ میں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔
گیارہویں اور بارہویں لبرل آرٹ میں آپ نے کون کون سے مضامین کی پڑھائی کی؟اور سنگاپور سے کب لوٹیں؟
عالیہ  :میں نے بزنس، گلوبل پالیٹکس، ہندی، انگریزی، میتھس اور بایولوجی جیسے مضامین کا مطالعہ کیا۔  میرے لئے گلوبل پالیٹکس اور بزنس نیا مضمون تھا ۔مئی میں سنگاپور سے فلائٹ شروع ہوئی تو میں ممبئی   واپس آئی۔ لاک ڈاؤن کی درمیان میں گھبرا گئی تھی۔ کیونکہ جنوری سے ہی سنگاپور میں کالجز بند کردیئے گئے تھے اور ہمیں قرنطینہ میں رکھ دیا گیا تھا۔ جیسے ہی فلائٹ شروع ہوئی ہمیں وہاں واپس سے بھیج دیا گیا۔
 2+10 کا نتیجہ کب آیا؟
عالیہ  :وبائی صورتحال کی وجہ سے امتحانات رد کر دیئے گئے تھے۔ جون میں میرا نتیجہ آیا۔  بیرون ممالک  میں تحریری امتحان صرف۱۰؍ سے۱۵؍ فیصد مارکس پر مشتمل ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اسائنمنٹ، پروجیکٹ ورک، پریکٹیکل ورک، اسپورٹس اور غیر نصابی سرگرمیوں کواہمیت دے کر بچے کے مجموعی ڈیولپمنٹ پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اور تمام غیر نصابی سرگرمیوں کو امتحانی مارکس میںشامل کرکے کر رزلٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ نتائج کا اعلان گریڈ کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ مجھے۳۲؍  گریڈ ملا تھا میری امید کی بر عکس میرا رینک اچھا تھا۔ جس سے میں مطمئن ہوں۔ 
بارہویں لبرل آرٹ کے بعد امریکہ جانے کامنصوبہ کیسے بنا؟
عالیہ  :بارہویں کے نتائج کے دوران ہی میں نے امریکہ کی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک اہلیتی امتحان کوالیفائی کیا ۔ یہ بھی بتادوں کہ  میرے  دو سالہ تعلیمی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے  کالج کی جانب سے بھی  ویٹی کن کالج میساچو سیٹس  میں داخلہ کیلئے ایک سفارشی خط روانہ کیا جا چکا تھا۔ میرا بارہویں کا نتیجہ بھی میرے حق میں تھا اسلئے میرا ایڈمیشن اب امریکہ کے وہارٹن کالج ایم اے، نارٹن، میساچوسیٹس میں کنفرم ہو چکا ہے۔ ان شاء اللہ ہیومانیٹیز -  لبرل آرٹ میں اپنا۴؍سالہ گریجویشن مکمل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ میرا داخلہ  مفت فیلو شپ کی بنیاد پر  ہوا ہے۔
 اپنے خاندان سے متعلق کچھ عرض کریں؟
عالیہ  : میرے والد نے دسویں تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ پریل ڈپو،ممبئی میں بی ای ایس ٹی  میں ڈرائیور ہیں۔ امی خاتون خانہ  ہیں اور انہوں بھی دسویں جماعت تک پڑھائی کی ہے۔ میرا ایک بھائی علی رضا بی ایم سی  اسکول سے دسویں جماعت کی پڑھائی کر رہا ہے  اور بہن آیت ملا بی ایم سی  اسکول سے ہی تیسری کلاس میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
جب آپ نے گھر میں بیرون ملک جاکر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تو والدین کا کیا ردہ عمل تھا؟
عالیہ : ہمارا آبائی وطن مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کا آٹ پاڑی گاؤں ہے۔ جب میں نے والدین کو باہر جاکر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تو پہلے تو وہ ہچکچائے بعد ازیں  خوشی خوشی  اجازت دے دی۔ میرے والدین نے ہمیشہ میری حوصلہ  افزائی کی،ہر کامیابی پر خوش ہوئے۔ گھر میں پڑھائی کا ماحول قائم رکھا ۔ میری والدہ نے میری دینی تعلیم کے حوالے سے بخوبی تربیت کی، اسی کا اثر تھا کہ  سنگاپور میں جہاں دینی ماحول نہ ملنے کے باوجود بھی میں وہاں نماز روزہ کا اہتمام کیا کرتی تھی۔  بہرحال،   میں نے اب تک  اپنا فائنل گول متعین نہیں کیا  لیکن اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ اب تک تعلیم کے جو مواقع مجھے ملے اس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔  
 طلباء کے نام آپ کوئی پیغام دینا چاہتی ہیں؟
عالیہ :میں طلبہ سے یہ کہنا چاہوں گی کہ ہر چیز کو سمجھ کر پڑھیں، مسلسل مطالعہ کی عادت ڈالیں، اسکول کی ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔   تعلیم کے دوران مختلف مسابقتی امتحانوں میں شریک ہوں ، خود کی صلاحیتوں کو نکھاریں، اخبار بینی کی عادت ڈالیں، کریئر سے متعلق مواقع تلاش کرتے رہیں۔ نت نئے کورسیز کی معلومات حاصل کریں۔ بیرونِ ملک جاکر تعلیم حاصل کرنے کے لئے کون سی اسکالرشپ اسکیم  ہے یا فیلوشپ ہے اس کی تفصیلات جمع کرتے رہیں۔ بہت سی یونیورسٹیاں صدفیصد فیلوشپ مہیا کرواتی ہیں  ان کے متعلق جانیں،  داخلہ امتحانات کی مکمل معلومات جمع کرتے رہیں۔ ایک خاص بات یہ کہ رٹا مار کر پڑھائی کی عادت کو ترک کردیں۔  اعلیٰ سے اعلیٰ  تعلیم حاصل کریں اور خود کو باصلاحیت بنائیں، ملازمت از خود آپ تک پہنچیں گی۔
 عالیہ کے والد عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ’’ میں اپنی بچی کی جتنی تعریف کروں کم ہے ، مجھے میری بیٹی پر فخر ہے۔ اس نے کبھی مجھے پڑھائی کرو کہنے کا موقع نہیں دیا  ۔ وہ خود پڑھنے بیٹھتی  اور آج جو کچھ بھی اس نے مقام پایا یہ بیرونِ ملک جا کر تعلیم حاصل کی ہے وہ  اپنی محنت و لگن ، اساتذہ کی رہنمائی، آکانکشا فاؤنڈیشن  کے تعاون سے  حاصل کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK