ہرعمر کی خواتین میں مصنوعی زیور مقبول ہورہے ہیں

Updated: January 07, 2021, 12:19 PM IST | Inquilab Desk

ایک وقت تھا جب شادی شدہ خواتین تقریبات میں سونے چاندی کے زیور ات پہنتی تھیں ،کم عمر یا غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی مصنوعی زیورات پہنتی تھیں لیکن وقت بدلا ، اب ہر عمر کی خواتین رنگ برنگ منصوعی زیورات سے خود کو سجاتی ہیں ، یہ زیور کسی بھی وقت تبدیل کئے جاسکتے ہیں

Artificial Jewelry
مارکیٹ میں نت نئے مصنوعی زیور دستیاب ہیں ۔

 مصنوعی زیو رات ہر عہد میں پسند کئے جاتے رہے ہیں۔   ایک زمانہ تھا جب شادی شدہ خواتین تقریبات میں سونے چاندی کے زیور ات سے لدی پھندی رہتی تھیں جبکہ کم عمر یا غیر شادی شدہ لڑکیاں مصنوعی زیورات استعمال کرتی تھیں لیکن اب وقت بدل گیا ہے ، ہر عمر کی خواتین رنگ برنگ منصوعی زیورات سے خود کو  پر کشش بناتی ہیں ۔ اس دور میں  لوگ سونا خریدنے کی  طاقت نہیں رکھتے ہیں۔  دوسرے یہ کہ سونا ایک بار خریدنے کےبعد اسے بدلنے کی نوبت کم ہی آتی ہے۔   اس طرح خوشی کے ہر موقع  پر ایک ہی طرح کا ڈیزائن خواتین کو بھی پسند نہیں آتا۔ وہ ایک ہی طرح زیور پہن کر بور ہوجاتی ہیں۔  مصنوعی زیورات کی سب سے خاص بات ان میں ورائٹی اور ڈیزائن کی کثرت ہے جس کی وجہ سے خواتین اپنی مرضی اور بعض دفعہ کپڑوں کے رنگوں سے ملتے جلتے ڈیزائن شوق سے خریدتی ہیں۔
  مصنوعی زیورات کی بناوٹ اور رنگت اتنی حقیقی ہوتی ہے کہ ان کے مصنوعی ہونے کا کسی کو شبہ نہیں  ہوتا ہے۔  بعض دفعہ مصنوعی زیور پہننے والی خاتون کی سہیلیاں بھی اس کے اصلی یا نقلی ہونے میں دھوکہ کھا جاتی ہیں۔
  خواتین سجنے سنورنے کیلئے صدیوں سے زیورات کا استعمال کر رہی ہیں۔ان کی زیب و زینت کے لئے زیورات کا ایک خصوصی مقام رہا ہے، البتہ وقت بدلنے کے ساتھ زیورات کی دھات اور اس کی بناوٹ میں تبدیلیاں  ہوتی رہتی ہیں لیکن خوبصورت نظر آنے کے لئے زیورات کا استعمال کبھی ترک نہیں کیا گیا۔ ہر عورت کی  یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ سب پر سبقت لے جائے اور سب سے منفرد اور جدا نظر آئے۔ اسی لئے وہ زیورات کے استعما ل سے کبھی غافل نہیں رہتی ۔
 کسی بھی تقریب میں شرکت کے لئے ملبوسات کے انتخاب کے بعد سب سے اہم مرحلہ زیورات کے انتخاب  ہی کا ہوتا ہے۔  زیورات کے تاجر   مانتےہیں کہ  چاندی اور سونے کے زیورات کااستعما ل اب ان کے مہنگے ہونے کے سبب کم ہوتا جا رہا ہے، اسی لئے ہر قسم کے مصنوعی زیورات کی بھر مار ہے، جو ہر قسم کی بناوٹ اور رنگ میں دستیاب ہیں۔ ان  زیورات میں  خوشنما پتھر رکھ کر بنانے کا بھی رواج  ہے۔ یہ زیورات جدید اور روایتی انداز میں بنائے جا رہے ہیں۔ ان میں زمرد،زرقون، موتی، نیلم اور روبی استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان سب میں زیادہ زرقون استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پتھر کی چمک اور رنگ ہیرے سے مشابہ ہے۔  مصنوعی زیورات  کے کچھ ڈیزائن بے حد مقبول ہیں۔ جیسے پھول سیٹ، پتی سیٹ اور پھلکاری سیٹ، ان تمام زیورات کی بناوٹ میں نفاست اور صفائی کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ دیکھنے میں بھی بھلے معلوم ہوں۔
 کچھ زیورات ایسے ہیں جو عام طور پر سب ہی خواتین استعمال کرتی ہیں، ان میں بندے، جھمکے، بالیاں، گلے کی چین، انگوٹھی اور بریسلٹ شامل ہیں۔  آج کل نازک چین سے بنی پازیب بھی خواتین خصوصاً لڑکیوں میں مقبول ہے۔ یہ  سنگار کا قدیم طریقہ ہے۔ پہلے پیروں میں بھاری بھرکم جھانجر یا پازیب پہنی جاتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں اور چیزوں میں تبدیلی آئی، وہیں پازیب کا انداز بھی بدلا۔ اب لڑکیاں صرف ایک پاؤں میں صرف چین پر مشتمل پازیب پہننا پسند کرتی ہیں۔ باریک چین کے علاوہ نورتن، کندن اور موتیوں سے بنی پازیب بڑی عمر کی خواتین میں کافی مقبول ہیں۔ ایسے ہی بہت سے مصنوعی زیور  مارکیٹ میں دستیاب ہیں ۔ان کی آن لائن  خریداری بھی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK