صحتمندعادتیں اپنا کر آپ موسم ِ سرما کا لطف اٹھا سکتی ہیں

Updated: November 30, 2021, 1:41 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

موسمی تبدیلی صحت پر کافی برے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ان اثرات سے بچنے کیلئے اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو موسم سرما کو صحتمند طریقے سے گزارا جا سکتا ہے۔سب سے زیادہ ضروری ہے صحتمند غذا کیونکہ جب آپ صحتمند غذا کھائیں گی، تب ہی تندرست رہیں گی

A healthy diet helps fight cold infections and viruses.Picture:INN
صحتمند غذا سردیوں میں ہونے والے انفیکشن اور وائرس کے خلاف لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ تصویر: آئی این این

موسم کی تبدیلی آغاز میں اپنے ساتھ کچھ بیماریاں اور مسائل لے کر آتی ہے۔یہ موسم دن میں گرمی اور رات میں سردی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ درجہ حرارت کی یہ تبدیلی صحت پر کافی برے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ان اثرات سے بچنے کیلئے اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو موسم سرما کو صحتمند طریقے سے گزارا جا سکتا ہے:
پانی پئیں
 ہوا ٹھنڈی ہونے کے ساتھ ہم اکثر اپنے آپ کو معمول سے کم پانی پیتے ہوئے پاتے ہیں اور اس سے پانی کی کمی ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں خشک ہونٹ، خشک کھانسی اور یہاں تک کہ جسم میں تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ موسم سرما میں دار چینی، شہد اور ادرک کا گرم پانی پینا فائدہ مند ہے کیونکہ یہ قدرتی اینٹی وائرل خصوصیات سے مالا مال ہیں جو بیماری سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہلدی والا دودھ پینے سے بھی ہمارے جسم کو سکون ملے گا اور گلے کا درد بھی ختم ہوسکے گا۔
صفائی کا خیال رکھیں
 صفائی کا تعلق کسی ایک موسم سے نہیں ہے بلکہ ہر موسم میں صفائی کو اختیار کرنا چاہئے۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی اگر صفائی پر خصوصی زور دیا جائے تو اس موسم میں پھیلنے والے جراثیم اور وائرس سے بچاجا سکتا ہے۔ اردگرد کے ماحول میں صفائی کے ساتھ ساتھ جسمانی صفائی بھی بہت ضروری ہوتی ہے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پانی سے سرسری طور پر ہاتھ دھو لینا کافی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ پانی کے ساتھ ساتھ صابن کا استعمال کرتے ہوئے ہاتھ رگڑ کر دھونا چاہئے۔
وٹامن ڈی کا استعمال
 یوں تو وٹامن ڈی آپ کے لئے سارا سال ہی ضروری ہے مگر سردیوں کے موسم میں انسانی جسم کو اور خاص طور پر آپ کی ہڈیوں کو وٹامن ڈی کی اشد ضرورت پڑتی ہے، وٹامن ڈی کی کمی کے باعث سردیوں کے موسم میں جسم اور خاص طور پر ہڈیوں میں درد ہونا عام شکایت ہے اور اس کی بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔ سورج کی براہ راست دھوپ وٹامن ڈی کی فراہمی کا سب سے بڑا اور قدرتی ذریعہ ہے، سردیوں کی دھوپ ویسے بھی بہت مزیدار ہوتی ہے۔ صبح کے وقت دھوپ میں بیٹھ کر کینو، امرود، انار، کیلے یا سیب کھانا بے حد فائدہ مند ہے۔
بھاپ لیں
 بھاپ ایک قدیم گھریلو علاج ہے جو کھانسی اور نزلے کی علامات کو دور کرکے پھیپھڑوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے اور یہ سردیوں کے دوران بہت عام بھی ہے۔ فضا میں سانس لینا آپ کے جسم کو مطلوبہ حرارت بخشتا ہے جو ماحول میں سرد ہواؤں سے گھرا ہوا ہے جبکہ آپ ان روایتی باورچی خانے کے اجزاء جیسے پودینے کے پتے اور اجوائن کو بھاپ والے پانی شامل کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے خشک کھانسی اور گلے کی سوزش ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
غذائیت سے بھرپور غذا
 انسانی جسم کی غذائی ضروریات اورماحولیاتی تبدیلیوں کا باہم گہرا ربط ہے۔ موسم کی تبدیلی سے ہماری جسمانی ضروریات بھی بدل جاتی ہیں۔ سردی کے موسم میں ہمارے جسم کو مرغن اور غذائیت سے بھرپور غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کارکردگی کے لحاظ سے بھی نظامِ انہضام غذا کو زیادہ سے زیادہ ہضم کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ توانائی سے بھرپور خوراک کھا نا ہی سردی سے حفاظت ہے۔ایسی تمام غذائیں جو کیلوریز اور حرارت سے لبریز ہوتی ہیں۔ موسم ِ سرما میں خشک میوہ جات، سوپ، یخنی، گوشت کے پکوان ،پنیر، دیسی گھی، مکھن اور شہد کا استعمال نہ صرف صحت کو بحال اور قائم رکھتا ہے بلکہ کئی بیماریوں سے نجات بھی دلاتا ہے۔
ورزش کریں
 سردیوں میں ہرقسم کی ورزش فائدہ مند ہوتی ہے اور سردیوں میں ورزش سے انسانی جسم میں لچک اور سخت محنت کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ روزانہ ورزش کرنے سے آپ کے جسم میں موجود زیادہ کیلوریز کم ہوتی ہیں اور اِس کے علاوہ کھانسی اور نزلہ زکام جیسی بیماریوں کا دفاع کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ اگر آپ کو دمہ یا دِل کی بیماری ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ جب آپ گھر سے باہر واک کرنے جائیں تو پیوریفائنگ ماسک پہن لیں، اِس سے آپ باہر کی آلودگی سے بھی بچ جائیں گے۔
تازہ ہوا کا گزر
 سردی کے موسم کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ گھر کو مکمل طور پر بند کردیا جائے۔ تازہ ہوا کے گزر کا مناسب انتظام ہونا چاہئے۔ مکمل طور پر بند گھر بھی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
مناسب نیند
 جس طرح سردیوں میں ورزش اور صحتمند غذائیں ضروری ہیں اِسی طرح نیند پوری کرنا بھی بہت زیادہ ضروری ہے۔ نیند کی کمی سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوجاتے ہیں اور اِس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK