روزانہ زندگی ہمیں کچھ نہ کچھ نیا سبق سکھاتی ہے

Updated: September 10, 2020, 10:22 AM IST | Inquilab Desk

زندگی میں خوشی آتی ہے تو کبھی غم کا پہاڑ بھی ٹوٹ پڑتا ہے۔ زندگی میں کچھ بھی مستقل نہیں رہتا ۔ ہر دن زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں مگر اہم یہ کہ زندگی کوکس انداز میں جیا جائے۔ زندگی میں اگر کوئی تکلیف ہے تو ذرا غور کیجئے، کوئی نہ کوئی مسکرانے کی وجہ بھی ضروری ہوگی، اسے تلاش کیجئے

Women - Pic : INN
خاتون : تصویر آئی این این

ہنسی، خوشی، پریشانی، غم، درد، امیری، غریبی.... یہ سبھی کے پہلو ہیں۔ کبھی زندگی میں خوشیاں آتی ہیں تو کبھی غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ روزانہ زندگی ہمیں کچھ نہ کچھ نیا سبق سکھاتی ہے۔ مگر ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ کچھ بھی مستقل رہنے والا نہیں۔ آج خوشیاں ہیں تو کل غم بھی آسکتا ہے۔ عروج اور زوال تو زندگی کے ۲؍ اہم پہلو ہیں۔ لیکن ہمیں اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہئے۔ 
 ’’مَیں تو ہمیشہ بیمار میں رہتا ہوں۔ ‘‘ ’’مَیں جب بھی کوئی نیا کام شروع کرتی ہوں، اس میں ناکامی ہی حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘ ’’مجھے کوئی سمجھتا ہی نہیں۔ ‘‘ ’’وہ دیکھو شیخ صاحب کی بیٹی ۵؍ سال میں کمپنی کی سی ای او بن گئی اور مَیں اب تک معمولی تنخواہ پر ہی اکتفا کر رہی ہوں۔ ‘‘ ’’جب بھی بس کا انتظار کروں، بس آتی ہی نہیں، یہ ہمیشہ میرے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ میٹنگ کے لئے مجھے دیر ہو جائے گی۔ ‘‘ ’’رات بھر جاگ کر پریزنٹیشن تیار کیا اور دیکھو تو میرا لیپ ٹاپ ہی بند ہوگیا۔ اب مَیں کیا کروں گی؟‘‘
 اکثر ہم سبھی یہ سب باتیں کہتے رہتے ہیں مگر ضروری یہ ہے کہ ان سے باہر نکل کر سوچا جائے۔ زندگی مشکلات سے بھری ہوئی ضرورہے مگر مثبت سوچ کے ذریعے ہم اپنے جینے کے انداز کو بدل کر اپنی زندگی میں نئی جان ڈال سکتے ہیں۔ 
 ہم سب کی زندگیوں میں ایک کمفرٹ زون ضرور ہوتا ہے لیکن کیا کیجئے کی ہر خواہش اسی کمفرٹ زون سے باہر نکل کر پوری کرنی ہوتی ہے۔ جب تک ہم قدم نہیں بڑھاتے ہمیں ہر چھوٹی چیز بھی پہاڑ جیسی رکاوٹ لگتی ہے تاہم ایک بار اس آرام دہ زندگی سے ہاتھ چھڑا کر چل پڑیں تو احساس ہوتا ہے وہ مشکلات در حقیقت ہماری کی پیداوار تھیں۔ روبرو ہوئے تو معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں اور مشکلات بھی حل ہونے کیلئے ہی آتی ہیں۔ ہمت ہار گئے، رکے پیچھے ہٹے تو حاصل کچھ نہیں رہ جاتا سوائے اک کاش کے پچھتاوے ان ہی کی زندگی میں ہوتے ہیں جو کوشش نہیں کرتے یا کرنا نہیں چاہتے۔ 
 رحم مادر سے بڑھ کر طفل کے لئے آغوش نہیں جہاں تاریکی، خاموشی اور راحت ہے۔ غذا کا حصول بھی ماں کی بدولت ہے، جو پیدائش تک خود کا اور اولاد کا خیال کرتی ہے۔ تخلیق کرنے والی ذات اس رب کی ہے، جس نے انسان کو روح عطا کی۔ تاریکی سے نکال کر روشنی سے سرفراز کیا سیکھنے کو دنیا بنائی اور دنیا کو آسان نہیں امتحان بنایا۔ ستر ماؤں سے زیادہ چاہنے والی ذات نے ہمارے لئے آزمائش کے بعد راحت تخلیق کی اور ساتھ ہی مایوسی کو کفر سے تعبیر کیا۔ ہم پھر بھی تھوڑے سے حالات سے گھبرا کر ڈپریشن اور شکوے کی دلدل میں اترنے لگتے ہیں۔ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہو تو سوچئے تصویر کے ۲؍ رخ کی طرح ان حالات میں بھی یقیناً کوئی امید کا استعارہ ضرور ہوگا۔ اسی مثبت رخ پر سوچئے اور حالات کو بھی مثبت رخ تک لانے کی کوشش کیجئے منفی سوچیں کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ جس طرح ایک درخت سے ان گنت ماچس کی تیلیاں بن سکتی ہیں اسی طرح ایک ماچس کی تیلی ان گنت درخت جلا بھی دیتی ہے۔ یہی حال منفی سوچ کا ہے۔ ایک منفی سوچ آپ کی پلاننگ، انرجی اور حوصلے کو زیر و لیول پر لا کر کھڑا کرسکتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے اوپر بھی منفی سوچوں کا غلبہ رہتا ہے تو اپنا طرزِ زندگی بدلنے کی کوشش کیجئے۔ 
 پودے لگانا کبھی کوئی اچھی پکنک ٹریپ، اپنی مرضی کی ہلکی پھلکی شاپنگ، پرانے دوستوں سے ملاقات یا پھر ایک چھوٹی سی ٹی پارٹی بہت آرام سے آپ کی ذہنی کیفیت بدل سکتی ہے۔ موڈ خراب ہوجائے تو موسیقی سنیں، گنگنایئے۔ اگر زندگی میں اداسی ہونے کی ایک وجہ آگئی ہے تو مسکرانے کی بھی کئی وجوہات ہوں گی۔ ذات ِ باری تعالیٰ کے آگے شکر گزار ہونے کی بھی کئی چیزیں ہوں گی جن سے ہم صرف نظر کرجاتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کیجئے۔ خیال رکھئے کہ اس دنیا میں کوئی بھی مکمل نہیں۔ درگزر کرنا سیکھ لیا تو زندگی پُرسکون ہوجائے گی۔ گفتگو میں بھی مثبت طرزِ فکر اور طرزِ تخاطب اپنایئے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشیاں ڈھونڈیں۔ انجام کے بارےمیں جتنا سوچیں گے اتنا منفی سوچیں آپ کو پیچھے کر دیں گی۔ روزمرہ معمولات سے ہٹ کر کچھ نیا کریں۔ کوئی روٹھ گیا ہو تو منانےمیں پہل کریں۔ وقت ہر کسی کا ساتھ نہیں دیتا۔ خوش قسمت وہ ہوتے ہیں جو وقت کو اپنا بنا لیں۔ شکر کرنے کی وجہ ڈھونڈیئے، عادت ڈالئے۔ مشکلات کے ساتھ نعمتیں بھی عطا کی گئی ہیںاور جس نے اللہ کے آگے جھکنا سیکھ لیا وہ کبھی مایوس نہیں ہوسکتا۔ اس کو کسی اور کے آگے جھکنے یا خوفزدہ ہونے کی حاجت نہیں رہتی۔ زندگی کو مسکراہٹ اور عاجزی سے عبارت کرلیں۔ 
 سوچئے آج سے، بلکہ ابھی سے کہ آپ کی زندگی میں کون سی چیزیں ہیں، جن کیلئے اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے؟ حساب لگا کر دیکھئے۔ نعمتوں کا پلڑا، شکوؤں سے کئی گنا بھاری ہوجائے گا اور یہی چیز مثبت طرز ِ زندگی اور جینا سیکھا دے گی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK