مشترکہ خاندان، کیسے جوڑیں رشتوں کے تار

Updated: February 24, 2020, 5:25 PM IST | Inquilab Desk

مشترکہ خاندان میں رہنے میں فائدے اور نقصانات بھی ہیں لیکن چند چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا کر ہنسی خوشی ایک ساتھ پوری زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام بند مٹھی کی طرح ہے جو خاندان کے اراکین کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ فراہم کرتا ہے

مشترکہ خاندان؛ کیسے جوڑیں رشتوں کے تار ۔ تصویر : آئی این این
مشترکہ خاندان؛ کیسے جوڑیں رشتوں کے تار ۔ تصویر : آئی این این

مشترکہ خاندانی نظام کے فائدے بھی ہیں تو تھوڑے بہت نقصان بھی ہیں اور یہ بہت فطری بھی ہے کیونکہ جب چار برتن ایک ساتھ رہیں گے تو آواز تو آئے گی ہی۔ مگر جہاں بچے لڑتے جھگڑتے بھی اپنے والدین کے ساتھ مزے سے زندگی گزار لیتے وہیں انہی بچوں کی شادی کے بعد رشتوں کا مطلب بدل جاتا ہے۔ جو بچے کبھی جان سے بھی زیادہ پیارے تھے وہ اب اجنبی لگتے ہیں۔
ساتھ رہنا کیوں منظور نہیں
 آیئے، سب سے پہلے بات کرتے ہیں ان وجوہات کی، جن کی وجہ سے شادی کے بعد کوئی بھی دوشیزہ مشترکہ خاندان میں نہیں رہنا چاہتی ہے اور پھر بھلے ہی شادی سے پہلے وہ خود بھی مشترکہ خاندان میں رہ رہی تھی۔
پرسنل اسپیس
 آج کے نوجوانوں کی لغت میں یہ لفظ بہت اہم ہے۔ شادی کے فوراً بعد ہی میاں بیوی کو ایک ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا پسند ہوتا ہے، پرسنل اسپیس چاہئے ہوتا کیونکہ اس وقت وہ ایک دوسرے کو سمجھ رہے ہوتے ہیں ، لیکن اس دوران بزرگوں کا بات پر بات روکنا ٹوکنا اگرچہ ان کے فائدے کے لئے بھی ہو ، پسند نہیں ہوتا ہے۔
برابری
 مشترکہ خاندان میں گھر کے ہر فرد کو ایک ہی طرز زندگی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ خاندان کے ہر فرد کے ساتھ برابر کا سلوک کرنا پڑتا ہے ورنہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ انہیں کم اہمیت مل رہی ہے۔ گھر کی ہر چیز مشترکہ ہوتی ہے جسے ناپسند کیا جاتا ہے۔
داخل اندازی
 مشترکہ خاندان میں ایک ساتھ کئی افراد رہتے ہیں تو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت بھی کرتے ہیں جو بدمزگی اور دلوں میں کدورت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ 
معاشی آزادی
 مشترکہ خاندانی نظام میں بہو کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر کا پورا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہو جبکہ ساس اپنا اختیار چاہتی ہے اور اکثر ایک کمانے والے پر ہی پورا خاندان انحصار کرتا ہے۔ ایسے میں انہیں اپنے حساب سے خرچ کرنے کی بالکل آزادی نہیں ملتی ہے۔
کیسے بنے گی بات؟
 بس ضرورت ہے تھوڑی سی تبدیلی کی اگر گھر کا ہر فرد فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت کو سمجھے تو معاشرے کی ایک مضبوط روایت کو پھر سے زندہ کیا جاسکتا ہے۔
کھول کر بات چیت کریں
 بیٹے کی شادی کے بعد اس کی شادی شدہ زندگی خوشگوار بنانے کے لئے انہیں پرائیویسی ضرور دیں۔ اگر آپ کو اپنی پرورش پر یقین ہے تو آپ کا بیٹا آپ کا ہی رہے گا۔ اگر آپ لوگ انہیں اسپیس یا پرائیویسی  دیں گے تو وہ بھی یقیناً آپ کا احترام کریں گے۔ کوئی بات ناگزیر ہو تو دل میں رکھنے کے بجائے بیٹے اور بہو کو ایک ساتھ بیٹھا کر سمجھا دیں مگر ان کی بات سمجھنے کی بھی کوشش کریں اور پھر ایک درمیان راستہ نکالیں تاکہ لوگ بغیر کسی شکایت کے اس راستے پر چل سکیں۔
موازنہ نہ کریں
 اپنی شادی شدہ زندگی کا موازنہ بھول کر بھی اپنے بیٹے بہو کی زندگی سے نہ کریں۔ زمانہ بدل گیا ہے اور طرز زندگی بھی۔ آپ کے بچے ذہنی تناؤ سے سے بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر بچے خود آپ کے پاس نہیں آتے تو آپ خود ان کے پاس جا کر ایک بار محبت سے ان کے نئے رشتے اور کام کے بارے میں پوچھ کر تو دیکھیں، انہیں آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔
ساتھ چاہئے
 مکان ایک منظم اکائی کی طرح ہوتا ہے۔ آپ صرف اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں اپنی زندگی سے نہیں۔ اگر آپ کے بچے گھر کا کرایہ یا مینٹیننس دیتے ہیں تو آپ پھل یا راشن کا سامان لاسکتے ہیں۔ گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اپنے پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کرسکتی ہیں لیکن اتنی ہی ذمہ داری اٹھائیں جتنی آپ کی صحت اجازت دیتی ہے۔
کھلے دل سے تعریف کریں
 اگر آپ کو اپنے بیٹے یا بہو کی کوئی بات بری لگتی ہے تو اسے پاس بیٹھا کر کھول کر بات کریں۔ اسی طرح ان کی اچھی باتوں کی بھی تعریف کریں۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کمی نکالنے میں اہم ایک پل کی بھی دیری نہیں کرتے مگر تعریف ہم دل میں رکھ لیتے ہیں۔ لہٰذا کھلے دل سے ہر اچھے کام کی تعریف کریں گے تو ان کے ساتھ ساتھ آپ کا من بھی کھل اٹھے گا۔
 مشترکہ خاندان میں رہنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔ یقیناً ساتھ رہنے میں فائدے اور نقصانات بھی ہیں لیکن چند چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا کر ہنسی خوشی ایک ساتھ پوری زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام بند مٹھی کی طرح ہے جو خاندان کے اراکین کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK