حیدرآباد : کھانا ضائع نہ کریں مہم سے روزانہ ۲؍ہزار ضرورتمندوں کا پیٹ بھررہا ہے

Updated: January 12, 2021, 9:59 AM IST | Inquilab News Network / Agency | Hyderabad

اس مہم میں شامل رضاکار ہوٹلوں اور تقریبات میں بچنے والے کھانے کو جمع کرتے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں جاکر ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے ہیں،یہ سلسلہ۲۰۱۱ء سے جاری ہے

Dont waste food Campaign
کھانا ضائع نہ کریں مہم

شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والاایک نوجوان اور اس کے ساتھی رضاکار روزانہ تقریباً ۵۰۰؍ سے ۲؍ ہزار بھوکے افراد کو کھانا کھلانے کا ذریعہ بن  ہے۔ بی ٹیک انجینئر   ملیشور راؤ جو فی الوقت  ملازمت پیشہ ہیں  نے ۲۰۱۱ء میںاپنی کالج کی پڑھائی کے دنوںمیں ”کھاناضائع نہ کریں(ڈو نوٹ ویسٹ فوڈ)“مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم سے وابستہ رضاکار  بڑی بڑی تقاریب، ریسٹورنٹس اور پارٹیوں میں بچ جانے والے کھانے کو وصول کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ شہر کے کئی بھوکے افراد کی پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ کھانے کو تقسیم کرنے سے پہلے اس کے معیار کی جانچ کی جاتی ہے۔
 اس بہترین مہم کے روح رواں ملیشور راؤ کی کہانی جدوجہد و مشقتوں سے بھرپور ہے۔ دراصل ملیشور ایک بچہ مزدور تھا۔اس نے شہر کے کئی مقامات پر تعمیراتی مقامات پر کام کیا تھاتاہم اس کی زندگی سماجی رضاکار ہیمالتا لاونم کی وجہ سے بدل گئی جنہوں نے اس کو سڑک سے اٹھا کرتعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔اس نے سمسکار آشرم ودیالیہ میں تعلیم حاصل کی جس کو ہیم لتا اور ان کے شوہر نے قائم کیاتھا۔بی ٹیک کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے وہ ضلع نظام آباد سے حیدرآباد منتقل ہوگیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملشیور نے ایک آوٹ ڈور کیٹرنگ کمپنی میں کام بھی شروع کردیا، اسی دوران اس نے محسوس کیا کہ بڑے پیمانے  پرکھانا، کوڑے دان میں جارہا ہے۔اسی بات نے اس میں اس کھانے کے ذریعہ لوگوں کی خدمت اور ان کی بھوک مٹانے کاجذبہ پیداکیا۔اس نے اپنے چند ساتھی جمع کئے اورایک تقریب میں بچ جانے والے کھانے کو پیک کیا۔بعد ازاں یہ گروپ اس کھانے کو غریب اور بھوکے افراد میں تقسیم کے لئے روانہ ہوگیا۔اس طرح ان کے مشن کی شروعات ہوئی۔ ۲۰۱۱ء سے یہ سلسلہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ 
 کووِڈ۱۹؍ کے لاک ڈاؤن کے دوران اس مہم سے بے سہارا اور پریشان حال افراد کو بڑی مدد ملی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس ٹیم کے کام کو دیکھتے ہوئے  ایک ٹراویل کمپنی نے کھانے کی تقسیم کے لئے اس گروپ کو۲۵؍کاریں دیں جس کے ذریعہ یہ گروپ روزانہ۵۰۰؍تا ۲؍ہزار افراد میں کھانے کی تقسیم کاکام کامیابی کے ساتھ کرسکا۔کھانے کا عطیہ دینے والوں کے لحاظ سے ان کو ریسٹورنٹس، پرائیویٹ تقاریب اور دیگر پروگرام کرنے والوں کی طرف سے فون کال موصول ہوتے ہیں۔ساتھ ہی ایسے بعض افراد سے بھی کال آتے ہیں جو کھانے کا عطیہ دینا چاہتے ہیں۔اس طرح اس ٹیم کے رضاکار کھانا جمع کرتے ہیں اور انہیں پیکٹ میں بند کرکے شہر کے مختلف علاقوں کے  ضرورتمندوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ملیشورراؤ اپنی اس مہم کے متعلق کہتے ہیں کہ  ایک بار میں نے سوچا کہ شادی کی تقریبات اور وہ پروگرام جہاں کھانے کا نظم ہوتا ہے ، وہاں کھانا بچتا ہے اور بجائے کسی ضرورت مند کے پیٹ میں جانے کے کوڑے دان میں چلا جاتا ہے تو کیوں نہ اس کھانے کو ضرورتمندوں تک پہنچایا۔ ابتداء میں جب میں نے لوگوں کو اپنا آئیڈیا سنایا تو بہت سوں نے اس پر تنقید بھی کی۔ لیکن میں خاموش نہیں بیٹھا۔ جو لوگ مجھ سے متفق تھے وہ میرے اس کام میں جڑگئے اور یوں یہ سلسلہ چل پڑا۔  میرا خیال ہے کہ اگر ہر کوئی بچے ہوئے کھانے کو ضائع ہونےسے بچالے اور اس طرح اسے ضرورتمندوں تک پہنچانے کی کوشش کرے تو سڑکوں پر کوئی بے سہارا یا غریب شخص بھوکا نہیں سوئے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK