مَیں ہندوستان کی بیٹی ہوں، اب میرا زمانہ ہے

Updated: January 22, 2020, 1:36 PM IST | Mamta Pandit

جس طرح نوعمر لڑکیاں سی اے اے کیخلاف مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں، لگتا ہے آنے والے کل میں ہمارے پاس متعدد خاتون لیڈران ہوں گی جو خواتین کے مسائل اٹھائیں گی، اس تعلق سے اپنی آواز بلند کریں گی اور تمام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گی۔

مَیں ہندوستان کی بیٹی ہوں، اب میرا زمانہ ہے
وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک کا مستقبل تابناک ہوگا۔ تصویر: پی ٹی آئی

پچھلے کچھ دنوں سے سی اے اے (سٹیزن ایمنڈمنٹ ایکٹ)، این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس)اور این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹر) کے خلاف ہو رہے مظاہرے سے جو تصویریں سامنے آئی ہیں، وہ اُمید جگاتی ہیں۔ جی ہاں! مَیں بات کر رہی ہوں ان لڑکیوں کی جو مظاہرے میں حصہ لے رہی ہیں۔ چاہے وہ جامعہ میں پولیس سے اپنے دوستوں کو بچاتی ہوئی لڑکیاں ہوں، مظاہرے میں نعرے بازی کرتی ہوئی لڑکیاں ہوں، بے باکی سے صحافیوں سے بات کرتی ہوئی لڑکیاں ہوں یا پھر پولیس کو بطور تحفہ پھول دیتی ہوئی لڑکیاں ہوں۔ انہوں نے اس احتجاج میں حصہ لے کر ملک کی نصف آبادی کو ایک پلیٹ فارم دیا ہے۔ اس وقت ملک کی موجودہ صورتحال دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ ۳۷؍ دنوں سے شاہین باغ کی خواتین سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔  اس دھرنے میں مائیں اپنے بچوں کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔ کئی بزرگ خواتین بھی دہلی کی شدید سردی میں دن رات دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان خواتین کے حوصلے کو سلام! ان کے علاوہ ملک کے کئی علاقوں میں خواتین دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں جن میں بہار کا شانتی باغ، الہ آباد کا روشن باغ، پونے اور جلگاؤں کے مظاہرے قابل ذکر ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران خواتین کے ذریعے کی گئیں تقاریر یا ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کو سنا جائے تو ان کے مضبوط ارادے کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ برقع پوش خواتین بھی اپنے حق کے لئے آواز بلند کر رہی ہیں۔
 وہ ملک جہاں لڑکیوں کو نہ جانے کتنی مرتبہ سننا پڑتا ہے ’’خاموش رہو....!‘‘ انہوں نے اپنی بلند آواز میں دنیا کو بتایا ہے کہ ’’سنو! ہندوستان کی بیٹی بول رہی ہوں۔‘‘ جب ہم (لڑکیاں/خواتین) ایسے کسی سیاسی موضوع پر بات کرتی ہیں تو یہی کہا جاتا ہے ’’تمہیں کیا؟ تم اپنا گھر بار سنبھالو اور اپنے کام سے کام رکھو، تمہیں ان سب میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
 کیوں؟ کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ کیا حکومت ہمارے ووٹ کے بغیر بن جاتی ہے؟ تو پھر سماجی اور سیاسی موضوع پر ہمیں اظہار رائے سے کیوں روکا جاتا ہے؟
  اگر کسی معاملے میں کوئی نقطۂ نظر ہوتا بھی ہے تو اسے غیر ضروری سمجھ کر درکنار کر دیا جاتا ہے۔ کیوں ہمیں شروع سے خاموش رہنا سکھایا جاتا ہے؟ اور اگر کوئی بولنے کی کوشش کرے بھی تو اسے ’’خاموش‘‘ رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
 ثناء گنگولی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ ان کے ایک ٹویٹ پر سورو گنگولی کو صفائی دینی پڑی، جبکہ سورو جی! اس بات سے واقف تھے کہ بیٹی نے کچھ غلط نہیں لکھا تھا۔ وہیں دوسری جانب نہ جانے کتنے نوجوان ہیں جو لوگوں کو ٹرول کرتے رہتے ہیں، نہ جانے کتنے برے الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن انہیں سدھارنے کے لئے کبھی کوئی والدین سامنے نہیں آئے۔
 بیٹا، نوجوانوں کا لیڈر بننا چاہے تو سب خوشی خوشی اسے آگے بڑھنے میں لگ جاتے ہیں۔ وہیں بیٹی ایسی کوئی خواہش ظاہر کر ے تو سب سے پہلے لڑائی اپنے گھر والوں ہی سے لڑنی پڑتی ہے۔ اس کے بعد دوسروں کی تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
 جانتے ہیں ملک میں عصمت دری کے خلاف اب تک کوئی سخت قانون کیوں نہیں بن سکا؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کو ۳۳؍ فیصد ریزرویشن کیوں نہیں مل پایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہماری نمائندگی کرنے والی خواتین بہت کم ہیں اور جو ہیں، ان میں سے بھی بہت کم کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرپاتی ہیں۔ 
 جس ملک میں اندرا گاندھی جیسی وزیراعظم گزری ہوں، وہاں آج بھی نصف آبادی اپنے حق کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ خواتین کی مضبوط قیادت کی بات کریں تو بس چند نام ہی سامنے آتے ہیں۔ ان سے بھی اگر آپ پوچھیں گی تو معلوم ہوگا کہ کتنی جدوجہد کے بعد وہاں تک پہنچی ہیں جن میںسونیا گاندھی، پرینکا گاندھی، ممتا بنرجی، پرتبھا پاٹل، سپریہ سلے، رابڑی دیوی، دمپل یادو، اندرا نوئی، چندا کوچر، شکھا شرما، کرن مجومدار شو، ثانیہ مرزا، پی وی سندھو اور ہما داس کے نام قابل ذکر ہیں۔
 کتنا اچھا ہوگا اگر ہمیں بھی سیاسی اور انتظامی امور میں برابری کی حصہ داری کے مواقع ملیں۔ کاش! ہمارا خاندان اور ہمارا سماج اس میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے ہمارا ساتھ دیتا۔ اگر صرف تھوڑا ہی حوصلہ دے دیا جاتا تو موجودہ سیاسی دور میں کئی خواتین لیڈر ہمارے حق کی لڑائی لڑ رہی ہوتیں۔
 دیر ہی سے سہی حالات بدل گئے ہیں کیونکہ نئی نسل خود ان بندشوں کو توڑ کر باہر آرہی ہے، اپنے راستے خود بنا رہی ہے اور نئی منزلوں تک پہنچ رہی ہے۔ جس طرح سے یہ نوعمر لڑکیاں ان مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں، لگتا ہے آنے والے کل میں ہمارے پاس متعدد خاتون لیڈران ہوں گی جو ملک کی خواتین کے مسائل کو پارلیمنٹ میں رکھیں گی، اپنی آواز بلند کریں گی، اور تمام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گی۔ وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک کا مستقبل تابناک ہوگا۔
زمانے اب ترے مد مقابل 
کوئی کمزور سی عورت نہیں ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK