مایوسی اور تناؤ کا سبب بننے والی ان ۶؍ باتوں سےگریز ضروری

Updated: October 05, 2020, 11:01 AM IST | MA Ahmed

اگر آپ چاہتےہیں کہ  مایوسی ، ڈپریشن اورتناؤ آپ کی ترقی و پیش رفت میںرکاوٹیں حائل نہ کریں توان باتوں سے خود کو دور رکھیں

Happiness
تناؤ سے بچیں

 ہرانسان چاہتا ہے کہ اس کی زندگی خوشی اور کامیابی  سے بھرپور ہو۔ وہ اس کیلئے حتی الامکان کوشش بھی کرتا ہے۔تاہم اس کے باوجود ایسی کئی باتیں ہیں جو اسے متاثر کرتی ہیں۔ ان میں مایوسی ، ڈپریشن، تناؤ   کا بڑا ہاتھ ہے جو کسی بھی شخص کی ترقی و پیش رفت میںرکاوٹیں حائل کرتی ہیں۔ یہ بھی دھیان رہے کہ طبی ڈپریشن اور مایوسی میں گہرا فرق ہے۔ڈپریشن دماغ میں کیمیائی عدم توازن کا نام ہے ، جبکہ مایوسی وہ حالت یا صورت حال ہوتی ہے جو ہم اپنی زندگی گزارنے کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ ڈپریشن کی طرح مایوسی بھی قابل تشخیص اور قابل علاج ہے۔اس مضمون میں ہم مایوسی کے اسباب پر روشنی ڈالیں گے۔
(۱) منفی رویہ 
 ہمارے اطراف ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جن کا دوسروں کے ساتھ ساتھ خود کے تئیں بھی رویہ منفی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کی بھی ہمت خود ہی توڑ دیتے ہیں۔  منفی رویہ کے سبب وہ اپنی غلطیاں بھی تسلیم نہیں کرتے ۔اس باعث لوگ ان سے دوری اختیار کرتے ہیں اور پھر وہ اس طرز عمل سے مایوسی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
(۲)مقاصد ،اہداف کے حصول میں تاخیر 
 یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بہت سارے افراد اپنا ہدف ، مقصد تو طے کرتے ہیں مگر اس کے حصول کیلئے کوششوں میں تاخیر کرتے ہیں۔نتیجتاً کامیابی میں تاخیر سے مایوسی اپنا جال بچھانے لگتی ہے۔  لہٰذا ایسے افراد کو چاہئے کہ وہ دیکھیں ان کی  صلاحیت اور قابلیت روز مرہ کے کاموں میں الجھ کر ضائع تو نہیں ہو رہی ہے۔انہیں اپنی خوبیوں کو خوابوں کی سمت دینا ، اپنے جذبات کو دیرپا اور ٹھوس مقصد کی طرف گامزن کرنا انتہائی ضروری ہے،اور اسکے ممکنہ حصول کیلئے جدو جہد اور تگ و دو کرنا اور اسے پانے کیلئے مصروف عمل رہنے سے ہی مقاصد کا حصول ممکن ہے۔
(۳)ہمیشہ شکایت کرتے رہنے کی  عادت
 مایوسی کا سبب بننے والی دوسری اہم عادت ہمیشہ شکایت کرتے رہنا ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو کامیاب اور خوش افراد کبھی لوگوں کی شکایت نہیں کرتے اور نہ ہی حالات کا رونا روتے ہیں۔جبکہ شکایت کا مزاج رکھنے والے افرادہمیشہ کسی نہ کسی بات کا رونا روتے رہتے ۔حالانکہ حقیقت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ  حالات کو دیکھنے کا مثبت رویہ ہونا چاہیے، حالات چاہے جیسے بھی ہوںہمیں ان کا سامنا کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہئے۔ 
(۴)ماضی کے پچھتاوے
 ماضی پر پچھتاواکرنے سے بہتر ہے کہ ہم حال میں بہتری کی کوشش کریں۔ کئی تحقیقی رپورٹوں میں یہ ملتا ہے کہ  دائمی دبائو اورڈپریشن کی اصل وجہ ماضی میں کئے ہوئے غلط فیصلے اور اقدام پر پچھتاوا ہے۔نفسیاتی اعتبار سے پچھتاوے سے نپٹنے کے ۴؍کارگر طریقے ہیں۔ ایک ماضی کے غلط فیصلوں سے سبق لیں مگر اسے اپنی زندگی کا حصہ نہ بننے دیں۔دوسرا ناقابل تبدیل حالات میں خود کو حالات کے حوالے کرنا۔ تیسرا یہ کہ غلطی سب سے ہوتی ہے اور بیجا ملامت سے حالات ٹھیک نہیں ہوتے اورچوتھا حالات کو نئے سرے اور مثبت انداز سے تشکیل دیجئے۔
(۵)مستقبل کےمتعلق بے جا فکرمندی
 یہ بہت سوں کی عادت ہے کہ وہ حال میں مستقبل کے تئیں بے جا فکرمندی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ ہم حال میں اپنی خداداد صلاحیت کا بھرپور استعمال کریں جس سے آنے والا کل بہتر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا آج میں جئیں ، مشکلات کا سامنا کریں،زندگی کی خوبصورتی کا لطف اٹھائیں۔ 
(۶)طرززندگی کو سادہ رکھیں
 جو لوگ اپنی زندگی دوسروں کی نقل کرتے ہوئے گزارتے ہیں وہ ہمیشہ فکر اور پریشانی میں ہی مبتلا رہتے ہیں۔  چیزوں کا استعمال ضرورت کے اعتبار سے کیجیے نہ کہ دوسروں پر رعب ڈالنے  کیلئے اور نہ ہی کسی کی نقل میں کچھ خریدیں۔ اپنی طرز زندگی کے پاؤں کو چادر سے باہر نکلنے نہ دیں۔ آپ کی جتنی استطاعت ہے اسی حساب سے زندگی جینے کی کوشش کریں۔ خود کو ورزش،تفریح،مطالعہ یا ایسی کسی مصروفیت میں خود کو محو رکھیںجس سے آپ خالی وقت میں بے وجہ کی شاپنگ سےبچ سکیں۔
(۷)صحت بخش غذا اور مناسب نیند
  غذا فوری طور پر انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی  ہے۔ اگر آپ غیر صحت بخش غذا کا استعمال کریں گے تو وزن بڑھے گااورتوانائی کی کمی اور کام کرنے کی صلاحیت گھٹے گی۔ جبکہ بہتر غذا سے طاقت و توانائی، بہتر جسمانی ساخت اور ذہنی قوت کی بحالی ہوتی ہے ۔نیند کی کمی نہ ہونے دیں ۔ یہ بھی مایوسی اورتناؤ کا سبب بنتی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK