خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے

Updated: November 29, 2021, 12:05 PM IST | Rehana Qadri | Juhu Scheme, Mumbai

اسلام نے عورت کو ایک بڑا مرتبہ عطا کیا اور اُس کی تعلیم کو فروغ دیا، آج عورت کی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک معتبر سماج کیلئے مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد دونوں کو علم حاصل کرنے کی تاکید کی ہے چاہے اس کیلئے کیسی ہی مشقت اٹھانی پڑے

Educated mothers train their children better.Picture:INN
تعلیم یافتہ مائیں بچوں کی تربیت بہتر انداز میں کرتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

کائنات عورت کے وجود کے بغیر نامکمل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں مرد اور عورت کو اعلیٰ مقام عطا فرمایا۔ لیکن اسلام سے پہلے عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا، عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو ایک تحفظ دیا اور ایک ایسی قدر عطا کی کہ عورت کو ماں کے قدموں تلے جنّت کا درجہ دیا۔ اسلام نے عورت کو ایک بڑا مرتبہ عطا کیا اور اُس کی تعلیم کو فروغ دیا، آج عورت کی تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک معتبر سماج کیلئے مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد دونوں کو علم حاصل کرنے کی تاکید کی ہے چاہے اس کیلئے کیسی ہی مشقت اٹھانی پڑے ۔ مرد اور عورت گاڑی کے دوپہئے ہوتے ہیں۔ گاڑی ایک پہئے پر نہیں چل سکتی یہی حال ہمارے معاشرے کا ہے اس میں مرد اور عورت دونوں کی اہمیت یکساں ہے جب تک دونوں علم حاصل نہیں کریں گے ہم کسی صورت ترقی نہیں کرسکتے۔ عورتوں کی تعلیم جس میں دین و مذہب، اخلاق و کردار کی اصلاح شامل ہوتی ہے جس میں عورت اور حقوق و فرائض کی پہچان سکے۔ بچّوں کی تربیت میں سلیقہ مندی سے کام لے سکیں۔ پرانے زمانے میں عورتوں کی تعلیم پر خاص توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ جوں جوں زمانہ بدلتا گیا عورتوں کی تعلیم پر زور دیا گیا کیونکہ عورت اپنے بچّوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے وہ آگے بڑھ کر قوم کی تخلیق کو ایک نئی شناخت دیتی ہے۔ کسی بھی بچّے کا مستقبل اس کی والدہ کی طرف سے دیئے گئے پیار اور پرورش پر منحصر ہوتا ہے جو صرف ایک عورت ہی کرسکتی ہے۔
 اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو اولاد بھی صاحب علم اور مہذب ہوگی کیونکہ بچّے کا زیادہ تر وقت ماں کے قریب گزرتا ہے اس لئے پڑھی لکھی ماں بچّے کے خیالات کو نکھار سکتی ہے، اپنے حقوق و فرائض سے باقاعدہ آگاہ ہوتی ہے اور بچّہ تہذیب یافتہ ماحول میں ڈھل کر مدرسہ جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ عورت اپنے خاندان کی معاشی حالت کو سدھارنے کے لئے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے اور صرف اپنے بچوں کی ہی نہیں بلکہ آس پاس کے بہت سارے لوگوں کی زندگیوں کو بھی تبدیل کرسکتی ہے۔ اور ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ ایک عورت اپنی زندگی میں بہت سے رشتے نبھاتی ہے۔ مثلاً ماں، بیٹی، بہن، بیوی.... کسی بھی رشتہ میں آنے سے پہلے عورت ملک کی آزاد شہری ہے اسے اپنی خواہش کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے تاکہ وہ اپنے پسندیدہ شعبہ میں کام کرسکے۔ تعلیم خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور انہیں خود پر انحصار کرنے میں مدد کرتی ہے۔ تعلیم نہ صرف معاشرے میں خواتین کا معیار بلند کرتی ہے بلکہ معاشرے کی تنگ سوچ کو بھی ختم کرتی ہے۔ تعلیم نسواں کے بغیر ہم ترقی یافتہ سماج کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ خواتین کے ذریعہ ہمارا معاشرہ، مہذب اور بااخلاق اور باسلیقہ ہوتا ہے اس لئے اسلام نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم پر زور دیا ہے۔
 نپولین بونا پارٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، مَیں تمہیں ایک بہترین قدم دوں گا۔‘‘
 ماں کی گود انسان کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ عورت مرد کے شانہ بشانہ چلی ہے، مرد کا کام معاش کو چلانا ہوتا ہے لیکن عورت گھر کے نظام کو اور امورِ خانہ داری اور بچّوں کی صحیح پرورش کرتی ہے۔ مرد کی تعلیم صرف مرد کی تعلیم ہے لیکن عورت کی تعلیم سارے خاندان کی تعلیم ہوتی ہے۔ تعلیم نسواں سے ایک اچھے خاندان کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر لڑکی تعلیم یافتہ ہوگی تو ملازمت کرکے اپنے گھر کا خرچ اٹھا سکتی ہے اور گھر اور گھر کے باہر کی زندگی میں اپنے شوہر کا سہارا بن کر بھی زندگی گزار سکتی ہے۔ خواتین و نوعمر لڑکیاں قرآن پاک، دینیات اور اخلاق و اصلاح کی اتنی تعلیم حاصل کرلیں کہ وہ اپنے حقوق و فرائض سے باقاعدہ آگاہ ہوسکیں جو لڑکیاں تعلیم یافتہ نہیں ہوتی ہیں گو وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہوں انہیں اکثر شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اس لئے عورت کو تعلیم سے آراستہ ہونا بہت ضروری ہے۔
 اس کے برعکس اَن پڑھ بچّے کے اخلاق و عادات کو نہ سنوار سکتی ہے اور نہ ہی ایک اچھی بیوی ثابت ہوسکتی ہیں۔
 خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کریں، اُن کے فوائد بتائیں اور انہیں دینی اور دنیاوی تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ اُن کی بیٹیاں بھی معاشرے میں اپنے بنیادی حقوق کیلئے لڑسکیں اور اُن سے استفادہ کرسکیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی تعلیم کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور معاشرے میں اتنا وقار، مرتبہ، اور اپنی عظمت کو برقرار رکھ سکیں۔ کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین ہی اپنے خاندان اور معاشرے میں خوشحالی اور مثبت تبدیلی لاسکتی ہیں۔ اور ایک جدید معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔ خواتین کی وجہ ہی سے کائنات میں رنگ ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK