مثبت ہونا اچھی بات ہے مگر اس کی زیادتی ٹھیک نہیں

Updated: January 13, 2022, 12:54 PM IST | Dr.Sharmeen Ansari | Mumbai

انگریزی میں اسے ’’ٹاکسک پازیٹیویٹی‘ کہا جاتا ہے۔ اکثر معاشروں میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں مگر تلاش کرنے جائیں تو خواتین میں ایسی نفسیات والی خواتین ضرور ملیں گی۔ انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ معاشرہ کی ہمدردی سے زیادہ مدد کی مستحق ہوتی ہیں

Don`t try to be happy in times of trouble or distress, but be realistic.Picture:INN
کسی پریشانی یا تکلیف کے وقت خود کو خوش ظاہر کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ حقیقت پسند بنیں۔ تصویر: آئی این این

ٹاکسک پازیٹیویٹی (زہریلی مثبتیت) یہ عقیدہ ہے کہ صورتحال کتنی ہی سنگین یا مشکل کیوں نہ ہو، لوگوں کو مثبت ذہنیت برقرار رکھنی چاہئے۔ ٹاکسک پازیٹیویٹی کا شکار خواتین نہایت سنگین اور غمگین حالات میں بھی مثبت رہنے کی کوشش کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں مثبت سوچ کا حامل ہونابہت ضروری ہے اور اس مثبت سوچ کی وجہ ہی سے اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کا بنتی ہے لیکن جب مثبتیت انسان پر حاوی ہوجاتی ہے تو یہ انسان کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی انسان ہر وقت مثبت نہیں سوچ سکتا اور نہ انسان کے حالات ہمیشہ موافق ہوتے ہیں۔ انسان کو زندگی میں ہر طرح کے حالات سے جوجھنا پڑتا ہے جس میں کئی درد ناک تجربے اورحالات شامل ہوتے ہیں ایسے میں جذبات پر قابو پانا اور مثبت رہنا ناممکن ہے۔ ایسے ناممکن حالات میں بہت ضروری ہے کہ خواتین اپنے سچے جذبات کو محسوس کریں اورانہیں ظاہر کریں۔ 
ٹاکسک پازیٹیویٹی کیا ہے؟
 زہریلی مثبتیت ایک یقین ہے جس میں خواتین یہ مان بیٹھتی ہیں کہ کتنے بھی برے اور مشکل حالات کیوں نہ ہوں، مثبت نظریہ اور سوچ رکھنا چاہئے، حالانکہ مثبت سوچ رکھنے کے کئی فائدے ہیں، لیکن جب انسان حالات کے دباؤ سے ٹوٹ چکا ہو اور اندر سے درد جھیل رہا ہو اور ایسے حالات میں اگروہ خوش رہنے کی کوشش کرتا ہو تو اس کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسے ہی ’’زہریلی مثبتیت ‘‘ یعنی ٹاکسک پازیٹیویٹی کہاجاتا ہے۔ 
ٹاکسک پازیٹیویٹی کا اثر
 تحقیق بتاتی ہے کہ ٹاکسک پازیٹیویٹی ان خواتین کیلئے کافی نقصاندہ ہے جو زندگی میں مشکل حالات سے گزر رہی ہیں۔ ایسے میں اگر خواتین اپنے اندر کے تکلیف دہ جذبات کو اپنوں کے ساتھ نہیں بانٹیں گی تو وہ اندر ہی اندر گھٹ جائیں گی اور اپنوں کا سہارا بھی نہیں حاصل کرپائیں گی اور خود کو تنہا اور بے سہارامحسوس کریں گی، جس کااثر اُن کی ذہنی اور جسمانی صحت پرپڑے گا۔ 
 اس کے علاوہ اگر خواتین ٹاکسک پازیٹیویٹی کا شکارہوتی ہیں تو وہ اپنے جذبات کے اظہارمیں اپنے آپ کو مجبور محسوس کرتی ہیں اور ان میں یہ بات گھرکرجاتی ہے کہ جوخیال ان کے من میں آرہاہے وہ نہیں آناچاہئے، اوراپنے آپ کو غلط ماننے لگتی ہیں اور ایساسوچ کر وہ شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔ یہی نہیں ان کے اندر اس بات کا احساس کمتری پلنے لگتا ہے کہ وہ برے حالات میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتیں اور وہ بہت کمزور ہیں اورذہن میں اس طرح کے خیالات آنا نہ صرف غلط ہے بلکہ خواتین کی خوداعتمادی بھی مجروح ہوتی ہے۔ 
ٹاکسک پازیٹیویٹی کی علامات 
شدید نقصان اور خراب حالات میں بھی مثبت نظر آنے کی کوشش کرنا۔ 
نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان سے دامن بچانا۔ 
خودکے اداس یا غمگین ہونے پر غصہ کرنا۔ 
جولوگ ہر حال میں مثبت نہیں رہتے ان کا مذاق اُڑانا۔ 
’’....اور بھی بُراہوسکتا تھا‘‘ کہہ کر لوگوں کو مثبت رہنے کی صلاح دینا۔
اپنے جذبات کو کسی کے ساتھ نہ بانٹنا۔ 
ٹاکسک پازیٹیویٹی کیوں ہے خطرناک؟
 انسان کا مثبت رہنا فائدہ مند ہے مگر جب مثبت رہنے کی عادت خواتین پرحاوی ہوجاتی ہے تو یہ خطرناک ہوجاتی ہے۔

جانیں اس کے خطرات:
ذاتی نقصان کو نظرانداز کرنا: ٹاکسک پازیٹیویٹی کا شکار خواتین اپنے نقصان کو نظرانداز کرتی ہیں اور وہ ذاتی نقصان کاسبب بن سکتی ہیں۔ وہ ارد گرد کے لوگوں کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔ 
شرمندگی کااحساس: ٹاکسک پازیٹیویٹی خواتین کے لئے شرمندگی کی وجہ بن سکتی ہے۔ ایسی خواتین زبردستی اپنے احساسات کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، جس کا احساس بعد میں ہونے پر خواتین شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔ 
اکیلاپن: ایسی خواتین جو نامساعد حالات میں بھی مثبت رہنے کا دکھاوا کرتی ہیں اور دوسروں کو بھی مثبت رہنے کی صلاح دیتی ہیں وہ کچھ وقت کے بعد خود کو لوگوں سے الگ تھلگ محسوس کرنے لگتی ہیں۔ 
ذہنی دباؤ: ایسی خواتین جو ٹاکسک پازیٹیویٹی کا شکار ہوتی ہیں وہ اپنے ذہن اور دل میں بہت کچھ چھپا کر رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور آگے چل کر وہ ڈپریشن کا بھی شکار ہوسکتی ہیں۔ 
ٹاکسک پازیٹیویٹی سے اُبھرنے کاطریقہ
دکھ، غم اور منفی سوچ کو بھی انسان کی زندگی کاحصہ سمجھنا ضروری ہے۔
 مصیبت کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس سے نمٹنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ 
 خودکی دیکھ بھال اور ایسے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے جو آپ کی صورتحال کو بہتر بنانے معاون ثابت ہوں۔ 
 خواتین کسی مشکل حالات سے گزر رہی ہوں تو اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے متعلق سوچیں، کسی کاپی میں اسے نوٹ کریں یاکسی دوست سے بات کریں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جوکچھ آپ محسوس کررہی ہیں اسے الفاظ میں بیان کرنے سے ان کے منفی احساسات کی شدت کو کم کرنے میں مددملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK