موبائل فون بچّوں کی پہنچ سے دور رکھیں

Updated: January 25, 2022, 1:17 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

ماہرین والدین کو ہمیشہ موبائل فون کے تعلق سے تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ بچّوں کیلئے خطرناک ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس کا متبادل کیا ہو تاکہ بچّے موبائل فون سے دور رہیں؟ ایسی کئی مثبت سرگرمیاں ہیں جو بچّوں کو مشغول رکھ کر ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں

Give parents plenty of time to keep their children away from cell phones.Picture:INN
بچّوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لئے والدین انہیں بھرپور وقت دیں۔ تصویر: آئی این این

ایک وقت تھا، جب والدین اپنے بچّوں کو بہلانے کے لئے اپنے بیگ سے اُس کا پسندیدہ کھلونا، جھنجھنا یا پھرکوئی تصویری کتاب وغیرہ نکال کر دیتے تھے، مگر اب ان کے پاس بچّوں کو مطمئن کرنے کا ایک ہی حل ہے، جو ’’موبائل فون‘‘ ہے۔ اور یہ ایک ایسا حل ہے،جو بتدریج بچّوں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتّب کرتا ہے۔ ماہرین والدین کو ہمیشہ موبائل فون کے تعلق سے تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ بچّوں کے لئے خطرناک ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس کا متبادل کیا ہو تاکہ بچّے موبائل فون سے دور رہیں؟  ایسی کئی مثبت سرگرمیاں ہیں جو بچّوں کو مشغول رکھ کر ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ لیکن چونکہ موبائل فون والدین کے پاس ہمہ وقت موجودرہتے ہیں، اِس لئے یہ بچّوں کو خاموش اور مشغول رکھنےکا ایک آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔   اگر والدین نے اب بھی موبائل فون کے مضر اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو ہماری آنے والی نسلیں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے دوچار ہوجائیں گی کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بچّوں کے اسکرین ٹائم میں اضافے سے ان میں نفسیاتی مسائل، بے توجہی اور غیر معمولی طورپر فعال ہونے یعنی ہائپر ایکٹیویٹی جیسے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

بچّوں کو بھرپور وقت دیں

 بچّوں میں موبائل فون کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان جو سامنے آرہا ہے، وہ والدین کا اپنے بچّوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنے میں کمی واقع ہونا ہے۔چونکہ بچّے کئی کئی گھنٹے موبائل فون کی دُنیا میں گم رہتے ہیں، لہٰذا والدین کے ساتھ بات چیت میں کمی کے باعث ان میں مادری زبان درست انداز میں سیکھنے کی صلاحیت، جذباتی نظم و ضبط اور تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ اس لئے بچّوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لئے انہیں بھرپور وقت دیں۔ ان کے ساتھ کوئی انڈور گیم کھیلیں۔ ان کے ساتھ باتیں کیجئے اس سے آپ دونوں کے رشتوں مضبوط ہوں گے۔ کتنی بھی مصروفیت ہونے کے باوجود روزانہ انہیں کم از کم ایک گھنٹہ ضرور دیں۔

ہم عمر بچّوں کے ساتھ کھیلنے دیں

 الیکٹرانک آلات کے سبب بچّے ہم عمر دوستوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے ہیں، یوں کہنا بہتر ہوگا کہ اب بچّے دوستوں سے دور ہوگئے ہیں جو تخلیقی صلاحیتیں اُبھارنے، مسائل حل کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ تھا۔ مائیں، اپنے بچّوں کو دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے راضی کریں۔ مائیں روزانہ شام کے وقت بچّوں کے ساتھ قریبی واقع پارک میں جائیں اور انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے دیں۔

کتب بینی کا شوق پیدا کریں

 بچّوں کو موبائل فون سے دور کرنے کے لئے ان میں کتب بینی کا شوق پیدا کریں۔ گھر میں روزانہ ۱۵؍ سے ۳۰؍ منٹ دورانیہ کا ایک وقت مختص کریں، جس میں گھر کا ہر فرد انفرادی طور پر خاموشی سے مطالعہ کرے۔ جب گھر میں موجود چھوٹا بچہ، اپنے بڑوں کو مطالعہ کرتے دیکھے گا تو یہ عادت اس میں بھی پیدا ہوگی۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا ہو تو والدین کو اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کی تلقین کرنے کے بجائے خود ان کے لئے رول ماڈل بننا ہوگا۔ آپ کے روزانہ کے کم از کم ۱۵؍ منٹ اس مقصد کے حصول میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

بچوں کو مصروف رکھیں

  بچے کو اسکول اور ہوم ورک سے فراغت کے بعد غیر محسوس طریقے سے اپنے ساتھ کام میں مصروف رکھیں اس طرح بچہ موبائل فون، ٹی وی اور کمپیوٹر گیم جیسی فضول سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوگا اور آپ کے ساتھ مصروف رہ کر بہت کچھ سیکھ جائے گا۔ بچے کو چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی اجازت دیں۔ اگر وہ آپ کے ساتھ کھانے کے برتن لگانے میں مدد کر کے خوش ہوتا ہے تو اسے یہ کام کرنے دیں۔ اس سے د رازوں کی صفائی کروائیں چمچوں کو ان کے سائز کے مطابق سیٹ کروائیں اور کچن میں استعمال ہونے والے تو لیے اور ڈسٹر وغیرہ کو تہہ کر کے درازوں میں رکھنا سکھائیں۔ صفائی ستھرائی کے یہ چھوٹے چھوٹے کام بچے کو منفی سرگرمیوں سے بچا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی بچّے کم عمر سے کام کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔

بچّوں کے آئیڈل بنیں

 بچّوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود موبائل فون کے بے جا استعمال سے بچیں۔ اگر آپ ہر وقت موبائل فون استعمال کرتی رہیں گی تو یقیناً بچّے بھی اس کی تقلید کریں گے۔ بچّے ہمیشہ وہی کرتے ہیں جو ان کے بڑے اُن کے سامنے کرتے ہیں۔ اگر آپ واقعی چاہتی ہیں کہ آپ کے بچّے موبائل فون سےدو ر رہیں تو ضروری ہے کہ آپ ہر وقت موبائل فون کا استعمال سے اجتناب برتیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK