صحت بخش غذاؤں سےبچوں کی دوستی کرائیں

Updated: June 01, 2021, 2:42 PM IST | Marium Shaikh

وقت بے وقت کھانا، جنک فوڈ کی زیادتی، نیند کی کمی، موبائل فون کا زیادہ استعمال اور جسمانی سرگرمی سے دوری کی وجہ سے بچوں کا وزن بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو صحت بخش غذا کھانے کا عادی بنائیں اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب انہیں راغب کریں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

اکثر مائیں بچوں کو صحتمند بنانے کیلئے ضرورت سے زیادہ توجہ دیتی ہیں اور وقت بے وقت کھلاتی رہتی ہیں۔ جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ کب اور کتنا کھانا ہے، یہ عادت بچوں میں موٹاپے کا سبب بن جاتی ہے۔ ماؤں کو چاہئے کہ بچپن ہی سے بچوں کو متوازن غذا کھلائیں۔ چھوٹی عمر ہی سے انہیں پھل اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈلوائیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ فربہ اور صحتمند بچے میں فرق ہوتا ہے۔ اس لئے بچے کو فربہ بنانے کے بجائے صحتمند بنائیں اور اس کی خوراک میں صحت بخش غذائیں ضرور شامل کریں۔ اگر آپ کے بچے میں بڑھتی عمر میں ہی موٹاپے کے اثرات نظر آرہے ہیں اور اس کا وزن اس کے قد کی مناسبت سے زیادہ ہے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رابطہ قائم کریں۔ بچے کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھنا ضروری ہے مگر اسے صرف روغنی اشیاء یا جنک فوڈ کھانے کا عادی نہ بنائیں۔ اگر یہ عادت پختہ ہوگئی تو مستقبل میں کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ بچوں کی مناسب نشوونما کے لئے انہیں متوازن اور توانائی سے بھرپور غذائیں دیں۔ آج کل بچوں میں موٹاپے کی اہم وجہ برقی آلات ہیں۔ ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر دیر تک موبائل گیم یا ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں سے بالکل دور ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کو ورزش کے لئے آمادہ کرنا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں بچوں کو ورزش کرنے کی ہدایت دینا کافی نہیں ہے بلکہ مائیں بچوں کو خود اپنے ساتھ ورزش کروائیں۔ بچے تھوڑی ضدی مزاج کے ہوتے ہیں اور وہ والدین کی بات جلدی نہیں مانتے ہیں۔ ایسے میں بچوں کو کھانے پینے پر روکنا ٹوکنا اور ورزش کروانا آسان نہیں ہوگا۔ لہٰذا بچوں سے نرم انداز میں بات کیجئے اور  انہیں سمجھائیں کہ ان کی صحت کے لئے کیا بہتر ہے۔ وہ ضرور آپ کی بات کو سمجھیں گے۔
بچوں کی جسمانی و ذہنی دونوں نشوونما کی جانب توجہ دیں۔ جسم اور ذہن کی نشوونما کے لئے پھل، سبزیاں اور دودھ بہت ضروری ہے۔ مچھلی، مرغی اور گوشت آئرن کی کمی کو دور کرتے ہیں۔ آج کل گھر میں تیار کیا ہوا ناشتے کے بجائے بازار سے خریدا جاتا ہے۔ بازار سے آئی ہوئی اشیاء میں حفظان ِ صحت کے اصول کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا کوشش کیجئے کہ بچوں کو گھر کی پکی ہوئی صحت بخش غذا ہی دی جائیں تاکہ بچے بازار کی چیزیں کھا کر پیٹ نہ خراب کرلیں۔
 بچوں کو غذائی اشیاء بدل بدل کردیں، تاکہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر ہو ۔ کوشش کریںکہ بچوں کو بچپن سے ہی ہر چیز کھانے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں، تاکہ وہ سب چیزیں کھاسکیں اور یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز انہیں اچھی نہیں لگتی۔بچوں کو کھانے میں رغبت کے لئے ان کو خوبصورت پلیٹوں اور برتنوں میں کھانے ڈال کر دیں ۔اس طرح سے بچوں میں بھوک بڑھے گی اور وہ صحتمند و تندرست ہوں گے۔ کھانا کھانے کے دوران بچوں کو ٹی وی نہ دیکھنے دیں ورنہ وہ سکون سے کھانا نہیں کھا سکیں گے۔ دالیں،دلیہ اور انڈا بھی دیں، اس خوراک سے بچوں کو آئرن، وٹامنز، پروٹین اور پوٹاشیم مناسب مقدار میں حاصل ہوگا اور جسم و ذہن کی بہتر انداز میں نشوونما ہوگی۔ کولڈ ڈرنکس بچوں کی صحت کے لئے مضر ہیں۔ بازار کی تلی ہوئی چیزیں مضر صحت ہیں۔ بچے کو کھانے کے بعد فوراً پانی پینے سے روکیں۔ اس سے تیزی سے وزن بڑھتا ہے۔ البتہ صبح پانی پینے کے بعد ورزش کرنے اور چہل قدمی کرنے سے جسم کی نسوں کو توانائی ملتی ہے۔ بچوں کے معمول میں اسے ضرور شامل کریں۔
 بچوں کو بطور ناشتہ براؤن بریڈ سینڈوِچ، لو فیٹ چیز، ویج رول، اسپراؤٹس، فروٹ سلاد وغیرہ دیں۔ اس کے علاوہ آپ انہیں فروٹ اسموتھی بھی دے سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سیب، کیلا، چیکو اور اسٹرابیری جیسے پھل کھانے کو دیں اور شہد بھی دیں۔
 بڑھتے وزن کی ایک وجہ نیند کی کمی بھی ہے۔ برطانیہ میں کی گئی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے نیند کی طبعی مقدار پوری نہیں کر پاتے، ان میں بڑے ہونے کے ساتھ موٹاپے کا شکار ہونے کے امکانات ہوتےہیں۔ برطانوی تحقیق کے دوران ۱۸؍ سال سے کم عمر کے ۷۵؍ ہزار ۴۹۹؍ بچوں کی نیند کے معمولات کا مطالعہ کیا گیا۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چار ماہ سے ۱۱؍ ماہ تک کے بچوں کو کم سے کم ۱۲؍ سے ۱۵؍ گھنٹے اور دو سال کی عمر کے بچوں کو ۱۱؍ سے ۱۴؍ گھنٹے سونا چاہئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقفے وقفے سے بچوں کا سونا ان کے کھانے پینے کی عادات تبدیل کرنے کے ساتھ ان کے وزن میں تبدیلی اور غیرمعمولی موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا ماؤں کو چاہئے کہ بچوں کو صحت بخش غذا کھلانے کے ساتھ ساتھ بھرپور نیند بھی سلائیں۔ موبائل فون کے استعمال سے بھی بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ بچوں کے لئے موبائل فون وغیرہ دیکھنے کا وقت طے کر دیں اور رات کے وقت موبائل فون استعمال کرنے نہ دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK