ملئے گجرات کے ۷۰؍سالہ ڈاکٹریٹ کے طالب علم سے

Updated: September 01, 2020, 10:59 AM IST | Agency | Ahmedabad

احمد آباد کے ۷۰؍سالہ بال کرشن پانڈیا نامی شخص گجرات یونیورسٹی سے ڈاکٹر یٹ کررہے ہیں

Bal Krishna Pandya
بال کرشن پانڈیا

کہتے ہیں کہ سیکھنے کی عمر نہیں ہوتی ۔ اس کہاوت کی عملی  مثال بال کرشن پانڈیا ہیں۔ احمد آباد کے رہنے والے یہ ۷۰؍سالہ شخص گجرات یونیورسٹی سے ڈاکٹر یٹ کررہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے قبل اگراس معمر شخص کو کوئی یونیورسٹی کے احاطے میں دیکھتا تو یہی غلطی کربیٹھتاکہ یہ کوئی سینئر فیکلٹی ممبر ہیں۔ بال کرشن پانڈیا کہتے ہیں کہ ’’میں ایک طالب علم ہوں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ میرے گائیڈ مجھ سے عمر میں بہت چھوٹے ہیں۔ ‘‘ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بال کرشن پانڈیا(۷۰) نے حال ہی میں اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کیا ہے ۔
 بال کرشن پانڈیا کے ڈاکٹریٹ کا موضوع ’’سنسکرت گرامر کے تناظر میں رُدراشٹھدیا اور پرتی شاکھیہ کا تقابلی تحقیقی مطالعہ‘‘  ہے۔  پانڈیا نے گجرات یونیورسٹی کے اسکول آف لینگویجز کے  شعبہ سنسکرت کے صدر ڈاکٹر کملیش چوکسی کی رہنمائی و نگرانی میں اپنا ڈاکٹریٹ مکمل کیا ہے۔ 
 اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کا جذبہ رکھنے والے بال کرشن پانڈیا نے قبل ازیں اسی یونیورسٹی سے سنسکرت مضمون میں بیچلر آف آرٹس(بی اے)  اور ماسٹر آف آرٹس (ایم اے) مکمل کیا ہے ۔  کملیش پانڈیا پیشہ سے بزنس مین ہیں۔ انہوں نے بی اے اور ایم کی تعلیم کاروبار سے سبکدوشی کے بعد مکمل کی  ہے۔ چار دہائی قبل انہوں نے آرگیانک کیمسٹری میں ماسٹرز ڈگری مکمل کرنے کے بعد کاروبار سے وابستہ ہوگئےتھے۔   بال کرشن پانڈیا نے بتایا کہ ’’ کاروبار سے مکمل طور پر سبکدوش ہونے کے بعد میرے پاس کافی وقت تھا۔  میرا بیٹا بھی  امریکہ منتقل ہوگیاتھا۔ کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ ہمیشہ سے ہی میرے اندر رہا ہے۔ میں نے اپنے دادا کے متعلق سنا تھا کہ وہ سنسکرت زبان کے ماہر تھے اور احمد آباد کے محققین کی رہنمائی کرتے تھے۔  تو میرے اندر اس زبان کو سیکھنے اور اس کے متعلق تحقیق کرنے کی چاہت ہمیشہ سے رہی ۔  دادا کی سنسکرت میں مہارت نے مجھے بھی ترغیب دی کہ میں بھی اپنے خاندانی ورثہ کو آگے بڑھاؤں ۔ اس لئے میں نے سنسکرت کے قدیم نسخوں’ویدا اور یوگا ستراس‘ کو سمجھنے کیلئے ڈاکٹریٹ کا فیصلہ کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK