اسکول ڈراپ آؤٹ جو بعد میں آئی ٹی کمپنی کا مالک بن گیا

Updated: December 08, 2021, 1:33 PM IST | M. Afzal /Arshad Butt | Srinagar

جموں کشمیر کے آصف شیخ نے اپنی حصولیابی سے ثابت کردیا کہ کچھ غیرمعمولی کرگزرنے کا جذبہ اور کوشش ہو تو سب کچھ ممکن ہے

Asif Sheikh.Picture:INN
آصف شیخ۔ تصویر: آئی این این

 کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک کم تعلیم یافتہ نوجوان نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کر دی کہ کچھ غیر معمولی کرنے کا جوش و جذبہ ہو تو کسی بھی کٹھن ترین رکاوٹ کو بھی سر کرکے نہ صرف کامیابی کا جھنڈا گاڑا جا سکتا ہے بلکہ زندگی کے کسی بھی مشکل ترین شعبے میں بھی ایک فقید المثال کارنامہ انجام دیا جا سکتا ہے۔ سری نگر کے بٹہ مالو کے رہنے والے شیخ آصف، جنہیں اقتصادی طور نا خوشگوار گھریلو حالات سے مجبور ہو کر آٹھویں جماعت میں ہی تعلیم کو خیر باد کہنا پڑا تھا، آج ایک معروف برطانیہ نیشن انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنی کے مالک ہیں اور طلبہ کو ویب ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ آن لائن طریقے سے سیکھارہے ہیں۔ انہوں  نے اپنے اس پسندیدہ شعبے کے مختلف موضوعات پر ۳؍ کتابیں بھی تصنیف کیں ہیں۔ کشمیر کے زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا آئی ٹی کے شعبے سے جڑ کر اپنا اور اپنے وطن کا نام روشن کرنا ان کا خواب ہے جس کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے وہ سرگرم ہیں۔ شیخ آصف کو اسکول ڈراپ آؤٹ سے  بین الاقوامی سطح کا ایک آئی ٹی آئیکون بن جانے تک کے اس سفر کے دوران کئی  دشوار گزار مرحلوں کو طے کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اس کٹھن مگر کامیاب سفر کے بارے میں اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گھریلو حالات کے سبب آٹھویں جماعت میں ہی تعلیم کو مجبوراً چھوڑنا پڑا اور پھر کئی مشکل ترین راستوں کو طے کرنے کے بعد میں یہاں تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا: ’’میرے گھر والے  تعلیم چھوڑنے کے میرے فیصلے کے مخالف تھے لیکن والد کی ناساز طبیعت کے باعث میں نے ۲۰۰۸ء میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔  انہوں نے آگے کہا کہ ۲۰۰۹ء میں میرے والد نے کسی طرح ایک کمپیوٹر خرید لیا اور میں نے اس کے بارے میں بنیادی چیزیں سیکھنا شروع کیں کیونکہ اس میں مجھے کافی دلچسپی تھی اور میں اسی میں اپنا کریئر بنانے کا آرزو مند بھی تھا۔ شیخ آصف نے کہا کہ ان دنوں یہاں ’ٹیلی‘ کا کافی رجحان تھا جس کو سیکھنے کے لئے میں ایک انسٹی ٹیوٹ میں گیا لیکن وہاں مجھے یہ کہہ کر مایوس کر دیا گیا کہ ’’یہ کام آپ کی سمجھ سے باہر ہے۔‘‘
   اس کے بعد آصف نے ایک ٹور اینڈ ٹراولز ایجنسی میں  گرافک ڈیزائنر کی حیثیت سے کام  شروع کیا جہاں ۱۵۰۰؍ روپے   ماہانہ تنخواہ تھی جس سے کسی حد تک ان کا گزارہ چل رہا تھا۔اس دوران وہ  کمپیوٹر کے باقی شعبوں جیسے ’ایکسل‘ وغیرہ سیکھتے گئے۔  انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس کے بعد مجھے ’ٹا ٹا اسکائی‘ میں کام مل گیا جہاں مجھے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور بروئے کار لانے کا کافی موقع نصیب ہوا اور میں نے آئی ٹی کے کئی شعبوں میں مہارت حاصل کر لی۔۲۰۱۴ء  میں کوئی اپنا کام ہی شروع کرنے کا خواب ابھی دیکھا ہی رہا تھا کہ اس سال کے قیامت خیز سیلاب نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا اور مجھے ایک بار پھر کسی دوسرے کے دفتر میں ہی کام کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا: ’لیکن اس بار جس دفتر میں مجھے کام مل گیا وہ میرے لئے کشمیر سے باہر جانے کا باعث بن گیا اور میں  ۲۰۱۶ءمیں پہلے دہلی اور پھر برطانیہ کے دارلحکومت لندن پہنچ گیا۔
  بلند حوصلہ نوجوان نے کہا کہ لندن میں بھی پہلے پہل مجھے کافی جدوجہد کرنا پڑی۔انہوں نے کہا: ’’لندن میں کام کم ہونے کی وجہ سے میں کچھ مایوس ہی تھا کہ اچانک ایک دن میری ملاقات ایک کشمیری سے ہوئی جنہوں نے مجھے اپنے ساتھ لیا اور بات چیت کے دوران میں نے اپنی داستان بیان کی۔وہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے رہنے والے تھے اور لندن میں ہی کافی عرصے سے رہائش پزیر تھے جہاں ان کا ایک ریستوران بھی تھا۔  انہوں نے مجھے اپنے پاس رکھا اور اپنا کام شروع کرنے میں کافی مدد کی۔پھر لندن میں میرا اپنا ’تھامس انفو ٹیک‘ کا سفر شروع ہوا میرے کام کو دیکھ کر کئی لوگ میرے پاس گرافک  ڈیزائننگ کا کام کرانے کے لئے آئے اور ان میں سے ایک کو ویب سائٹ تیار کرنی تھی۔ جب میں نے اس شخص کی ویب سائٹ تیار کی تو وہ بہت خوش ہوا اور مجھے لاکھوں روپے معاوضہ دیا اور پھر میں نے ویب سائٹ ڈیزائننگ میں مزید مہارت حاصل کر لی۔ شیخ آصف نے کہا کہ اس کے بعد میںنے حمزہ سلیم نامی ایک سابق گوگل ملازم کے ساتھ اپنا ویب سائٹ ڈیزائننگ کا کام شروع کیا۔اس کمپنی  کا نام ہم نے لندن کے ایک مشہور دریا ’تھامس انفو ٹیک’ پر رکھا اور اس کے بعد حمزہ سلیم ۲۰۱۸ء  میں مانچسٹر منتقل ہوا اور میں اپنے آبائی وطن کشمیر لوٹ آیا۔  ان کا دعویٰ ہے کہ ’ ’میں تقریباً ۹۰۰؍ طلبہ کو آئن لائن ویب ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں آن لائن کلاسیز دیتا ہوں لیکن ان میں سے صرف۴۰؍ طلبہ کا تعلق جموں کشمیر سے ہے جن میں  سے ۳۵؍  لڑکیاں ہیں۔‘‘ انہوں نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے اس شعبے کے مختلف موضوعات پر تین کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔  جموں وکشمیر کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کا آئی ٹی سیکٹر کے ساتھ جڑ جانا میرا خواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے نوجوان مسابقتی امتحانوں میں حصہ لے کر آئی اے ایس افسر، ڈاکٹر، انجینئر  وغیرہ بن جاتے ہیں اسی طرح انہیں آئی ٹی سیکٹر میں بھی اپنی قسمت آزمائی کرنی چاہئے۔  اس شعبے میں کافی وسعت ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK