تناؤ، تذبذب اور انتظار؛ موجودہ زمانے کی مہلک بیماریاں

Updated: April 22, 2021, 3:15 PM IST | Rehana Khatib

تذبذب، کشمش اور تناؤ ذہنی بیماریاں ہیں جو جسمانی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہیںا ور شاید لاعلاج بھی۔ پرانے زمانے میں یہ بیماریاں نہیں ہوتی تھیں۔ سادگی اور غریبی میں بھی لوگ آرام دہ زندگی گزارتے تھے۔ مگر نئے زمانے میں انسان اور خاص طور پر خواتین ان سے بے حد پریشان ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

انسان کا اور بیماریوں کا ہمیشہ ساتھ رہا ہے۔ انسان ہمیشہ بیماریوں کے علاج کیلئے کوشاں رہا اور کئی مہلک بیماریوں کا علاج دریافت ہوا مگر جیسے ہی ایک بیماری کا علاج دریافت ہوتا دوسری کوئی بیماری استقبال کو تیار ہوتی۔ سب سے زیادہ خطرناک وہ بیماریاں ہوتی ہیں جو متعدی ہوتی ہیں اور بہت جلد وباء کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ماضی میں چھٹی صدی عیسوی کے جیٹنن طاعون کو تاریخی حیثیت حاصل ہے جسے کالی موت کہا جاتا ہے۔ اس بیماری نے شہر کے شہر اجاڑ دیئے تھے۔ اس کے علاوہ ہیضہ اور چیچک نے بھی بہت انسانی جانیں لیں۔ کہنے کو تو آج کل کینسر اور ایڈز سے بھی لوگ خوفزدہ ہیں مگر یہ متعدی نہیں ہیں۔ آج کل ساری دنیا میں کووِڈ کا خوف چھایا ہوا ہے۔ ایک سے دوسرے کو بہت جلد لگنے والی اس بیماری نے قیامت برپا کر رکھی ہے۔ بیمار کی نہ تو عیادت کی جاسکتی ہے اور نہ تیمارداری۔ موت کا عالم بھی کچھ عجیب ہوتا ہے۔ بقول غالبؔ؎
پڑیئے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
 بیماریاں تو جان لیوا ہوتی ہیں مگر ہمارے یہاں ان کو بھی مذہب اور سیاست سے جوڑ کر مزید مہلک بنا دیا جاتا ہے۔ اور اصل بیماری کے ضمنی حاصلات کے طور پر دوسری بیماریاں جنم لیتی ہیں جیسا کہ آج کل کووڈ میں ہو رہا ہے۔ ہر شخص عجیب سے تناؤ اور دباؤ کا شکار ہے۔ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے کی کشمش نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہیں۔ بچّے بھی کھیلنا اور ہنسنا مسکرانا بھول گئے ہیں اسکول بند ہیں مگر ان کے ذہنوں پر پڑھائی کا بوجھ برقرار ہے۔ پڑھیں یا نہ پڑھیں، امتحانات کی فکر انہیں کھائے جا رہی ہے جس کے ساتھ ہی مستقبل کا خوف بھی طاری ہے۔
 دوسری طرف خبروں اور اس سے زیادہ افواہوں نے تنگ کر رکھا ہے۔ کوئی کہتا ہے خطرناک بیماری ہے تو کوئی کہتا ہے کہ بیماری سرے سے ہے ہی نہیں محض افواہ ہے۔ علاج کے تعلق سے بھی لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔ ویکسین لیں یا نہیں؟ لیں تو کووڈ ویکسین یا کووڈ شیلڈ؟ دواؤں میں بھی بزنس کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ کمپنیاں اپنی اپنی دکان چمکانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ خود غرضی اپنے عروج پر ہے اور انسانی جانوں کا خیال کسی کو نہیں۔ اسے میں عام آدمی کرے تو کیا کرے۔ فیصلہ اسے خود کرنا ہے مگر یہاں تو معاملہ غالبؔ کے تیر ِ نیم کش کا ہے۔ ہر کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ جگر کے پار ہوجائے تو اچھا ہے کہ تذبذب کی اذیت سے تو نجات ملے۔
 تذبذب، کشمش اور تناؤ ذہنی بیماریاں ہیں جو جسمانی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہیںا ور شاید لاعلاج بھی۔ پرانے زمانے میں یہ بیماریاں نہیں ہوتی تھیں۔ سادگی اور غریبی میں بھی لوگ آرام دہ زندگی گزارتے تھے۔ مگر نئے زمانے میں انسان اور خاص طور پر خواتین ان سے بے حد پریشان ہیں۔ چونکہ جذباتی اور متلون مزاج ہوتی ہیں اس لئے جلد متاثر ہوجاتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ان کیلئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہیں۔ مثلاً آج کل لاک ڈاؤن کا ہوّا کھڑا ہے جسے مزید ہوا دی جا رہی ہے۔ غذائی اشیاء کی عدم فراہمی کا ڈر لگا ہوا ہے۔ حالانکہ معاملہ اتناگمبھیر نہیں ہے جیسا کہ بیماری سے بچنے کا ہے۔ اگر پیاز نہ ملے تو خواتین پریشان ہوجاتی ہیں کہ پیاز نہ ہو تو پکوڑے کیسے بنیں گے اور پکوڑے نہیں تو افطار کیسے ہوگا۔ بچّوں اور شوہر کی خوشی کا بھی خیال ہوتا ہے۔ حالانکہ پیاز کے بنا بھی پکوڑے بن سکتے ہیں اور پکوڑوں کے بنا بھی افطار ہوسکتا ہے۔ رہی بات بچوں اور شوہر کو خوش کرنے کی تو ذرا سی حکمت عملی سے انہیں بہلایا جاسکتا ہے۔ اس لئے کم از کم ذہنی تناؤ سے تو چھٹکارا مل ہی سکتا ہے۔
 انتظار بھی اکثر بیماری کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ شاعری میں انتظار کے بارے میں بہت ملتا ہے۔ خاص طور پر محبوب کا انتظار تو جان لیوا ہوتا ہے۔ آہیں بھری جاتی ہیں، تارے گنے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ خیر ویسا انتظار تو کسی کسی کو ہوتا ہے مگر عام آدمی کو اور ہی قسم کا انتظار ہوتا ہے۔ پچھلے سال اپریل اور مئی کے مہینے انتظار تھا کہ گرمی بڑھتے ہی کورونا چلا جائے گا۔ پھر ویکسین کا انتظار کہ کب تک آئے گا ابھی یہ انتظار ختم نہیں ہوا تھا کہ دوسری لہر آگئی کہ جس کا کسی کو انتظار نہیں تھا۔ خوش قسمت لوگوں کو کچھ خوشگوار چیزوں کا بھی انتظار ہوتا ہے۔ کچھ بھی ہو انتظار بہر حال جان لیوا ہوتا ہے۔ ممبئی کی عورتوں کے بارے میں ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ملازمت پر جانے والی عورتوں کی خرابی صحت کی ایک وجہ ٹرین کا انتظار بھی ہے۔ بات معمولی ہے مگر یہ خواتین جو ہر دن اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کا انتظار کرتی ہیں مسلسل تناؤ کا شکار رہتی ہیں جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا ہے۔
 ذہنی بیماریاں ویسے تو لاعلاج ہوتی ہیں مگر ان کا علاج خود ہمارے پاس ہے اور وہ ہے صبر۔ دراصل صبر اور انتظار ایک ہی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ صبر ہم کو کرنا ہوتا ہے اور انتظار کوئی اور کرواتا ہے۔ حالات جو بھی ہوں یہ دنیا اور اس کے کاروبار چلتے رہیں گے۔ ہمیں صرف جدوجہد اور خدا پر بھروسہ رکھنا چاہئے کیونکہ خدا کی رحمت پر کبھی لاک ڈاؤن نہیں لگتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK