درزی کا بیٹا بغیرکوچنگ کے آئزر داخلہ امتحان کامیاب

Updated: January 11, 2021, 11:51 AM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

ممبئی کے گوونڈی کے رہنے والے ایک غریب درزی کے فرزند ایلاف انصاری نے بغیر کوچنگ کے آئزر اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ میں  امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی اور آئزر پونے میں داخلہ لے کر سائنسداں بننے کی جانب پہلا قدم بڑھادیاہے۔

Elaf Ansari with Family
الیاف انصاری اپنے اہل خانہ کے ساتھ

ممبئی کے گوونڈی کے رہنے والے ایک غریب درزی کے فرزند ایلاف انصاری نے بغیر کوچنگ کے آئزر اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ میں  امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی اور آئزر پونے میں داخلہ لے کر  سائنسداں بننے کی جانب پہلا قدم بڑھادیاہے۔ قبل ازیں ایلاف شبیر انصاری نے مہاراشٹر سی ای ٹی  ۹۹ء۱۸؍پرسنٹائل حاصل کرکے ثابت کردیا کہ لگن ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔  ایلاف کا داخلہ   ملک کے مایہ ناز انسٹی ٹیوٹ IISER میں  بیچلر آف سائنس کورس میں ہوا ہے۔اس  ہونہار طالب علم کی اس جدوجہد بھری کامیابی کے سفر کی روداد اس خصوصی بات چیت میں پیش کی جارہی ہے۔
 ایلاف اپنی ابتدائی تعلیم سے متعلق تفصیلات بتائیے؟
ایلاف : میں نے عائشہ اسکول گوونڈی سے پرائمری تا دہم تک کی تعلیم حاصل کی۔ ۲۰۱۸ء  میں دسویں کاامتحان۸۷ء۸۰؍فیصد  نمبرات سے کامیاب کیا۔   اس کے بعد میں  سائن کے نامور کالج SIES میں سائنس اسٹریم میں داخلہ لیا۔ فزکس، کیمسٹری، میتھس اور بائیولوجی میں خوب محنت کرکے  بارہویں کا امتحان ۲۰۲۰ء میں ۹۰ء۰۳؍ فیصد مارکس سے کامیاب کیا۔
 ایلاف اپنی فیملی  اور حالات کے متعلق بتائیے؟
ایلاف : میرے والد کا نام شبیر انصاری ہے جو پیشہ سے درزی ہیں۔ انہوں نے جان محمد قاسم ہائی اسکول سےآٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ میری والدہ نے سینٹ جوزف ہائی اسکول مدن پورہ سے نویں جماعت تک پڑھائی کی ہے ۔ وہ خاتون خانہ  ہیں اور لاک ڈاؤن سے قبل تک گھر میں چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں اب یہ سلسلہ کووِڈ۱۹؍ کے پیش نظر بند ہے۔ میری دو بہنیں ہیں، جن میں جویریہ انصاری  نے ریاض السلام گوونڈی سے دسویں جماعت تک اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی  اور اس کے بعد  شری نارائن گرو کالج سے ایس جی پی ۷؍ سے اسی سال بیچلر ان کامرس کا امتحان کامیاب کیا ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم کی خواہش مند ہے۔ جبکہ چھوٹی بہن مصفرہ نور السلام ہائی اسکول گوونڈی میں نویں جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔
آمدنی کے محدود ذرائع کے باوجود آپ کی پڑھائی کا خرچ کیسے ممکن ہوا۔ آپ نے کوئی ٹیوشن جوائن کی تھی ، یہ بھی بتائیے کہ آپ کی پڑھائی کا شیڈول کیا تھا؟
ایلاف :میں اللہ کے بعد اپنے والدین کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے اتنی تنگدستی میں بھی میری تعلیم پر توجہ دی۔  میں نے کبھی ان کو شرمندہ نہیں کیا ہر جماعت میں فرسٹ اور سیکنڈ رینک حاصل کیا۔ کھیل کود اور دوستوں کی تفریح کو چھوڑ کر ہمیشہ پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھی۔ دسویں میں کامیابی کے بعد میسکو  ٹرسٹ نے ’ای ایس  اسکیم ‘ کے تحت میری تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی تھی جس کی بنیاد پر میری اسکول اور کالج کی فیس ادا کی جاتی تھی۔ بعد ازیں میری معاشی کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے بارہویں میں ایک ایجوکیشنل ایپ اور ٹیب فراہم کیا گیا تھا۔  لاک ڈاؤن میں  آن لائن کلاسیز کی بے قاعدگیاں اور دیگر وجوہات کی وجہ سے مجھے اس ایپ سے پڑھائی کرنا مشکل ہوتا جارہا تھا اور اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنا بھی مشکل  تھا ۔ لہٰذا میں نے   سیلف اسٹڈی پر زیادہ  توجہ دی۔ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ میں کسی پرائیوٹ انسٹی ٹیوٹ سے کوچنگ حاصل کر سکوں بغیر ٹیوشن کے میں نے اپنی پڑھائی کا شیڈول بنایا۔ اور پورا پورا دن میں پڑھائی کرتا تھا۔ میرے گھر والے پڑھائی کے  اس جنون کو  دیکھ کر فکرمند ہوجاتے۔ وہ مجھے   چہل قدمی اور گھومنے پھرنے کا مشورہ دیتے۔ اللہ نے میری محنت کا مجھے بہترین صلہ  دیا۔  
آپ کو سائنس اسٹریم میں داخلہ لینے کا خیال کیوں کر آیا،کیا مقصد تھا؟
ایلاف : گھریلو حالات ٹھیک نہیں تھے۔ جو کچھ کرنا تھا وہ مجھے ہی کرنا تھا۔ اسلئے میں نے اپنی ذات سے محنت کرکے آگے بڑھنے کو ترجیح دی۔ میں جب دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھا مجھے  اسٹیفن ہاکنگ کی سائنس تحقیقات کو جاننے کا تجسس ہوا میں نے ان کی مشہور کتاب ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘  کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب نے میری ’ ایسٹرو فزکس‘  میں مزید دلچسپ بڑھائی۔ پھر  میں نے اسی مضمون میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیلڈ سے متعلقہ کورسیز کی معلومات اور انسٹی ٹیوٹ کی تلاش شروع کر دی۔   ہر آنے والا دن مجھے نئے خوابوں کی دنیا کی سیر کراتا اب میں تہیہ کر چکا تھا کہ ایسٹرو فزکس میں ہی اپنا کریئر بناؤں  گا۔ میرے سامنے اس شعبے کے چند کورسیز تھے جو IISc، IIST، IISER، NISER سے کئے جاسکتے تھے۔ لیکن جب میں نے داخلہ کے طریقہ کار کو جانا تو تھوڑی مایوسی ہوئی کہ مجھے گیارہویں میں کسی اچھے کالج میں داخلہ کے علاوہ بھی   معیاری کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی ضرورت تھی۔ مگر معاشی مشکلات اور گھریلو حالات کے  سبب والدین اتنی خطیر فیس کا نظم کر سکے۔ میں نے اسی دن یہ ٹھان لیا کہ  ہر حال میں اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے بغیر درج بالا کسی بھی معیاری ادارہ سے تعلیم حاصل کرکے  اپنے والدین و قوم کا نام روشن کروں گا۔ دسویں میں اچھے مارکس کی بنیاد پر میرا داخلہ SIES کالج میں ہوا۔  میں نے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ محنت شروع کی  اور بغیر ٹیوشن کے جے ا ی ای مینس   میں۹۴ء۱؍  پرسنٹائیل حاصل کئے۔ساتھ ہی ساتھ  میں نے IISER Apptitude ٹیسٹ کی تیاری بھی  شروع کر دی تھی۔ اسلئے جے ا ی ای مینس  میں اچھے مارکس ملنے کے باجود جے ای ای  ایڈوانس  میں شرکت نہیں کی،اس کی  وجہ یہ آئزر اپٹی ٹیوڈٹیسٹ میں رینک پانے کی قوی امید تھی۔ اللہ کا شکر  ہے کہ پہلی ہی لسٹ جو اکتوبر  میں آئی  اس میں میرا نام IISER موہالی میں آچکا تھا۔ میں نے لسٹ  اپ گریڈ کا انتظار کیا۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ پورا گھر خوشی سے سرشار تھا۔ نومبر میں جو دوسری لسٹ آئی تھی اس میں مجھے IISER پونے بھی مل گیا۔ ابھی جب میرا نام ایڈمیشن لسٹ میں آیا تھا ہمارے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں تھا کہ فیس بھری جا سکے میرے والد نے اپنے جاننے والے ایک شخص سے قرض لے کر یہ فیس ادا کی۔ اللہ کا کرم ہوا اور میسکو ٹرسٹ نے بھی نصف فیس کا نظم کرنے کی حامی بھری ہے۔
 IISER سے متعلق تفصیلات بتائیے؟
ایلاف :انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ہندوستان کا ایک اہم سائنسی تحقیقاتی ادارہ ہے۔  ملک میں ایسے کل ۸؍ ادارے قائم کئے گئے ہیں جو کولکاتا، پونے، موہالی، بھوپال، بنگلور اور ترواننت پورم میں واقع ہیں۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ہندوستان میں سائنس ریسرچ کو فروغ دینے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ ان انسٹی ٹیوٹ کو مرکزی حکومت کی وزارت   برائے فروغ انسانی وسائل کی سرپرستی حاصل ہے۔سائنسی تحقیقات کیلئے آئزرایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں سے طلبہ کو سائنسداں بننے کا سنہری موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ طالبِ علم کو ہر طرح کی تحقیق سے روشناس کرانے کیلئے  اعلیٰ و معیاری لوازمات سے مزین تجربہ گاہیں فراہم کی گئی ہے جہاں طلہ سائنسداں کی حیثیت سے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں سائنسی تحقیقی تعلیم میں ہندوستان میں آئزر بہترین ادارہ ہے۔ یہاں چار سالہ بیچلر آف سائنس ( BS) پروگرام کے ساتھ ساتھ ماسٹر آف سائنس (MS) کا مشترکہ پانچ سالہ ڈوئل کورس بھی ہے، BS-MS ڈبل ڈگری کورس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK