کورونا بحران میں بچوں کی ذہنی و جذباتی صحت کا خیال رکھیں

Updated: June 03, 2021, 4:53 PM IST

اگر آپ کو لگتا ہے کہ بچے کورونا بحران کے نفسیاتی اثر سے محفوظ ہوں گے تو ایسا سوچنا ہی بنیادی طور پر غلط ہے، کیونکہ بچے ’اسفنج‘ کی طرح ہوتے ہیں وہ اپنے آس پاس ہونے والے واقعات کو جذب کرتے ہیں۔ لہٰذا بحیثیت والدین یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی ذہنی و جذباتی صحت کی جانب توجہ دیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ہم سبھی کا پچھلا ایک سال بہت مشکل سے گزرا ہے۔ شاید ہی کچھ اچھا اور یادگار رہا ہو۔ ہر جگہ سے آنے والی منفی خبروں نے ذہنی طور پر ہمیں کافی پریشان کر دیا ہے۔ جب ایسا لگ رہا تھا کہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے تو ایک بار پھر کورونا کے کیس میں آرہی تیزی نے ڈرا دیا۔ خاص کر بڑے ایک بار پھر معاشی تنگی کی آہٹ سے گھبرا گئے۔ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کی اپنی بے فکر دنیا ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ میں مست رہتے ہیں مگر کیا سچ مچ جب گھر کے بڑے اتنی فکر اور پریشانی میں ہوں تو بچوں کا اپنی دنیا میں مست رہ پانا ممکن ہے؟
 اگر آپ کو لگتا ہے کہ بچے کورونا بحران کے نفسیاتی اثر سے محفوظ ہوں گے تو ایسا سوچنا ہی بنیادی طور پر غلط ہے، کیونکہ بچے ’اسفنج‘ کی طرح ہوتے ہیں وہ اپنے آس پاس ہونے والے واقعات کو جذب کرتے ہیں۔ لہٰذا بحیثیت والدین بھلے ہی بچے کو کورونا کے سبب پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ سے بچانے کی بھرپور کوشش کی ہو مگر اس کا بچوں کے نفسیات پر گہرا اثر ہوا ہے۔
کس طرح کورونا نے بچوں کی ذہنی و 
جذباتی صحت متاثر کی ہے؟
 بچوں کے کورونا سے متاثر ہونے کے واقعات بہت کم ہیں، لیکن وہ جذباتی طور پر نازک ہوتے ہیں اور کورونا بحران اور اس کے بعد کے اثر کے سبب ان کو کافی متاثر کیا ہے۔ کورونا کے معاملے کم کرنے کے لئے سماجی پابندیاں، اپنوں سے دوری، تنہائی اور اسکولوں کو بند رکھنا کارگر طریقے ہیں، لیکن ان سب کا بچوں کے نفسیات اور جذباتی صحت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ لاک ڈاؤن، مالی پریشانی اور معاشرتی بدحالی کو بچوں نے اچھی طرح محسوس کیا ہے۔
 بچوں کو روزمرہ کے کام کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ آن لائن پڑھائی جیسے نئے طریقوں کو اپنانا پڑا ہے۔ خاندان میں کسی کی بیماری، نقصان اور موت نے بھی ایسے بچوں کو متاثر کیا ہے، جنہیں اس نقصان کو برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ کم آمدنی والے خاندان کے بچے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے زیادہ مالی تنگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ جن بچوں کے والدین کی ملازمت چھوٹ گئی یا جنہیں نقل مکانی جیسی صورحال کا سامنا کرنا پڑا، ان بچوں کو اپنے گھر والوں کے ساتھ سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
 بیشک کورونا بحران سے متعلق کئی باتیں ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، لیکن بحیثیت والدین آپ نفسیاتی اور جذباتی صحت پر کورونا بحران کے اثرات کا سامنے کرنے میں بچوں کی مدد کرنے کے لئے چند طریقے اپنا سکتے ہیں:
صحیح معلومات فراہم کریں
 انفیکشن ، اس کے پھیلاؤ اور کنٹرول کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بچوں کی غلط فہمیوں اور ان کے خاتمے کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔ بچوں کی مدد کرنے کے کچھ طریقے یہ ہوسکتے ہیں کہ آپ ان کے ساتھ اخبار کی وہ خبریں پڑھیں یا بول کر سنائیں جو اس سے متعلق ہوں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر مستند معلومات فراہم کرنے والے ویڈیو دیکھیں اور ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھیں یا ریڈیو پر انہیں سنیں۔ مشکل باتیں بچوں کو سمجھائیں اور ان کے سوالوں کے جواب دیں۔
معمولات کی فہرست بنائیں
 پہلے سے طے شدہ معمول پر عمل نہ ہو پانے سے بچہ پریشان ہوسکتا ہے۔ اس سے بچنے کیلئے دن میں کی جانے والی سرگرمیوں کو جہاں تک ممکن ہوسکے پہلے سے طے کر لیں۔ سونے، جاگنے، کھانے، کام کرنے اور کھیلنے کے وقت کو معمول پر لانے سے زندگی مستحکم محسوس ہوگی۔
بچوں کو ان کے سوشل نیٹ ورک سے منسلک کریں
 آپ کا بچہ اپنے دوست کو ویڈیو کال کرے، اس میں اس کی مدد کے لئے آپ ٹیکنالوجی کا استعمال کرسکتی ہیں یا ایسا موقع تلاش کرسکتی ہیں جس میں بچے چھوٹے گروپ میں محفوظ طریقے سے ایک ساتھ وقت گزاریں۔
ایمانداری سے بات چیت کریں
 اگر کنبہ ملازمت سے ہاتھ دھونے، معاشی تنگی وغیرہ جیسے مشکل وقت سے گزر رہا ہے، تو بچے کے ساتھ ایمانداری سے بات کرنے سے مدد مل سکتی ہے۔ بات چیت کو حقیقت پر مبنی رکھیں، بچے کو واضح طور پر سمجھائیں کہ اسے کس طرح اس صورتحال کا سامنا کرنا چاہئے، اور سب سے ضروری ہے کہ گھر والے ایک ساتھ مل کر اس مشکل وقت کا سامنے کریں گے۔
یقین دلائیں
 جب کنبے کا کوئی ایک فرد اسپتال میں ہے، بیمار ہے، قرنطینہ یا آئسولیشن میں جاتا ہے، تب بچے کو اس کے بارے میں سمجھانے کا طریقہ بہت واضح انداز میں ہونا چاہئے جس سے کہ بات اس کی سمجھ میں آجائے۔ بچے کی فکر اور خوف کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ بچے کو یہ بھی بتائیں ہم سبھی بیمار شخص کو ٹھیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
 آخر میں، بچوں کو وقت دیں، ان سے بات چیت کریں، اس سے بچہ اچھا محسوس کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK