لڑکیوں کے قومی دن کا پیغام؛ ہر لڑکی اہم اور خاص ہے

Updated: January 23, 2020, 11:00 AM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

ہندوستان میں خواتین کی حیثیت میں گزشتہ چند ہزار سال میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ۔ قدیم دور کی پست حیثیت عورت سے قرون وسطی تک کا دور، جس میں کئی مصلحین کی طرف سے مساوی حقوق دیئے جانے تک، ان کی تاریخ بھرپور رہی ہے۔ لڑکی پر ظلم و زیادتی کی تاریخ جتنی قدیم ہے خاتون کے روپ میں اس کے عزم و ہمت کی داستان بھی اتنی ہی پرانی ہے۔

لڑکیوں کے قومی دن کا پیغام؛ ہر لڑکی اہم اور خاص ہے
ہر سال ۲۴؍ جنوری کو لڑکیوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

ہندوستان میں خواتین کی حیثیت میں گزشتہ چند ہزار سال میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ۔ قدیم دور کی پست حیثیت عورت سے قرون وسطی تک کا دور، جس میں کئی مصلحین کی طرف سے مساوی حقوق دیئے جانے تک، ان کی تاریخ بھرپور رہی ہے۔ لڑکی پر ظلم و زیادتی کی تاریخ جتنی قدیم ہے خاتون کے روپ میں اس کے عزم و ہمت کی داستان بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ جدید ہندوستان میں ، صنف ِ نازک کئی اعلیٰ دفاتر تک پہنچ چکی ہیں بشمول صدر، وزیر اعظم، ہندوستان کی لوک سبھا کی اسپیکر، یونین کونسلر، وزرائے اعلیٰ اور گورنر وغیرہ۔ تاہم، ہندوستان میں لڑکیوں کو جنسی تشدد اور صنفی عدم مساوات جیسے متعدد مسائل کا اب بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 ہندوستان میں ہر سال ۲۴؍ جنوری کو لڑکیوں کا قومی دن یعنی نیشنل گرل چائلڈ ڈے منایا جاتا ہے۔ (لڑکیوں کا عالمی دن ہر سال ۱۱؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔) اس طرح سے ایک دن مخصوص کرنے کے پیچھے ملک میں لڑکیوں کو نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ملک میں لڑکیوں کے ساتھ کئی محاذوں پر عدم مساوات برتا جاتا ہے خصوصاً تعلیم، تغذیہ، قانونی چارہ جوئی، طبی امداد، عزت وآبرو، کم سنی میں شادی، وغیرہ۔
 اس دن کی تقاریب کا آغاز وزارت برائے خواتین و اطفال کی جانب سے ۲۰۰۸ء سے شروع ہوا۔ اس مہم کے ذریعے ہندوستانی حکومت معاشرے میں خواتین کے ساتھ عدم مساوات کے مختلف پہلوؤں کو منظرعام پر لارہی ہے۔
 اس دن کو منانے کے کئی مقاصد ہیں ،جیسے لڑکیوں کے قومی کردار کو اہمیت دینا ، عدم مساوات ختم کرنا، خواتین میں انسانی حقوق کا تحفظ، جنسی تناسب کا تحفظ، ملک میں لڑکیوں کے حقوق اور قبل از پیدائش جنس کے تعین پر قانونی روک وغیرہ ہیں ۔ علاوہ ازیں ، ملک میں کمسنی کی شادی قابل سزا جرم ہے، ۱۴؍ سال تک تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح سرکاری ملازمتوں ، پارلیمانی اور مقامی نشستوں پر ایک تہائی تحفظ خواتین کے لئے ہے۔اس دن ملک کے اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جاتا ہے کہ ہر لڑکی اہم اور خاص ہے اور ہمارا ادارہ انہیں بہتر سے بہتر سہولیات اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ۲۴؍ جنوری یعنی ایک دن بعد لڑکیوں کا قومی دن ہے، اس کی مناسبت سے چند ماؤں سے چائلڈ گرل یعنی ’’بیٹی‘‘ کے تعلق سے بات چیت کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔

بیٹیوں نے پورے گھر کی ذمہ داری سنبھالی
لمبی سیمنٹ (مولانا آزاد روڈ) کی رہنے والی شبنم انور احمد انصاری ۴؍ بیٹیوں کی والدہ ہیں ۔ وہ اپنی بیٹیوں کی پرورش کے تعلق سے کہتی ہیں کہ ’’مَیں نے چاروں بیٹیوں کی پرورش اس انداز میں کی ہے وہ کبھی خود کو کمزور نہیں سمجھیں گی۔ وہ اس قابل ہیں کہ ہر حالات کا مقابلہ کرسکتی ہیں ۔‘‘ وہ اپنی ۲؍ بڑی بیٹیوں سے متعلق کہتی ہیں کہ ’’میری ۲؍ بڑی بیٹیوں نے اپنے پورے گھر والوں کو سنبھالا ہے۔ چونکہ میرے شوہر ٹیکسی ڈرائیور ہیں ، وہ اتنا کما نہیں پاتے کہ آج کے مہنگائی کے دور میں کافی ہو۔ اس لئے میری ۲؍ بیٹیاں پڑھ لکھ کر ملازمت کرکے اپنے گھر والوں کو مالی سپورٹ فراہم کر رہی تھیں ۔ حال ہی میں ان دونوں کی شادیاں ہوگئی ہیں ۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ ماں آپ فکر مت کیجئے، شادی ہوجانے کے بعد یہ مت سمجھئے کہ ہم پرائی ہوگئی ہیں ، ہم ہمیشہ آپ کا سہارا بنیں گی۔‘‘ ان کی یہ بات سن کر خوشی ہوتی ہے۔
 شبنم انصاری جذباتی انداز میں کہتی ہیں کہ مجھے میرے سسرال والے اکثر بیٹیوں کے تعلق سے طعنہ دیتے تھے مگر مَیں نے کبھی بھی یہ محسوس نہیں کیا کہ کاش! مجھے ایک بیٹا ہوتا۔ میری بیٹیاں بیٹوں سے کم نہیں ہے۔

تنہا جڑواں بیٹیوں کی پرورش کی
بائیکلہ سے تعلق رکھنے والی رابعہ شیخ جڑواں بیٹیوں کی والدہ ہیں ۔ انہوں نے تنہا اپنی بیٹیوں کی پرورش کی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جڑواں بیٹیوں کی پیدائش کے سبب ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی تھی۔ وہ کہتی ہے ’’میری بیٹیوں کی پیدائش کے فوراً بعد ہی میری طلاق ہوگئی تھی۔ گھروالوں کا دباؤ ہونے کے باوجود مَیں نے دوسری شادی نہیں کی بلکہ یہ عزم کیا کہ ان کی پرورش اس انداز میں کروں گی کہ میری بیٹیاں خود مختار ہو جائیں اور آج تک مَیں اسی بات پر قائم ہوں ۔‘‘
 رابعہ شیخ بچوں کو دینی تعلیم دیتی ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنی بیٹیوں کی پرورش کی، میری بیٹیوں کی پرورش میں میرے میکے والوں نے کافی تعاون کیا، جس میں میرے مرحوم والد کا خاصا رول رہا ہے۔ اکثر بیٹی کی پیدائش پر شوہر اور سسرال والوں کا رویہ غیر انسانی ہوتا ہے۔ اس رویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مَیں سمجھتی ہوں کہ بیٹا اور بیٹی دونوں ہی اہمیت رکھتے ہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ میری بیٹیاں باپ کی شفقت سے محروم رہیں ۔ (معاشرے کو مخاطب کرتے ہوئے) پلیز! بیٹی کو بوجھ یا زحمت سمجھ کر اس کو اپنے سے الگ مت کیجئے، بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔

بہوئیں ہی میری بیٹیاں ہیں 
ساکی ناکہ، کرلا کی رہائشی فاطمہ بی شیخ ۵؍ بیٹوں کی ماں ہیں ۔ ۵؍ بیٹے چھوٹے چھوٹے تھے تب ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ نامساعد حالات میں انہوں نے اپنے بیٹوں کی اچھی پرورش کی۔ اکثر لوگ انہیں کہتے تھے کہ ۵؍ بیٹے ہیں ، بڑی نصیب والی ہے مگر وہ ہمیشہ سے بیٹی کی کمی محسوس کرتی تھی۔ وہ کہتی ہیں ’’کوئی مجھ سے پوچھتا کہ کتنے بچے ہیں ، تو مَیں کہتی کہ ۵؍ بیٹے ہیں تو سامنے والا کہتا ’’راج کرو گی بہن۔‘‘ مگر مَیں اس بات سے رنجیدہ ہوجاتی تھی کہ میرے پاس بیٹی نہیں ہے۔ یقیناً بیٹیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں جس کی کمی کو میں شدت سے محسوس کرتی تھی۔ مَیں زیادہ تر گھر میں اکیلی رہتی تھی تب احساس ہوتا تھا کہ کاش! بیٹی ہوتی تو میری مدد کرتی، کبھی کوئی غم یا خوشی کی بات اس سے کہتی مگر جیسے جیسے بیٹے بڑے ہوتے گئے تو احساس ہوا کہ بیٹی نہیں ہے تو کیا ہوا ۵؍ بیٹے ہیں تو ۵؍ بہوئیں بھی گھر آئیں گی۔ اس بات سے مَیں اپنے بیٹوں کی شادی کا انتظار کرنے لگی۔ اب میرے گھر میں ۳؍ بیٹیاں (بہوئیں ) ہیں ۔ مَیں نے انہیں اپنی بیٹیاں ہی سمجھا ہے اور اس بات کی خوشی ہے وہ بھی مجھے میری بیٹی ہونے کا ہی احساس دلاتی ہیں ۔‘‘ وہ آخر میں پیغام دیتے ہوئے کہتی ہیں بیٹی چاہے اپنی ہو یا پرائے گھر سے بیاہ کر لائی ہوئی ہو، بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے۔

women Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK