یہ عادتیں آپ کی خوبصورتی چھین سکتی ہیں

Updated: March 18, 2020, 3:54 PM IST | Inquilab Desk

کافی پینے کے بعد برش کرنا، تیز گرم پانی سے نہانا، کئی بیوٹی پروڈکٹس کا استعمال کرنا، چہرے کو سختی سے رگڑنا جیسی عادتوں کے سبب آپ کے چہرے کی خوبصورتی ماند پڑ سکتی ہے۔ زیر نظر مضمون میں ایسی ہی چند عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے، اگر یہ عادتیں آپ میں ہیں تو آج ہی بدل لیجئے

Beauty Habits - Pic : INN
یہ عادتیں آپ کی خوبصورتی چھین سکتی ہیں ۔ تصویر : آئی این این

خوبصورت نظر آنے کے لئے ہم کیا کچھ نہیں کرتے۔ مہنگے مہنگے میک اپ اور اسکن کیئر پروڈکٹ خریدتے ہیں اور کھان پان پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ سب کرنے کے باوجود ہماری کچھ ایسی عادتیں ہیں جو ہماری خوبصورتی کو کم کرسکتی ہے۔ جی ہاں! متوازن غذا اور جلد کی اچھی دیکھ بھال کے باوجود، اپنی کچھ غلط عادتوں کی وجہ آپ کے چہرے کی خوبصورتی ماند پڑ سکتی ہے۔ ذیل میں جانیں ان عادتوں کے بارے میں جو خوبصورت کو کم کرنے کا کام کرسکتی ہیں:
کافی پینے کے بعد برش کرنا
 یہ بات سچ ہے کہ کافی، سوڈا اور فروٹ جوس میں موجود ایسڈ یا شوگر دانتوں کے انیمل کو نقصان پہنچاتے ہیں لیکن آپ کو ان سب مشروبات کا استعمال کرنے کے فوراً بعد دانتوں کو اسکرب نہیں کرنا چاہئے۔ کوئی بھی ایسڈ والے فوڈ یا ڈرنکس کے استعمال کے فوراً بعد برش کرنے سے دانتوں کا انیمل کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے بجائے پانی سے کلی کرلیں اور ایسا کوئی مشروب پینے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی برش کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کے دانتوں کی خوبصورتی اور مضبوطی قائم طویل عرصے تک رہتی ہے۔
خشک بالوں میں سوئمنگ
 سوئمنگ پُل کے پانی میں کئی کیمیکلز ہوتے ہیں جو کہ بالوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لئے خشک بالوں میں سوئمنگ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ سوئمنگ پُل میں جانے سے پہلے اپنے بالوں کو نل کے پانی سے دھو لیجئے۔ سوئمنگ کرنے کے فوراً بالوں کو اچھی طرح سے شیمپو ضرور کرلیں۔ اس سے آپ کے بالوں کی خوبصورتی، چمک اور مضبوطی قائم رہتی ہے۔
بہت زیادہ شیمپو کرنا
 شیمپو اسکیلپ یعنی سر کی جلد سے نکلنے والے قدرتی تیل کو ختم کرتا ہے۔ اس لئے اگر آپ بہت زیادہ شیمپو استعمال کرتی ہیں تو اس کی وجہ سے آپ کے بال خشک اور بے جان ہو سکتے ہیں۔ آپ اپنے بالوں کے ٹائپ کے مطابق یہ طے کر سکتی ہیں کہ آپ کو ہفتے میں کتنی بار بال دھونے کی ضرورت ہے۔ ویسے ماہرین کہتے ہیں کہ  ہر ۲؍ سے ۳؍ دنوں میں بال دھونا صحیح رہتا ہے۔ لہٰذا روزانہ بالوں کو دھونے سے گریز کریں۔
کان کا میل صاف کرنا
 اکثر لوگ کان کا میل صاف کرنے کے لئے بڈز کا استعمال کرتے ہیں، جو کہ صحیح نہیں ہے۔ کان صاف کرنے والا بڈز ایئر ویکس یا میل کو اور زیادہ اندر تک پہنچا دیتا ہے۔ اس سے کان کے پردے اور سننے میں مدد کرنے والی  کان کی چھوٹی ہڈیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کان میں جمع میل یا ویکس کو صاف کرنے کے لئے آپ ڈاکٹر کی مدد بھی لے سکتے ہیں۔
گرم پانی سے نہانا
 گرم پانی سے جلد خشک ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کو ایگزیما ہے تو گرم پانی سے نہانے سے آپ کی دقت اور بھی بڑھ سکتی ہے، اس لئے زیادہ دیر تک گرم پانی سے نہانے سے گریز کرنا چاہئے، اس کے علاوہ تیز گرم پانی جلد کی نمی چھین لیتی ہے۔ لہٰذا تیز گرم پانی استعمال کرنے کے بجائے نیم گرم پانی سے نہانا بہتر ہے۔ 
چہرے کو سختی سے دھونا
 کئی لوگ فیس واش کو چہرے پر تیزی سے رگڑتے ہوئے لگاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ چہرے پر رگڑنے سے میل صاف ہو جاتی ہے مگر یہ جلد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ چہرہ دھوتے وقت ہمیشہ انگلیوں کے پور سے ہلکی مساج کرنی چاہئے۔ دن میں ایک یا دو بار نیم یا ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھونا بہتر ہوتا ہے۔ کبھی بھی تیز گرم پانی سے چہرہ نہ دھوئیں۔ کیمیکل سے بھرپور فیس واش اور کلینزر کا استعمال نہ کریں۔
کئی بیوٹی پروڈکٹس کا استعمال
 آپ کو اپنی جلد پر بہت سارے بیوٹی اور اسکن کیئر پروڈکٹ کا استعمال کرنے کے بجائے صرف کلینزر، موئسچرائزر، ایس پی ایف ۳۰؍ یا اس سے زیادہ ایس پی ایف کا سن اسکرین لگانا چاہئے۔ سیرم بہت مہنگا ہوتا ہے اور اس کے فائدے بھی کچھ خاص نہیں ہوتے ہیں جبکہ ٹونر سے جلد خشک ہو سکتی ہے۔ کیل و مہاسے والی جلد پر سلائیلیک ایسڈ اور بینجوئل پیراآکسائیڈ سے بھرپور مصنوعات کا استعمال نہ کریں۔
بالوں کو دھوپ سے نہ بچانا
 جلد کے ساتھ ساتھ بالوں کو بھی دھوپ سے نقصان پہنچتا ہے اس لئے آپ کو دھوپ میں نکلنے سے پہلے بالوں پر بھی سن اسکرین لگانا چاہئے۔ دھوپ کی وجہ سے بالوں کا رنگ خراب ہوسکتا ہے، بال روکھے اور بے جان ہو سکتے ہیں اور ان میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے یا وہ کمزور ہوکر جھڑ سکتے ہیں۔
 اگر آپ بھی اب تک اپنی زندگی میں ان غلط عادتوں کو اپناتے آئے ہیں تو اب ایسا کرنا ترک کر دیجئے ورنہ بڑھاپے سے قبل ہی آپ کی خوبصورتی میں گرہن لگ جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK