غیر صحتمند عادتوں سے خواتین یوں پیچھا چھڑائیں

Updated: June 28, 2022, 11:38 AM IST | Dr.Sharmeen Ansari | Mumbai

آج ہر کوئی اپنی صحت کی جانب توجہ دے رہا ہے لیکن خواتین کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ خواتین کا زیادہ تر دھیان اور رجحان اپنی ذمہ داریوں کی طرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غذا اور صحتمند عادتوں پر توجہ نہیں مبذول کرپاتیں جس کی وجہ سے اکثر خواتین نقصان اٹھاتی ہیں۔ ان عادات سے پیچھا چھڑانا ضروری ہے

Giving preference to healthy foods over untimely hunger will be a bargain.Picture:INN
وقت بے وقت بھوک لگنے پر صحت بخش اشیاء کو ترجیح دینا فائدہ کا سودا ثابت ہوگا۔ تصویر: آئی این این

کورونا کے بعد لوگوں نے صحت کی اہمیت کو سمجھا اور جانا ہے۔ آج ہر کوئی اپنی صحت کی جانب توجہ دے رہا ہے لیکن خواتین کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ خواتین کا زیادہ تر دھیان اور رجحان اپنی ذمہ داریوں کی طرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غذا اور صحتمند عادتوں پر توجہ نہیں مبذول کرپاتیں جس کی وجہ سے اکثر خواتین نقصان اٹھاتی ہیں۔اس مضمون میں چند ایسی عادتیں بتائی جارہی ہیں جن سے پرہیز کرکے خواتین اپنی صحت کو بہتر بناسکتی ہیں:
بڑی پلیٹ میں کھانا
 اکثر خواتین کھانے کے لئے بڑی پلیٹ استعمال کرتی ہیں، جس میں زیادہ کھانا بھی کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ اضافی کھانا خواتین کے وزن کی بڑھوتری اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتاہے۔ کارینل یونیورسٹی کے فوڈ سائیکالوجسٹ برائن واننگ، پی ایچ ڈی نے دریافت کیاہے کہ آپ جتنی بڑی پلیٹ یا پیالے سے کھاتے ہیں، آپ نادانستہ طور پر زیادہ کھانا کھاتے ہیں۔حل: خواتین کو چاہئے کہ وہ چھوٹی پلیٹوں میں کھائیں اور اپنی ڈنر پلیٹ کو سلاد پلیٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ کسی پیکٹ یا کنٹینر سے کھانے کے بجائےپلیٹ میں نکال کر کھائیں۔
رات کاکھانا
 اگر ہم اپنی غذائی عادتوں پر نظر ثانی کریں تو ہم ناشتہ کم کرتے ہیں، دوپہرکاکھانااس سے زیادہ کھاتے ہیں اور رات کا کھانا سب سے زیادہ کھاتے ہیں جبکہ ہونااس کے برعکس چاہئے۔ ناشتہ بھرپور، اس سے کم دوپہر کا کھانا اور سب سے کم رات کا کھانا۔ رات کا کھانا زیادہ کھانے کی وجہ سے خواتین کا نہ صرف وزن بڑھتا ہے بلکہ وہ سستی اور کاہلی کا شکار بھی ہوجاتی ہیں۔ حل: رات کا کھانا تقریباً ۷ ؍ بجے تک کھا لیں۔ اس کے بعد کچھ کھانے سے گریز کریں اور اگر بھوک زیادہ ستائے تو سلاد یا پھل کو ترجیح دیں۔ 
غیر ضروری کھانا
 چند خواتین مسلسل کچھ نہ کچھ کھانے کی عادت ہوتی ہیں۔ ان میں سے اکثر کھانے یا اسنیک زیادہ کیلوری والی، زیادہ چینی والے اور کاربو ہائیڈریٹ بھرے ہوتے ہیں۔ نارتھ کیرولاننا میں ہونے والی حالیہ تحقیق سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف خواتین کے لئے مسئلہ نہیں، بچے بھی زیادہ مقدار میں جنک فوڈ کھا رہے ہیں جس کی وجہ سے خواتین اور بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ 
حل: صحت بخش اسنیکس کھائیں، جیسے ککڑی، گاجر، پاپ کارن، دہی، بادام وغیرہ۔ بچّوں کو بھی صحت بخش چیزیں کھانے کیلئے دیں۔ 
ناشتہ ترک کرنا
 اکثرخواتین صبح کا ناشتہ ہی نہیں کرتی ہیں جبکہ ناشتہ دن بھر کا سب سے اہم کھانا ہوتا ہے جوآپ کو پورے دن توانائی فراہم کرتا ہے اوراسے چھوڑنے پر میٹا بولزم سست ہونا شروع ہوجاتا ہے اور خواتین کئی مسائل اور بیماریوں سے دوچارہوجاتی ہیں۔ 
حل: خواتین کو چاہئے کہ اپنی مصروفیت کے سبب ناشتے کو نظرانداز نہ کریں اور دن بھر کے کھانے کے مقابلے ناشتے میں زیادہ اہتمام کریں۔ 
جذباتی کھانا
 اکثر خواتین محض پیٹ بھرنے کے لئے کھاتی ہیں جبکہ کھانے سے ہمیں توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اکثر خواتین کاموڈ کھاتے وقت بہت خراب ہوتا ہے یابچوں کی وجہ سے ذہنی تناؤیا دباؤکاشکار ہوتی ہیں اور ایسے جذبات لے کر کھاناکھانے سے فائدے کے بجائے بے شار نقصانات ہوتے ہیں۔ حل: خواتین کو چاہئے کہ وہ کھاناکھاتے وقت اپنا موڈ خوشگوار رکھیں۔ اگر وہ تناؤ کا شکار ہیں تو انہیں چاہئے کہ تھوڑی دیر کیلئے چہل قدمی کرلیں یا سہیلی سے باتیں کریں۔
بہت جلدی کھانا
 اکثر خواتین ذمہ داریوں کی وجہ سے بہت جلدی جلدی یا تیز رفتاری سے یا کھڑے ہوکر کھانا کھاتی ہیں جس کی وجہ سے کھاتے وقت انہیں احساس نہیں ہوپاتا کہ وہ ضرورت سے زیادہ کھارہی ہیں اس کے علاوہ اس طرح جلدی جلدی کھانے سے کھانا برابر چبایا بھی نہیں جاتا، جس کی وجہ سے اکثر خواتین بد ہضمی اور پیٹ کے مسئلے کا شکار ہوتی ہیں۔ ۳۲۰۰؍ خواتین پر کی گئی تحقیق میں جاپانی محقق نے پایا کہ خواتین کا اس طرح جلدی جلدی کھانا ان کے وزن کی بڑھوتری کا سبب بنتا ہے۔ حل: خواتین کو چاہئے کہ اطمینان سے کھانا کھائیں۔ ہرنوالے کوتقریباً ۳۲؍ مرتبہ چبائیں۔
بھرپورنیند نہ لینا
 ایک تحقیق کے مطابق، جو خواتین رات میں پانچ گھنٹے یا اس سے کم سوتی ہیں ان کا وزن ۷؍ گھنٹے سونے والی خواتین سے زیادہ ہوتا ہے۔ حل: خواتین اپنا ایک خاص روٹین بنائیں اور مقررہ وقت پر ہی سونے اور اٹھنے کی کوشش کریں اور سونے سے قبل کمپیوٹر یا موبائل کے استعمال سے پرہیز کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK