ملازمت پیشہ خواتین کو ہمت سےکام لینے کی ضرورت

Updated: December 28, 2020, 4:38 PM IST

ملازمت پیشہ خواتین کے بہت سے مسائل ہیں جن کے بارے میں سوچ کر الجھن ہوتی ہے ، خاص طور پر گھریلومسائل زیادہ پریشان کرتے ہیں  شیر خوار بچوں کی پر ورش ایک بڑا اور حساس مسئلہ ہے ۔ ان پر زیادہ دھیان نہیں دینا چاہئے اور عزم وحوصلہ کی داستانوں سے سبق لے کر آگے بڑھنا چاہئے

Picture.Picture :INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

ملازمت پیشہ خواتین اکثر پریشان ہوجاتی ہیں ۔ کبھی  وہ دفتری اور گھریلو دونوں طرح کی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں ۔  الجھن کا شکار ہوجاتی ہیں۔  ہر وقت ان کے بارے میں سوچتی  رہتی ہیں۔ آفس میں کسی نے کچھ کہہ دیا تو اس میں بھی الجھ جاتی ہیں۔ کسی کے دیکھنے کے انداز  پر وہ طرح طرح کے  اندیشوں میں گھر جاتی ہیں۔ ان کے ٹرانسپورٹ کے مسائل الگ ہوتے ہیں ۔سفر کے دوران  انہیں  دشواریاں  ہوتی ہیں  جس پر  ایک علاحدہ مضمون لکھا جاسکتا ہے۔  انہیں  چور اچکو ں کے ساتھ ساتھ بہت سی گھورتی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بعض دفعہ   فقرے بھی سننے پڑتے ہیں  اور انہیں نظر اندا ز کرکے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ سمجھدار ملازمت پیشہ خواتین ان سب  چیزوں پر کچھ دن دھیان دیتی ہیں ، پھر انہیں معمولات کا حصہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتی ہیں  اور مستقبل کو بنانے سنوارنے میں اپنی توانائی صرف کرتی ہیں۔  یہ سب گھر  کے باہر کے مسائل ہیں  لیکن  جب  ایسی ملازمت پیشہ خواتین گھر میں داخل ہوتی ہیں تو وہ  بعض دفعہ خود کو کوستی ہیں اور سوچتی ہیں کہ ملازمت کرنے سے ان کا گھر متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے بچوں کی اچھی طرح پر ورش نہیں   ہورہی ہے۔      اس پر وہ زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن گھر کے دیگر افراد سے بات چیت کرکے انہیں بڑی حد تک اطمینا ن ہوجاتا ہے۔ کچھ گھریلو معاملات میں وہ انتہائی حساس رہتی ہیں ، مثلاًوہ اپنے نو زائیدہ یا شیر خیر بچے کی پرورش   کے بارے میں سوچ سوچ کر زیادہ پریشان ہوجاتی ہیں ۔ اکثر ملازمت پیشہ مائیں اپنے شیرخوار بچوں کی  ضرورتیں پوری نہیں کر پاتی ہیں۔ ایسی صورت میں بچے کو ڈبے کا دودھ پلانا  ہو تا ہے۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اوسطاً ساڑھے۳؍ سو سے ۴؍ سوروپے  تک دودھ کا ایک ڈبا بچے کی ۵؍دن کی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے۔ اس طرح ہر مہینے ایک  بڑی رقم دودھ  پر بھی خرچ ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں دفاتر یا فیکٹریوں میں بچوں کیلئے ڈے کیئر یا بے بی کیئر کا رواج نہیں۔یہاں تک  بہت سے اداروں میں ملازمت کرنے والی خواتین ’میٹرنٹی لیو‘ کی سہولت سے محروم ہیں۔ ان خواتین کو مجبوراً بچے کو اوپر کا دودھ دینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر بھی ماؤں کیلئے کوئی ایسی جگہ مختص کرنے کا رواج نہیں جہاں وہ بچے کو دودھ پلاسکیں چنانچہ گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لئے کوشش ہونی چاہئےکہ گھر سے نکلنے سے پہلے ہی بچے کا پیٹ بھر دیا جائے لیکن یہ مسئلےکا مستقل حل نہیں ہے ۔ اس مسئلے پر  خواتین کے حقو ق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی  توجہ دینی چاہئے۔ اداروں کو بھی اس کا  بہترین حل تلا ش کرنا چاہئے۔ حکومت کی جانب سے بھی بیداری مہم چلانی چاہئے۔ یہ ملازمت پیشہ خواتین کا ایک جذباتی مسئلہ   ہے ۔ ایسے ہی کتنے مسائل ہیں ؟ جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کررہا ہے ۔ انہیں کمزور کررہا ہے۔  آپ نے بہت سی  ملازمت پیشہ خواتین کی  داستانیں سنی ہوں گی۔ ان میں کچھ  آ پ کو ملازمت کرنے سے روکتی ہوں گی لیکن ان میں کچھ عزم و حوصلے کی بھی داستانیں ہیں۔ کتنی ہی خواتین نے گھریلوتشددکا سامنا کیا ؟ اس کے با وجود اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گھر چلانے کیلئے  ہنستے مسکراتے ہوئے ملازمت کی۔ ایسی ہی خواتین مشعل راہ   ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK