کورونا کی دوسری لہر نے بینکوں کا املاک جوکھم بڑھادیا: موڈیز انویسٹر سروس

Updated: August 27, 2021, 11:27 AM IST | Agency | New Delhi

کورونا کی دوسری لہر سے جہاں ملک کو جانی نقصان ہوا ہے وہیں اس وباء نے مالی طور پر بھی پریشانیاں پیدا کی ہیں۔ موڈیز انوسیٹرس سروس نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کووڈ وباء کی دوسری لہر نے ہندوستانی بینکوں کیلئے املاک جوکھم کو بڑھادیا ہے۔

According to Moody`s, tensions have risen between individuals and small businesses.Picture:INN
موڈیز کے بقول افراد اور چھوٹے کاروباروں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔ تصویر: آئی این این

 کورونا کی دوسری لہر سے جہاں ملک کو جانی نقصان ہوا ہے وہیں اس وباء نے مالی طور پر بھی پریشانیاں پیدا کی ہیں۔  موڈیز انوسیٹرس سروس نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کووڈ وباء کی دوسری لہر نے ہندوستانی بینکوں کیلئے املاک جوکھم کو بڑھادیا ہے۔ تاہم اس میں فی الوقت گراوٹ کا امکان نہیں ہے۔  ریٹنگ ایجنسی موڈیز نےیہ بھی کہا کہ ہندوستان میں کووڈ۱۹؍ کی دوسری لہر کے سبب افراد اور چھوٹے کاروباروں کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔ جوکہ شروعات میں کووڈ وباء کے سبب سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔  لیکن پھر بھی کئی ایسی وجوہات ہیں جو پرابلم لون میں تیزی اضافہ کو روکیں گے۔  موڈیز کے مطابق ملک میں معاشی بہتری کرنے کیلئے لون انڈرر ائٹنگ معیار کو سخت کرنے اور حکومتی تعاون جاری رکھنے سے پرابلم لون میں تیز اضافہ کو روکا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ ریٹنگ ایجنسی  موڈیز نے اپنی رپورٹ میں  یہ بھی کہا کہ وائرس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود خاص طور سے افراد اور چھوٹے کاروباریوں  کے درمیان نئے کریڈٹ لاس میں  ممکنہ اضافہ کے بعد بھی بینکوں کی کوالیٹی میں تشویشناک گراوٹ کا خدشہ نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ موڈیز کی نائب صدر اور سینئرکریڈٹ آفیسر الکا انبارسو نے اس معاملے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) کاروبار کیلئے فوری راحت دینے میں اثر دار رہی ہے۔ اس کے علاوہ سازگار سود شرح اور ’ڈیبٹ ری اسٹرکچرنگ اسکیمیں‘سرمایہ جوکھم کو کم رنا جاری رکھیں گی لیکن وباء سے پہلے شروع ہوئے بینکوں کی بیلنس شیٹ میں کوئی سدھار ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔
 موڈیز کی بیس لائن توقع یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں میں نان پرفارمنگ لونس(این ایل پیز) اگلے ۲؍ سال میں سالانہ گراس لون ۱ء۵؍ فیصد کی شرح سے بڑھ کر ۵۰؍ فیصد تک کا ہوجائے گا پھر بھی بینکوں کا اوسط این ایل پی شرح کافی حد تک مستحکم رہےگا جو پرانے این پی ایل کے حل کو ترغیب دینے کا کام کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK