گورکھپورکےقدیم اور تاریخی امام باڑہ اسٹیٹ کوسیاحتی مرکزکے طورپرفروغ دینےکامطالبہ

Updated: November 25, 2022, 11:24 AM IST | Agency | Gorakhpur

اس سلسلے میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آد تیہ ناتھ کو ضلع انتظامیہ کے توسط سےمیمورنڈم دیا گیا تاریخی امام باڑہ اسٹیٹ سماجی ایکتا اور عقیدت کا مرکز

Imambara State is also a symbol of Hindu-Muslim unity..Picture:INN
امام باڑہ اسٹیٹ ہندومسلم اتحاد کی بھی علامت ہے۔ تصویر :آئی این این

؍ ۳۰۰؍ سالہ قدیم امام باڑہ اسٹیٹ کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔  اس سلسلے میں  ہندو مسلم ایکتا کمیٹی اور امام باڑہ متولیان کمیٹی نے جمعرات کووزیراعلیٰ یوگی آد تیہ ناتھ کو مخاطب میمورنڈم ضلع انتظامیہ کو پیش کیا ہے۔تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ضلع کے متعدد مقامات کو سیاحتی مقامات کے دائرے میں لاکر ترقی سے ہمکنار کیا جارہا ہے۔ اس کے پیش نظر لازمی ہو جاتا ہے کہ ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت امام باڑہ اسٹیٹ کو بھی ڈیو لپ کر ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ‘ نعرے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ ہندو مسلم ایکتا کمیٹی کے صدر شاکر علی سلمانی کے مطابق شہر کے مختلف مذہبی مقامات کو سیاحتی مقام کے طور پر ڈیولپ کیا جا رہا ہے لیکن قومی ورثہ کا درجہ رکھنے والاامام باڑہ اسٹیٹ اس سے محروم ہے ۔ چار سال قبل اسٹیٹ کا سروے کرایا گیا ہے لیکن اب تک قابل ذکر اقدمات نہیں ہوسکے ہیں۔۳۰۰؍سالہ قدیم اسٹیٹ کی درودیوار اور عمارت بوسیدہ ہو رہی ہے ۔اس سے بلا تفریق مذہب عقیدت مندوں میں تشویش ہے۔  امام باڑہ متولیان کمیٹی کے صدر سید ارشاد احمد نے کہا کہ ہندومسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت اما م باڑہ اسٹیٹ کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو تی ہے۔ دیگر مذہبی مقامات کی طرح امام باڑہ اسٹیٹ کو بھی سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینا اشد ضروری ہے۔ راشٹریہ لوک تانترک جنتا دل کے ریاستی نائب صدر گوتم لال شریواستو نے کہا کہ امام باڑہ اسٹیٹ گورکھپور کی شانداروراثت اور تاریخ ہے۔ اس سلسلے میں گور نر سے بھی ملاقات کی جائے گی۔  دریں اثناءمتولیان کمیٹی کے جنرل سیکریٹری محمد سہراب خان نے کہا کہمیمورنڈم پیش کر نے والوں میں یوگیندر کمار گوڑ ایڈوکیٹ، عبدالرزاق ، سلمان علی، غلام علی ، سمیر سلمانی، شکیل احمد اور آفتاب احمد وغیرہ شامل رہے۔امام باڑہ اسٹیٹ سماجی ایکتا اور عقیدت کا مرکز ہے۔ ہندوستانی تاریخ میں سنی مسلک کے سب سے بڑے امام باڑہ کے طور پر اس کا شہرہ ہے۔۱۸ ؍ویں صدی میں صوفی سنت سید روشن علی شاہ کے ذریعہ قائم کردہ روایت آج بھی برقرار ہے۔محرم کے چاند کے ساتھ یہاں مرثیہ کی دھن بجنی شروع ہو جاتی ہے۔وہیںمحرم کی پانچویں، نویں اور دسویں کو نکلنے والا شاہی جلوس توجہ کا مرکز ہوتاہے۔۳۰۰ ؍سال سے زیادہ سے امام باڑہ اسٹیٹ سے شاہی جلوس نکل رہا ہے اور اس کو دیکھنے کیلئے دوردراز سے بلاتفریق عقیدت مند یہاں پہنچتے ہیں۔امام باڑہ میں سونے اور چاندی کا تعزیہ رکھا ہوا ہے۔  اودھ کے نواب آصف الدولہ نے حضرت روشن علی شاہ ؒکو یہ تعزیہ ہدیہ کیا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ صوفی سنت روشن علی شاہ تقریباً۱۷۰۷ء میں گورکھپور تشریف لائے تھے ۔اس وقت اودھ کے نواب آصف الدولہ تھے ۔ایک معروف واقعہ کے دوران نواب آصف الدولہ روشن علی شاہ کی بزرگی کے قائل ہوگئے اور انہوں نے روشن علی کی خواہش کے مطابق ۶ ؍ایکڑ زمین پر امام باڑہ کا تعمیر اتی کام شروع کرایا،جو۱۲ ؍سال تک جاری رہا اور ۱۷۹۶ ء میں مکمل ہوا ۔تب سے یہ امام باڑہ بلاتفریق مذہب   عقیدت کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ ماہ محرم کا چاند نظر آتے  ہی امام باڑے کے دروازے عقیدتمندوں کے لئے کھول دئے جاتے ہیں، جبکہ سونے اور چاندی کی تعزیہ کا دیدار ۳؍محرم سے عاشورہ تک( ۷؍ دن) کرایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK