سری لنکا میں آتشزدگی کا شکار ہونےوالا سنگاپور کا آبی جہاز بالآخر ڈوب گیا

Updated: June 04, 2021, 7:27 AM IST | Colombo

۲۰؍ مئی سے آتشزدگی کا شکار کیمیکل سے بھرے جہاز کے ڈوبنے سے پانی کے آلودہ ہونے اور ماحولیات کے متاثر ہونے کاخدشہ ہے ، ماہی گیری اور سیاحت پہلے ہی متاثر

Singapore plane sinks 2 weeks after crash (Photo: Agency)
حادثے کے ۲؍ ہفتے بعد سنگا پور کا جہاز غرقاب ہوا (تصویر: ایجنسی)

سری لنکا کی مرکزی بندرگاہ کولمبو کے قریب سمندر میں ایک مال بردار بحری جہاز ڈوب گیا ہے جس پر بڑی مقدار میں کیمیکل کے کنٹینر موجود تھے۔ بدھ کے روز سری لنکا کی حکومت نے بتایا کہ اس جہاز کا ڈوبنا ملک کی بحری حدود میں رونما ہونے والافضائی آلودگی کا بدترین واقعہ ہے۔ڈوبنے والے جہاز کا نام ایم وی ایکس پریس پرل ہے اور اس کا رجسٹریشن سنگاپور کی ہے۔ جہاز میں ۲۰؍ مئی کو اس وقت آگ لگ گئی تھی جب وہ کولمبو کی بندرہ گاہ پر لنگرانداز ہونے کیلئے کھلے سمندر میں اجازت ملنے کا انتظار کر رہا تھا۔
 سری لنکا کی نیوی نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ آگ کیمیکل کی وجہ سے لگی تھی۔ اس سے پہلے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جہاز پر کچھ کنٹینر  سے کیمیکل لیک ہو رہا تھا جس کا جہاز کے عملے کو بھی علم تھا۔ آگ جہاز کے اسی حصے میں لگی جہاں کیمیکل کے لیک ہونے کی اطلاع تھی۔ چونکہ جہاز پر بڑی مقدار میں پلاسٹک بھی لادا گیا تھا۔ اس نے تیزی سے آگ پکڑ لی اور پھر تیز سمندری ہواؤں نے آگ کا دائرہ پھیلانے میں مدد دی۔
 آگ پر قابو پانے کیلئے  بین الاقوامی کوشش کی گئی جس میں ہندوستان سمیت کئی ملکوں نے حصہ لیا لیکن اس پر کنٹرول نہ ہو سکا اور پلاسٹک کے جلے ہوئے ٹکڑوں نے کولمبو کے قریب واقع ایک تفریحی ساحلی علاقے کو بری طرح آلودہ کر دیا  جس کے بعد اسے عام لوگوں کیلئے بند کرنا پڑا۔پلاسٹک اور دیگر جلے ہوئے ٹکڑوں نے ماہی گیری کو بھی ناممکن بنا دیا اور سری لنکا کی حکومت نے ۸۰؍ کلومیٹر کے سمندری علاقے میں مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگا دی۔امدادی کارروائیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے لگی آگ بجھانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد جہاز بدھ کے روز ڈوبنا شروع ہوا۔ جس کے بعد سے جہاز پر موجود کیمیکل سمندر کے پانی میں شامل ہو رہے ہیں۔ایکس پریس پرل کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ ساحلی علاقے کو کیمیکل کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے عملے نے جہاز کو گہرے سمندر میں لے جانے کی سر توڑ کوششیں کیں، لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
 سری لنکا کی نیوی کے ترجمان کیپٹن اندیکا ڈی سلوا نے کہا ہے کہ نیوی کے ماہرین جہاز ڈوبنے کے بعد سمندر میں پھیل جانے والے تیل کو صاف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔سری لنکا میں ماحولیات کے ایک ماہر اجنتا پریرا نے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق جہاز پر ۸۱؍ کنٹینر میں خطرناک کیمیکل اور لگ بھگ ۴۰۰؍ کنٹینروں میں تیل موجود تھا۔ جہاز کے ڈوبنے سے سمندری ماحول بڑے پیمانے پرآلودہ ہونے کا خدشہ ہے۔بدقسمت مال بردار جہاز ۱۵؍ مئی کوہندوستانی بندرگاہ ہزیرہ سے روانہ ہوا تھا اور کولمبو کے راستے سنگاپور جا رہا تھا۔ یاد رہے کہ  اس جہاز  میں آگ لگنے کی وجہ سے ، ماہی گیری اور سیاحت دونوں متاثر ہوئی ہیں جو  سری لنکا کی اہم صنعتیں ہیں

sri lanka Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK