پارلیمنٹ میں سونیا گاندھی سے بدسلوکی

Updated: July 29, 2022, 12:20 PM IST | new Delhi

مہوا موئترا ور سپریا سُلے نے مذمت کی، موئترا نےبتایا کہ کانگریس سربراہ کو گھیر لیا گیا تھا۔ بی جےپی نے سونیا کو ہی مورد الزام ٹھہرایا، اسمرتی ایرانی کو دھمکانے کا الزام

Sonia Gandhi
سونیا گاندھی

لوک سبھامیں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری  کےذریعہ صدر جمہوریہ   دروپدی مرمو کو ’راشٹر پتنی‘ کہہ دینے پر احتجاج کرتے  ہوئے سونیا گاندھی کو بھی اس معاملے میں گھسیٹنے کی  مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کی کوشش کی وجہ سے  جمعرات کو لوک سبھا میں ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوگئی ۔اس دوران سونیا گاندھی اور اسمرتی ایرانی  کے درمیان کہاسنی ہوگئی۔کانگریس ہی نہیں  این سی پی کی خاتون رکن پارلیمنٹ سپریا سُلے اور ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا  نے بھی اس بات کی  ہے کہ کانگریس صدر کو بی جےپی کی اراکین پارلیمان  نے گھیر لیاتھا۔ دوسری طرف بی جےپی    اُلٹا سونیا گاندھی پر حملہ آور ہے اور اس نے ان پر اسمرتی ایرانی کو دھمکی دینے کا مضحکہ خیز الزام عائد کیا ہے۔ 
 سونیا اور اسمرتی میں تکرار کیسے ہوئی؟   
 صدر جمہوریہ کو ’راشٹرپتنی‘ کہنے پر بی جےپی کے اراکین پارلیمان احتجاج کررہے تھے۔اس   دوران جب سونیا گاندھی پارلیمنٹ کے احاطے میں  پہنچیں تو بی جےپی کی خاتون اراکین نے انہیں روک کر شکایت کی ۔ رما دیوی نے سونیا گاندھی   سے کہا کہ ’’آپ کے ایم پی ادھیر رنجن چودھری  صدر کے بارے  میں کیسے بیان دے رہے ہیں؟‘‘  اس  پر سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ادھیر رنجن نے معافی مانگ لی ہے مگر اس معاملے میں میرا نام کیوں  لیاگیا؟‘‘ان کے اتنا کہتے ہی اسمرتی ایرانی   نے مداخلت کی اور اپنے تیور بھرے انداز میں کہا کہ ’’مے آئی ہیلپ یو میڈم( کیا میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں )  میں نے آپ کا نام لیاتھا۔‘‘اس پر سونیا گاندھی نے ان سے کہا کہ ’’یو ڈونٹ ٹاک ٹو می(تم مجھ سے بات مت کرو۔)‘‘ الزام ہے کہ اتنا کہتے ہی اسمرتی ایرانی آپے سے باہر ہوگئیں۔ 
اسمرتی ایرانی   پر بداخلاقی کا الزام 
  کانگریس کا الزام ہے کہ اس کے جواب میں اسمرتی ایرانی چیخ پڑیں اور کہا کہ ’’آپ نہیں جانتیں، کہ میں کون ہوں۔‘‘ کانگریس کے مطابق’’ کئی دیگر پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ اور کانگریس اراکین پارلیمنٹ اس واقعہ کے گواہ ہیں۔‘‘  کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے بی جےپی سے سوال کیا کہ ’’یہ کون سی اخلاقیات ہیں؟  اسمرتی ایرانی ایک سینئر رکن پارلیمنٹ اور پارٹی  صدر کے ساتھ اس طرح مداخلت والے رویے پر کیوں آمادہ ہیں! یہ پارلیمنٹ اور سیاسی اخلاقیات کے خلاف ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK