سائبرلٹیرےفون کے میسیج ہیک کرکے فریب دہی میں سرگرم

Updated: March 18, 2021, 12:41 PM IST | Agency | New Delhi

آن لائن ٹرانزکشن کیلئے موبائل پر آنے والا او ٹی پی بھی غیر محفوظ

Cyber Crime - Pic : INN
سائبر کرائم ۔ تصویر : آئی این این

ڈیجیٹل دنیا میں کسی شخص کی ذاتی معلومات کا تحفظ کتنا مشکل ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روز بروز سائبر لٹیروں کے ذریعے فریب دہی کے معاملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے اور یہ لٹیرے   فریب دہی کیلئےٹکنالوجی کا استعمال کرکے نت نئے طریقے  اختیار کرہے ہیں۔
 ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف میں ہوا ہے کہ ا ب کسی شخص کے پاس موجود اسمارٹ فون  ہیک کرکے یہ لٹیرے اس کے میسیج  باکس  سے بھی  تمام خفیہ معلومات اکٹھا کرلیتے ہیں ۔
  رپورٹ  کے مطابق آن لائن بینکنگ کے استعمال کے دوران مخصوص ’او ٹی پی‘ کے  ذریعے بہت سارے لین دین  کئے جاتے ہیں  لیکن اگر اس دوران اگر کسی صارف کو او ٹی پی نہیں ملتا ہے تویہ کوئی عام مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بھی  آن لائن   فریب دہی کی علامت ہے۔ 
 سائبر سیکوریٹی ماہرین نے اب اس طرح کے سائبر حملے کے ایک نئے طریقہ کار کی نشاندہی کی ہے۔اس میں  ہیکرز کسی صارف کے موبائل فون سے ڈیٹا چوری کرنے کے لئے ایس ایم ایس کا استعمال کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق  ہیکرز کاروباری مقصد کے لئے بھیجے گئے ایس ایم ایس کا استعمال کرتے ہیں اور میںوہاإ موجود حساس معلومات کو فریب دہی کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اس میں سائبر مجرم یا ہیکرز فون کے پیغامات کو ہیک کرتے ہیں اور میسیجز کے آپشن کو ایک دوسرے فون پر ڈائیورٹ کردیتے ہیں ۔ اس دوران کسی کمپنی یا بینک کے ذریعہ بھیجے جانے والا  میسیج صارف تک نہیں پہنچ پاتا ہے اور ہیکرز تک پہنچ جاتا ہےاور وہ آسانی سےٹرانزیکشن کرلیتے ہیں۔صارف کو اس لئے بھی   پتہ بھی نہیںچل پاتا  کیونکہ اسے  لین دین سے متعلق الرٹ کرنے پیغام مل نہیں پاتے ہیں۔
 سائبر ماہر رتیش بھاٹیا نے بتایا کہ ہیکرز  ٹیلی فون سروس فراہم کرنے والے کمپنیوں کے ایس ایم ایس  بھیجنے کے نظام کو ہیک کرتے ہیں۔ اس میں پیغام بھیجنے کا خودکار نظام براہ راست طور کسی  دوسرےموبائل میں بھیج دیا جاتا ہے۔ سائبر زبان میں اسے’ ایکسپلوڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بھاٹیا کے مطابق اس طرح کی فریب دہی کو سمجھنے اور اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  ایسے معاملات سے بچنے کیلئے ہمیں مستند ایپ  ہی  استعمال کر نے چاہئے۔ مثال کے طور پر  اگر آپ پیسوں کے لین دین کیلئے گوگل پےکا استعمال کرتے ہیں تو پھر اس کی مصدقہ سائٹ کا ہی استعمال کریں۔اس احتیاط سے ڈیجیٹل  فریب دہی کا شکار ہونے سے بچا  جاسکتا ہے۔
  رپورٹ کے مطابق موبائل فون  کے میسیجز کے  ذریعے او ٹی  پی حاصل  کرکے لوٹ کے زیادہ تر معاملے امریکہ میں سامنے آئے ہیں لیکن اب دھیرے دھیرے ایسےمعاملےدیگر ممالک میں بھی بڑھتے جارہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK