کانگریس میں پارٹی صدر کے انتخاب کیلئےسرگرمیاں تیز،ہنوزکوئی فیصلہ نہیں

Updated: August 22, 2022, 2:14 PM IST | Agency | New Delhi

بیشتر لیڈران راہل کے حق میں لیکن وہ تیار نہیں، پرینکا، اشوک گہلوت،ملکارجن کھڑگے،سشیل کمار شندے بطور متبادل موجود

Rahul Gandhi.Picture:INN
راہل گاندھی ۔ تصویر:آئی این این

کانگریس صدرکےعہدہ کے انتخاب کےعمل کوایک مہینےکےاندرمکمل کرنےکیلئے نام طے کرنے کا عمل اتوارسے تیز ہوگیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ ۲۰؍ستمبر تک نئے صدرکاانتخاب کیا جائے گا۔ اس لیڈر نے کہا کہ ادے پوراجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ اس سال ۲۱؍ اگست سے ۲۰؍ستمبرکے درمیان نئے صدر کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ نیا صدر کون ہوگا۔انہوں نےبتایا کہ پارٹی کا ایک بڑا طبقہ سابق صدر راہل گاندھی کو دوبارہ صدر بنانا چاہتا ہے لیکن راہل گاندھی نے ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات میں پارٹی کی زبردست شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے اس عہدے سےاستعفیٰ دے دیا تھا اور پارٹی لیڈروں کی سخت تنقید کی تھی۔مطالبے کے باوجود وہ دوبارہ صدر بننے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ صدر کا عہدہ چھوڑتے ہوئے بھی ان پر استعفیٰ نہ دینے کا دباؤ تھا، لیکن جب  راہل گاندھی نے اس عہدے پر برقرار رہنا قبول نہیں کیا تو سونیا گاندھی کو نئے صدر کے انتخاب تک پارٹی کی عبوری صدر بنا دیا گیا۔
 کانگریس کے اس لیڈر کا کہنا ہےکہ پارٹی کا ایک طبقہ چاہتا ہے کہ۲۰۲۴ءمیںکانگریس کی مضبوطی کے لیےاسے عبوری نہیں بلکہ کل وقتی صدر کی ضرورت ہے۔ اس لیے کانگریس ورکنگ کمیٹی میں یہ فیصلہ کیا گیا، جو کہ اعلیٰ ترین پارٹی کی باڈی ہے،جو چاہتی ہےکہ ۲۱؍ اگست سے ۲۰؍ ستمبر تک پارٹی کےنئے صدر کی تقرری کا عمل مکمل ہو جائے۔
 راہل گاندھی نےتقریباً واضح کر دیا ہے کہ وہ دوبارہ صدر نہیں بنیں گے۔ اس صورت حال میں پارٹی کے اندر افراتفری کا ماحول ہے، جس پر قابو پانے کے لیے کئی لیڈر اتر پردیش کی جنرل سیکریٹری انچارج پرینکا گاندھی وڈرا کو نیا صدر بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو۲۰۲۴ءکے عام انتخابات میں کنبہ پروری کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کےجاری حملے کو بے اثر کرنے کے لیے گاندھی خاندان سے باہر کےکسی فرد کو کانگریس کا نیا صدر بنانے پر غور کر رہا ہے۔
 کانگریس کے اندر ہلچل ہے کہ اگر عام انتخابات کےپیش نظر گاندھی خاندان سے باہرکے کسی فرد کو صدر بنایاجاتا ہے تو اس میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت سب سے موزوں ثابت ہو سکتے ہیں، حالانکہ گہلوت پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر کے عہدے کے  دعویدار نہیں ہیں۔گہلوت وزیراعلیٰ بننے سے پہلے پارٹی میں جنرل سیکریٹری کے عہدہ پر فائز تھے اور انہیں سابق صدر راہل گاندھی کے بااعتماد سمجھا جاتا ہے۔
 کانگریس کے ایک اور لیڈر کا کہنا ہے کہ پارٹی کا ایک اور طبقہ ہے جو دلت،آدی واسی اور پسماندہ  طبقات کے ووٹوںکو حاصل کرنے کیلئے دلت لیڈر مکل واسنک، سشیل کمار شندے،کماری سیلجا اور ملکارجن کھرگے جیسے لیڈروں میں سے کسی کو صدر کے عہدے پر مقرر کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مکل واسنک اس دوڑمیں سب سے آگے ہوتے لیکن کانگریس کے ناراض گروپ ۲۳؍ کے لیڈروں نے پچھلی بار ان کا نام آگے بڑھایا تھا اس لیے وہ پارٹی قیادت کی پسند اور معتمد نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کو  پارٹی کے سابق صدر کے انتہائی قریبی اور انتہائی بااعتماد سمجھا جاتا ہے۔ کرناٹک قانون ساز اسمبلی کے  انتخابات بھی ہونے والے ہیں، اس سلسلے میں ان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے انہیں صدر بنانے کی قواعدچل سکتی  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK