افغانستان: صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے

Updated: July 21, 2021, 1:53 AM IST | kabul

کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، افغان صدر کا قوم سے خطاب، طالبان پر شدید تنقیدکی، عوام سے متحدہونےکی اپیل

Security personnel inspect a car destroyed in the attack.  Ashraf Ghani.Picture:PTI
حملے میں تباہ ایک کار کے پاس سیکوریٹی اہلکار جانچ کرتے ہوئے۔(انسیٹ) اشرف غنی تصویرپی ٹی آئی

: افغانستان  کے دارالحکومت  کابل میں صدراتی محل  کے قریب ریڈ زون کہلانے والے والے علاقے میں راکٹ حملے   ہوئے  ہیں۔ تادم تحریر ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی  اطلاع نہیں موصول ہوئی ہے لیکن اس سے متعلق سامنے آئی تصویروں میں تباہ شدہ گاڑیوں کے پاس سیکوریٹی اہلکاروںکو تفتیش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ  نے قبول نہیں کی ہے،
 واضح رہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے  بعد کابل  میں یہ پہلا حملہ ہوا ہے۔ افغان میڈیا  کے مطابق   ان  راکٹ حملوں کے وقت افغان صدراشرف غنی  ،  افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور  دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیدار صدارتی محل میں  عید کی  نمازادا کررہے تھے۔افغان  صدارتی محل کے آفیشل فیس بک پیچ پر پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ہےراکٹ گرنے کی آواز کے بعد کچھ  افراد سہم ضرور گئے لیکن  اس کے باوجود تمام افراد   نمازجاری ر کھے ہوئے تھے۔
 افغان سیکوریٹی حکام کے مطابق۳؍ راکٹ فائر  کئے گئے جو باغ علی مردان اور چمن ہوزوری کے علاقوں میں گرے۔وزارت داخلہ کے ترجمان  میر واعظ ستانکزئی نے کہا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تینوں راکٹس ایک پک اپ ٹرک سے فائر  کئے گئے  تھے، ان  میں سے   ایک راکٹ نہیں پھٹ سکا۔ اس  واقعہ کے بعد صدارتی محل کی سیکوریٹی مزید سخت کردی گئی ہے  اور اس  معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
   ان حملوں کےکچھ دیر  بعد صدر اشرف غنی نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ عید افغان سیکوریٹی فور سیز کے ان جوانوں کے نام کرتے ہیں جو خاص طور پر گزشتہ۳؍ ماہ کے دوران اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق  ہوچکے ہیں۔
 انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان   امن  کیلئے نہ ہی راضی ہیں اور نہ ہی ان کا اس طرح کا کوئی ارادہ ہے۔ اس کے برعکس افغان  حکومت نے امن کیلئے اپنے وفد  دوحہ مذاکرات میں بھیجے ۔ اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کی حالیہ سرگرمیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ  ان کی امن قائم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اورافغان حکومت  بھی اب اسی بنیادپر فیصلہ کرے گی۔غنی نے کہا کہ مذاکرات کے لئے دوحہ میں ایک اعلیٰ وفد بھیجنے کا حکومت کا فیصلہ ایک الٹی میٹم ہے۔ ہم نے امن قائم کرنے کے لئے وفدبھیجا ۔ ہم اس کے لئے قربانی کے لئے تیارہیں لیکن ان کی (طالبان) امن برقراررکھنے کی کوئی مرضی نہیں ہے  ۔ اب ہمیں اس کی بنیادپر ہی  فیصلہ کرنا چا ہئے۔ اشرف غنی نے دعویٰ کیا کہ عبداللہ عبداللہ نے کچھ منٹ پہلے  ہی ان سے کہا  کہ طالبان امن کیلئے بالکل رضامند نہیں ہے۔ 
  اشرف غنی نے گزشتہ برس طالبان کے ۵؍ ہزار قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو `بڑی ` قرار دیا۔ ان کے بقول ہم نے امن کے حصو  کیلئے طالبان کے قیدی رہا  کئے لیکن طالبان نے اب تک امن مذاکرات میں بامقصد  پہل  نہیں کی ہے۔  افغان صدر ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے اپنی کوششو  ں کا تذکرہ کیا اور عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔
  افغان صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے میڈیا کے کردار اور اس کے منفی پروپیگنڈے پر بھی شدید تنقید کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK