بہار کے بعد مدھیہ پردیش میں بھی کورونا اموات کیسچائی طشت از بام

Updated: June 13, 2021, 7:20 AM IST | Mumtaz Alam Rizvi | New Delhi

شیو راج سرکار کی جانب سے دئیے گئے اعداد و شمار سے ۴۰؍ گنا زیادہ اموات ،تفتیش کا زوردار مطالبہ

Most of the country`s state governments have been accused of concealing death figures from Corona.Picture:PTI
ملک کی بیشتر ریاستی حکومتوںپر کورونا سےاموات کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام عائد ہو رہا ہے تصویرپی ٹی آئی

بہار کے بعد اب مدھیہ پردیش سے بھی کورونا سے ہونے والی اموات کی حقیقی تصویر سامنے آ رہی ہے جو انتہائی خوفناک ہے۔ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو اپوزیشن کانگریس نے بے نقاب کیا ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر اب تک شیو راج سنگھ چوہان عہدے پر کیسے فائز ہیں؟  کثیر الاشاعت ہندی روزنامہ بھاسکر کی رپورٹ  کے مطابق اس سال مئی کے مہینے میں مدھیہ پردیش میں ایک لاکھ ۷۰؍ہزار لوگوں کی اموات ہوئی ہیں ۔  مدھیہ پردیش میں تنہا مئی کے مہینے میں ۶؍ مہینے کے برابر ریکارڈ ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی آر ایس(سِول رجسٹریشن سسٹم ) کے سرکاری ڈیٹا میں مدھیہ پردیش میں ۲۰۲۰؍ مئی میں ۳۴؍ ہزار اور ۲۰۱۹؍ میں ۳۱؍ہزار اموات  درج کی گئی تھیں  لیکن  اس سال ۳؍لاکھ ۵۰؍ہزار لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور یہ ۲۰۱۹ء کے مقابلہ قریب ایک لاکھ ۹۰؍ہزار زیادہ  ہے ۔ یہی نہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے ہونے والی اموات کی جو سرکاری رپورٹ دی گئی ہے اس سے ۴۰؍ گنا زیادہ اموات  مدھیہ پردیش میں ہوئی ہیں ۔ صرف بھوپال میں  اموات ۲۰۰۰؍ فیصد زیادہ ہوئی ہیں جبکہ اندور میں سب سے زیادہ ۱۹؍ ہزار لوگوں کی جان  صرف اس ایک ماہ میں گئی ہے۔  
 اس مسئلہ پر کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا نے اے آئی سی سی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا آنکڑوں سے سانپ اور نیولے والا رشتہ ہے ۔ گزشتہ سات سال میں یہ بات بہت عام ہو گئی ہے ۔ وہ نوکریاں ہوں ، معیشت ہو ، جی ڈی پی ہو ، تمام اعداد و شمار کو یا تو حکومت چھپاتی ہے یا کسی طرح سے وہ باہر آئیں تو ان سے مکرنے کی کوشش کرتی ہے  ۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں یہ دیکھا گیا ہے کہ این ڈی اے کا مطلب ہی نو ڈیٹا اولیول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کسی چیز کے اعداد و شمار نہیں ہوتے لیکن جب بات زندگی کی ہو ، ایک ایک ہندوستانی کی زندگی سے جڑی ہو، موت سے جڑی ہو تب بھی اگر آنکڑے چھپائے جا رہے ہوں تو یہ شدید گناہ مانا جائے گا ۔
  پون کھیڑا نے کہا کہ گجرات کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ جہاں ایک احمد آباد کے سول اسپتال میں جتنی موتیں ہوئیں، حکومت کے اگر دعوے دیکھیں تو پورے صوبہ میں بھی اس سے کم ہیں۔۱۰؍ اپریل سے ۹؍ مئی کے درمیان پورے صوبہ میں ۳؍ہزار ۵۷۸؍  اموات بتائی گئیں اور احمد آباد میں ۶۹۸؍ اموات بتائی گئیںلیکن سچائی کیا نکلی کہ صرف احمد آباد کے سول اسپتال میں اسی دوران ۳؍ہزار ۴۱۶؍ موت کووڈ سے ہوئی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں صرف اسپتال کی بات کر رہا ہوں ، سوچئے پورے صوبہ کا کیا حال ہوگا ؟ الگ الگ شہروں سے رپورٹ  الگ الگ رپورٹ ہیں۔ سورت ، راجکوٹ ،  بڑودہ ، بھروچ سے رپورٹ آئی اور ہائی کورٹ نے بھی ڈانٹ لگائی، وہاں بھی حکومت نے غلط اور جھوٹے  اعداد و شمار پیش   کئے۔کانگریس ترجمان نے کہا کہ اب مدھیہ پردیش ہے ، ہم سب نے رپورٹ دیکھی ہے کہ کس طرح سے مکتی دھاموں سے رجسٹر غائب  کئے جا رہے ہیں کہ آپ جیسے تحقیقی صحافی  اصل   نمبرس نہ چھاپ دیں ۔ انھوںنے کہا کہ یہ سچ ہے کہ یہ اصل اعداد و شمار  سے ڈرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مدھیہ پردیش ، گجرات ، اتر پردیش ، بہار ،کرناٹک کے  اصل اعداد و شمار پیش  کئے جائیں ۔ 

covid-19 Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK