نینسی پیلوسی کے دورہ ٔتائیوان کے بعد چین -امریکہ کشیدگی عروج پر پہنچ گئی

Updated: August 06, 2022, 11:57 AM IST | Agency | Beijing/Washington

تائیوان کی سرحدوں پر میزائلیں داغنے اور فوجی مشقوں کے آغاز کے بعد بیجنگ نے فوجی اور ماحولیاتی امور پرواشنگٹن سےمذاکرات معطل کردیئے، پیلوسی پر پابندی عائد کی اور یورپی ممالک کے سفراء کو طلب کرکے تنبیہ کی

Nancy Pelosi with Secretary of State Joseph Wu in Taiwan.Picture:AP/PTI
نینسی پیلوسی تائیوان میںوزیر خارجہ جوزف وُو کے ساتھ۔ تصویر: اے پی / پی ٹی آئی

  نینسی پیلوسی کے  تائیوان دورہ کے بعد خطے میں حالات دھماکہ خیز ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ایک طرف جہاں چین نے تائیوان کی سرحدوں پر میزائلیں داغنے کےبعد  ملک کا ایک طرح سے بحری محاصرہ کرلیا ہےا ور اس تائیوان کی سرحد پر فوجی مشقیں شروع کردی ہیں تو وہیں دوسری جانب  امریکہ سے فوجی اور ماحولیاتی امور پر جاری مذاکرات کو معطل کرنے کا بھی اعلان  کیا ہے۔ ا تنا ہی نہیں بیجنگ نے جی ۷؍ ممالک کی جانب سے اس مطالبہ پر کہ چین تائیوان تنازع کو پر امن طریقے سے حل کرے ان ممالک کے سفیروں کو طلب کرکے اپنی برہمی کااظہار بھی کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے چین کے ردعمل اور میزائلیں داغنے کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ 
 کئی امور پر تعاون ختم کرنے کا اعلان
  نینسی پیلوسی کے دورے کے خلاف یکے بعد دیگرے کئے جانے والے اقدامات کے تحت  چین نے جمعہ کو اعلان کیا کہ  اس نے امریکہ کے ساتھ کئی محاذوں پر تعاون  کو ختم کرنے کافیصلہ کیا  ہے۔ان میں فوجی اور ماحولیاتی امور پر مذاکرات   نیز منشیات پر پابندی کیلئے اقدامات کومعطل کرنا شامل ہے۔  یاد رہے کہ دنیا کے ان دونوں بڑے ممالک  نے گزشتہ سال عزم کیاتھا کہ وہ ماحولیات کے بحران پر قابو پانے کیلئے پابندی سے گفت وشنید اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ 
 تائیوان کا محاصرہ!
  چین نے نینسی پیلوسی کے دورہ کے بعد تائیوان کی سرحدوں پر  اندھادھند میزائلیں داغنے  کے بعد اس کی سرحد پر کئی بحری جہاز تعینات کر دیئے ہیں اور  فوجی مشقیں  پورے زور وشور سے جاری ہیں۔ ایک طرف سے چین نے   تائیوان کا محاصرہ کرلیا ہے جس کی مذمت بھی کی جارہی ہے۔   چین  نےبلیسٹک میزائل فائر کئے  ہیں اور اور جنگی طیاروں کے علاوہ بحری جنگی جہاز بھی تعینات کر کے تائیوان کو ایک طرح سے محاصرہ میں لے لیا ہے۔اس کےساتھ ہی بحری جہازوں کی اس اہم گذر گاہ’’ نو گو ایریا‘‘ بنا تے ہو خطرناک زون قرار دے دیا ہے۔خود تائیوان نے اطلاع دی کہ جمعہ کو  فوجی مشقتوں  کے دوران کم از کم ۶۸؍ چینی  فائٹر جیٹ طیاروں  اور ۱۳؍ جنگی جہازوں نے تائیوان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ خود مختار تائیوان  نے اس کی مذمت کرتے ہوئے  جمعہ کو جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم کمیونسٹ فوج کی مذمت کرتے ہیں جس نے جان بوجھ کر میڈن لائن کو عبور کیا اور تائیوان کو سمندر اور فضا کے ذریعہ ڈرانے کی کوشش کی۔‘‘
 کناڈا سمیت کئی ممالک کے سفیر طلب
 چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو کناڈا  اورکئی یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کرکے اپنی برہمی کااظہار کیا۔ کناڈا پر  چین کی برہمی کی وجہ ی ہے کہ  وہ جی ۷؍ ممالک  کے اس گروپ میں شامل ہے جس نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تائیوان کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرے۔  جی ۷؍ ممالک نے تائیوان کی سرحد پر چینی فوجوں کی تعیناتی کی مذمت کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK