یوکرین کیلئے یورپی یونین کی رکینت کے امیدوار کی تجویز کے بعد روسی حملے تیز

Updated: June 20, 2022, 1:32 PM IST | Agency | Brussels

نیٹو سربراہ نے جنگ کیلئے تیار رہنے پرزور دیا،لوہانسک کے گورنر سرہی گائیڈائی کے مطابق صنعتی شہر سیویروڈونٹسک میں رہائشی عمارتیں اور نجی مکانات تباہ ہو چکے ہیں، لوگ سڑکوں پر اور پناہ گاہوں میں مررہے ہیں

An area of ​​Ukraine as a result of the Russian bombing.Picture:AP/PTI
رو سی بمباری کے نتیجے میں یوکرین کا ایک علاقہ۔ تصویر: اے پی / پی ٹی آئی

یورپی کمیشن کی جانب سے یوکرین کو یورپی یونین کے  رکن کے امیدوار کا درجہ دینے کی تجویز کے بعد روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔ اسی دوران نیٹو سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے خبر دار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ آئندہ کئی برس تک جاری رہ سکتی ہے۔  یوکرین پر روسی حملے تیز کرنے سے متعلق یوکرینی فوج نے بتایا کہ صنعتی شہر سیویروڈونٹسک کو ایک بار پھر بھاری گولہ باری اور راکٹ فائر کا سامنا کرنا پڑا۔واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار‘ کے تجزیہ کاروں نے لکھا کہ روسی افواج ممکنہ طور پر آئندہ ہفتوں میں سیویروڈونٹسک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی لیکن اس کیلئے انہیں اس چھوٹے سے علاقے میں اپنی زیادہ تر دستیاب افواج کو وقف کرنا ہوگا۔لوہانسک کے گورنر سرہی گائیڈائی نے یوکرین ٹیلی ویژن کو بتایا کہ تمام روسی دعوے جھوٹے ہیں کہ  وہ قصبے کے مرکزی حصے پر کنٹرول کرچکے ہیں لیکن پورے قصبے پر نہیں۔سرہی گائیڈائی نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر کہا کہ دریا کے اس پار موجود جڑواں شہر میں رہائشی عمارتیں اور نجی مکانات تباہ ہو چکے ہیں، لوگ سڑکوں پر اور پناہ گاہوں میں مررہے ہیں۔ یوکرین کی فوج نے تسلیم کیا کہ دشمن کو سیویروڈونٹسک کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں میٹولکین میں جزوی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ٹاس‘ نے روسی حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں کیلئے کام کرنے والے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میٹولکائن میں بہت سے یوکرینی جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی میزائل نے شمال مغرب میں ضلع ایزیم میں ایک گیس ورکس کو نشانہ بنایا اور دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیو کے ایک مضافاتی علاقے پر برسنے والے روسی راکٹ میونسپل کی عمارت سے ٹکرا گئے جس سے آگ لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔  یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے کیف سے تقریباً۵۵۰؍ کلومیٹر جنوب میں میکولائیو کے علاقے میں جنوبی فرنٹ لائن پر فوجیوں سے ملاقات کیلئےدورہ کیا ہے۔انہوں نے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو میں کہا  کہ میں نے اپنے محافظوں، فوج، پولیس اور نیشنل گارڈ سے بات چیت کی ہے۔ وہ سب ڈٹے ہوئے ہیں، ان سب کو ہماری جیت پر کوئی شبہ نہیں ہے، ہم ا پنی زمین کسی کے حوالے نہیں ہونے دیں گے اور جو کچھ ہمارا ہے وہ واپس لے لیں گے۔ایک اور ویڈیو میں ولادیمر زیلنسکی کو خاکی ٹی شرٹ میں تمغے سے نوازتے ہوئے اور خدمتگاروں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ 
 ادھر نٹیو سربراہ جینز اسٹولٹن برگ کے مطابق ہمیں اس حقیقت کے لئے تیاری کرنی چاہئے کہ اس جنگ میں کئی برس لگ سکتے ہیں، ہمیں یوکرین کی حمایت  سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔انہوں نے یہ کہا کہ چاہے اخراجات زیادہ ہوں، نہ صرف فوجی امداد کیلئے بلکہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر بھی ہمیں پوری تیاری کرنی ہوگی۔ قبل ازیں کیف کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی ایک طویل جنگ کیلئے تیاری کی ضرورت پر بات چیت کی۔بورس جانسن نے لندن کے سنڈے ٹائمز میں لکھا کہ  اس سے  مراد یہ ہے کہ یوکرین کو حملہ آور کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہتھیار، سازوسامان، گولہ بارود اور تربیت مل رہی ہے۔ انہوں نے لکھا  کہ وقت اہم  ہے، ہر چیز کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یوکرین اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ یوکرین کو جمعہ کو اس وقت حوصلہ ملا ، جب یورپی کمیشن نے اسے یورپی یونین کےرکن کے امیدوار درجہ دینے کی سفارش کی جس کی یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے رواں ہفتے سربراہی اجلاس میں توثیق متوقع ہے۔ چاہے رکنیت کے حصول میں کئی سال لگ جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK