جرمن کمپنی آر ڈبلیو ای اور ابو ظہبی کی نیشنل آئل کمپنی کے درمیان معاہدہ

Updated: September 27, 2022, 12:04 PM IST | Agency | Abu Dhabi

خلیجی ملک کی جانب سے اس سال دسمبر کے آخر تک ایندھن کے بحران کا شکار یورپی ملک کو وافر مقدار میں قدرتی گیس فراہم کی جائے گی

The agreement was signed in the presence of the heads of the two countries.Picture:INN
دونوں ممالک کے سربراہران کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط ۔ تصویر:آئی این این

 عالمی سطح پر ان دنوں تیل کا بحران ہے۔ ایسی صورت میں یورپ اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی طرح کے معاہدے اور سودے ہو رہے ہیں جن کا مقصد تیل کی پیداوار کو بڑھانا اور اس کی قیمتوں پر قابو رکھنا ہے۔  پیر کو ایسا ہی ایک معاہدہ جرمن کمپنی آر ڈبلیو ای اور ابوظہبی کی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) کے درمیان بھی کیا گیا۔  اطلاع کے مطابق  اس معاہدے کی رو سے اس سال دسمبر کے آخر تک یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کومتحدہ عرب امارات کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) مہیا کروائی  جائے گی۔یہ اعلان توانائی کے متبادل وسائل کو محفوظ بنانے کیلئے جرمنی کے چانسلراولف شُلز کے خطۂ خلیجی کے دو روزہ دورے کے دوسرے روز سامنے آیا ہے۔ شُلز نے اس معاہدے کے اعلان سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ’ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں ایل این جی کی پیداواراس مقام تک پہنچ جائے جہاں موجود طلب کو روس کی پیداواری صلاحیت کا سہارا لئے بغیر پورا کیا جا سکے‘‘ جرمن یوٹیلٹی آر ڈبلیو ای نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے ایل این جی کی ترسیل کی مقدار ۱۳۷ء۰۰۰؍مکعب میٹر ہوگی اور اس کی پہلی کھیپ ہیمبرگ کے قریب واقع برنس بوئٹل میں فلوٹنگ ایل این جی ٹرمینل کومہیا کی جائے گی۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ’’یہ معاہدہ جرمنی میں ایل این جی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اورگیس کی زیادہ متنوع درآمدات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے شُلز کے ساتھ اس ضمن میں معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔اس میں توانائی کی سلامتی اور صنعتی نمو کو تیز کرنے کا احاطہ کیا گیا ہے۔یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے اتوار کے روز بتایا کہ اے ڈی این او سی نے ۲۰۲۳ء  میں جرمنی کیلئے ایل این جی کارگوزکی ایک غیر معیّنہ تعداد بھی محفوظ کر لی ہے۔واضح رہے کہ جرمنی ماضی قریب تک گیس کیلئے روس پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا لیکن فروری میں روس کے یوکرین پرحملے کے بعد سے اپنی توانائی کی درآمدات کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے بیشتر یورپی ممالک  گیس اور پیٹرول کیلئے عرب ممالک کی جانب دیکھ رہے ہیں اور ان سے معاہدے کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK