زرعی قوانین ملک کیخلاف بہت بڑی سازش

Updated: February 14, 2021, 12:49 PM IST | Agency | Ajmer

کسانوں کی مہاپنچایت اور ریلی سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا خطاب ، کہا کہ ان زرعی قوانین کے ذریعے ملک کی ۴۰؍ فیصد آبادی کو بے روزگار بنادیا جائے گا ،صرف ۲؍ صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے زرعی قوانین منظور کرانے کا الزام بھی عائد کیا

Rahul Gandhi Speaking from Ajmer. Along with Chief Minister Ashok Gehlot.Picture:PTI
راہل گاندھی اجمیر میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے۔ ساتھ میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت ۔ تصویر :پی ٹی آئی

کانگریس پارٹی کےسابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ مرکز میں مودی حکومت نے تینوں زرعی قوانین کے ذریعے ملک کے ۴۰؍فیصد  افرادکو بے روزگار کرنے کی سازش کی ہے۔ اپنے دو روزہ راجستھان دورے کے دوسرے  دن اجمیر ضلع کے روپ نگر میں منعقدہ کسانوں کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئےراہل نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے ۴۰؍ فیصد لوگوں کے کاروبار کو صرف دو صنعت کار دوستوں کے حوالے کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ اس سے کسان ، چھوٹے تاجر ، غریب ، مزدور ، ریڑھی پٹری والے سب بے روزگار ہوجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے قانون کا ہدف یہ ہے کہ سب سے بڑے صنعت کار پورے ملک میں جتنا بھی اناج ، پھل اور سبزیاں چاہیں ذخیرہ کر  سکتے ہیں۔ ابھی اناج ، پھل اور سبزیوں کا تقریباً ۴۰؍ فیصد کاروبار ان دونوں صنعتکاروں کے ہاتھ میں ہے۔ زرعی قانون کے نفاذ کے بعد زراعت کے ۸۰؍ سے ۹۰؍ فیصد کاروبار پر قبضہ ہو جائے گا۔ اس سے منڈیوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے کسان ، پھل فروش، سبزی فروش ، خوانچہ فروش  اور چھوٹی چھوٹی دکانیں لگانے والے بےروزگار ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ سے ملک میں حالات اور بھی زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسان مر جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
  راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر اپنا حملہ اور تنقیدیں جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دوسرا قانون ذخیرہ اندوزی میں اضافہ کرنے کا ہے۔ اس کے تحت  صنعت کار اناج ، پھل اور سبزیاں خرید  کر  اسٹور کرلیں گے اور انہیں ذخیرہ کریں گے اور بعد میں ان کاشتکاروں کو زیادہ قیمتوں پر فروخت کریں گے۔ اس سے کاشت کار تباہ ہوجائیں گے۔راہل گاندھی نے کہا کہ تیسرے قانون کے تحت کوئی کسان صنعت کاروں سے اپنی  فصل کی صحیح  قیمت  مانگنے کے لئے عدالت میں جاکر  اپنی  بات  نہیں رکھ سکے گا۔راہل گاندھی نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد مودی سرکار نے جی ایس ٹی ، نوٹ بندی سے پہلے چھوٹے تاجروں ، مزدوروں اور کسانوں کو ہراساں کیا ہے۔ ان تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے مودی سرکار پر دباؤ ڈالنا صرف کسانوں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ مزدوروں ، چھوٹے تاجروں اور نوجوانوں اور ہندوستان کے تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ نہ صرف زراعت کی بات ہے بلکہ بھارت ماتا کا معاملہ ہے۔
  مودی کے کسانوں سے بات چیت کرنے کے بیان  پر کہا کہ مودی  جی پہلے تینوں  زرعی  قوانین واپس لیں تبھی کسان ان سے بات  کریں  گے۔ انہوں نے کہا کہ  مودی کسانوں کے گھر میں ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف بات کرنے کی دعوت بھی دے رہے ہیں۔ اس رویے کے ذریعے وہ چاہتے ہیں کہ کسان رام ہو جائیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ کسانوں کو راحت پہنچانے کے لئے انہیں سب سے پہلے قوانین واپس لینے ہوں گے ۔  راہل گاندھی نے یہ بھی وعدہ کیا کہ جب بھی مرکز میں ان کی پارٹی کی حکومت آئے گی ان قوانین کو فوراً مسترد کردیا جائے گا۔
 اس سے قبل  سابق نائب وزیر اعلی سچن پائلٹ کی سربراہی میں کانگریس کارکنوں نے  راہل گاندھی کا کشن گڑھ ہوائی اڈے پر پہنچنے پر  پُرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد وہ اجمیر ضلع کے سورسارا گاؤں میں لوک دیوتا ویر تیجاجی کے مندر پہنچے اور وہاں پوجا کی۔ اس دوران  وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت ، ریاستی انچارج اجے ماکن ، ریاستی کانگریس کے صدر اور ریاستی وزیر گووند سنگھ ڈوٹاسرا ، سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ ،  وزیر صحت  رگھو شرما ، وزیر زراعت لال چند کٹاریا اور دیگر اُن کے ساتھ موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK