تاج محل پر پہلے تحقیق کرو، پی ایچ ڈی کرو، پھر عدالت آنا:الٰہ آباد ہائی کورٹ

Updated: May 13, 2022, 10:35 AM IST | Agency | Mumbai

تاریخی عمارت تاج محل کے بند کمرے کھلوانے کی بی جے پی لیڈر رجنیش سنگھ کی عرضی پر عدالت برہم ، یہ بھی کہا کہ ’’ پی آئی ایل سسٹم کا مذاق مت بنائو ‘‘

The Taj Mahal has been under the control of the sectarians for a long time but they do not succeed in their conspiracies.Picture:INN
تاج محل پر فرقہ پرستوں کی ایک عرصے سے نظر ہےلیکن وہ اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوپاتے ۔ تصویر: آئی این این

دنیا کے ۷؍عجوبوں میں شامل تاریخی عمارت  تاج محل کے بند کمروں کو کھولنے کی عرضی پر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی لیکن  اس دوران عدالت نے عرضی گزار کی شامت ہی آگئی کیوں کہ ہائی کورٹ نہ صرف شدید برہم ہو گیا بلکہ اس نے عرضی  گزار کو سخت ڈانٹ پلائی ۔ عدالت نے عرضی  دینے والے ایودھیا بی جے پی لیڈر سے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ تم پی آئی ایل سسٹم (مفاد عامہ کی درخواست دینے کا نظام) کا مذاق نہ بنائو۔ یہ بہت اہم کام انجام دیتی ہے۔ اس کا غلط استعمال ہم قطعی برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ   یہ پٹیشن داخل کرنے سے قبل تاج محل کے بارے میں تحقیق کر و اس کے بعد ہی عرضی ڈالو۔ پہلے پڑھ لو کہ تاج محل کب اور کس نے بنوایا۔‘‘ ہائی کورٹ کے جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے ڈاکٹر رجنیش سنگھ کو  پھٹکار تے ہوئے کہا کہ پی آئی ایل نظام کا غلط استعمال نہیں کیا جانا چا ہئے اور اس کا مذاق بنانا ٹھیک نہیں۔ تاج محل کس نے بنوایا، اس تعلق سے پہلے تحقیق کرو، یونیورسٹی جاؤ، پی ایچ ڈی کرو تب عدالت آنا۔ تحقیق سے کوئی روکے تب ہمارے پاس آنا۔ اب تاریخ کو آپ کے مطابق نہیں پڑھایا جائے گا اور نہ ہی یہ تبدیل ہو سکتی ہے۔ جج نے مزید کہا کہ کل کو آپ کہو گے کہ ججوں کے کمروں کو بھی کھلوایا جائے ۔ ان کے تعلق سے بھی کوئی نہ کوئی بات ہے۔ تو کیا ہم ہر پٹیشن کو ایسے ہی قبول کرتے رہیں گے ۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے ایودھیا میڈیا انچارج ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے عدالت میں عرضی داخل کر کےمطالبہ کیا ہے کہ تاج محل کے ۲۲؍کمروں کو کھولا جائے۔ عرضی میں کمروں میں بند راز کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اسے کھولنے کی گزارش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر رجنیش نے جب عدالت کا موڈ دیکھا تو انہوں نے  عاجزی دکھانے کی کوشش کی کہا کہ ہندو مذہبی پیشوا اور ہندو تنظیمیں  جہاں تاج محل کو بھگوان شیو کا مندر بتاتے ہیں، وہیں مسلم اسے عبادت گاہ بتاتے ہیں۔ اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے ہی میں نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے  ۔ اسے اور کسی نظریہ سے نہ دیکھا جائے۔ بہر حال عدالت نے یہ پٹیشن قبول کرنے سے انکار کردیا اور بی جے پی لیڈر کو سخت وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔ واضح رہے کہ ہندوتوا تنظیمیں مسلسل تاج محل کیخلاف طومار باندھ رہی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK