ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انسانی حقوق کے وکیل کو رہا کرنے کا مطالبہ

Updated: October 18, 2020, 2:14 PM IST | Agency | London

حجاز حزب اللہ ۶؍ ماہ سے زیادہ عرصے سے قید ہیں، ایسٹر حملہ آور کی مدد اوردہشت گردی کے قانون کے تحت الزامات عائد کئے گئے ، عالمی تنظیم نے مذمت کی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سری لنکا  حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے قوانین کے تحت ۶؍ ماہ سے زیادہ عرصہ سے نظربند  کئے گئے انسانی حقوق کے ممتاز وکیل  حجاز حزب اللہ کی رہائی پر فوری طور پر غور کرے۔

Hejaz Hezbullah
حجازحزب اللہ شہری حقوق کے کارکن ہیں، وہ اقلیتوں حقوق کے مقدمات لڑ چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سری لنکا  حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے قوانین کے تحت ۶؍ ماہ سے زیادہ عرصہ سے نظربند  کئے گئے انسانی حقوق کے ممتاز وکیل  حجاز حزب اللہ کی رہائی پر فوری طور پر غور کرے۔
  ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سرلنکن حکومت نے حجاز کے خلاف دہشت گردی کی روک تھام ایکٹ (پی ٹی اے)  کے ایک جابرانہ قانون کے  تحت بغیرکسی قابل اعتماد ثبوت یا الزامات  عائد کئے ہیں اور انہیںقید رکھا ہے ۔ انہیں عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا جارہا ہے۔
  سری لنکا   میں’پی ٹی اے‘  کے تحت حکام ملزم کو ایک  میعاد میں۹۰؍ دن تک حراست  میں رکھ سکتے ہیں یا `مشتبہ شخص کو ۱۸؍ماہ تک قید میں رکھا جاسکتا  ہے۔ایمنسٹی کے مطابق حجاز حزب اللہ اکثر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر تے تھے ۔۱۴؍ اپریل ۲۰۲۰ء کو  انہیں کولمبو میں فوجداری تحقیقاتی محکمہ کے ہیڈ کوارٹر میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس  وقت سے اہل خانہ اور وکیلوں کی  ان تک محدود رسائی رکھی گئی ہے۔
  ڈائریکٹر آفس ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل کےڈیوڈ گریفتھس کے مطابق  پی ٹی اے ایک ایسا قانون ہے جسے حکومت ناقدین کا استحصال اور  ان سےبدسلوکی کر نے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ حجاز  پر بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام لگایا گیا ہے، ا نہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا  ہے تاکہ جہاں وہ یہ ثابت کرسکے کہ ا نہوںنے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ حجاز حزب اللہ کے معاملے  میں سری لنکا  حکومت نے انسانی حقوق کی بہت سی ذمہ داریوں کو پامال کیا ہے ،  ان میں من مانی، نظربندی اور قانونی مشورے تک رسائی نہ دینا وغیرہ شامل ہے۔  غیرقانونی نظربند ی   سے ملزم کو کئی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔
  حجازحزب اللہ ایک سینئر وکیل  ہیں۔ وہ اقلیتوں اور شہری حقوق کے کارکن ہیں ،  وہ اقلیتوں کے حقوق کے مقدمات لڑ چکے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق وہ مفاہمت ، بقائے باہمی اور اقلیتوں کے حقوق کے معاملات کی معروف آواز ہیں۔ سری لنکا کے ۲۰۱۸ء کے آئینی بحران کے دوران پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے چیلنج سمیت اہم آئینی معاملات میں بھی وہ  شامل ر ہے تھے۔
 لیکن سری لنکا کے حکام نے  حجازحزب اللہ پر  ۲۰۱۹ء  میںایسٹرکے دوران سری لنکا  کے گرجا گھروں پر  ہوئے دہشت گردانہ   حملے کرنے والےایک حملہ آور کو مدد فراہم کرنے اور  پناہ دینےکا الزام عائد کیا ہے۔ علاوہ ازیں ان پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی دفعات   لگائی گئی ہیں جن سےبرادریوں میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زور دیا ہے کہ سری لنکا کے حکام لازمی طور پر پی ٹی اے کو منسوخ کریں اور ایسے لوگوں تک رسائی مہیا کریں جو اس  وجہ سے تکلیف برداشت کر چکے ہیں ، ایسے متاثرین کوعلاج اور معاوضے  کے ساتھ قصواروں کو سزا ملنی چاہئے۔
 ہیومن رائٹس واچ جنوبی ایشیاء کی ڈائریکٹر  میناکشی گنگولی نے کہا کہ پولیس نے حزب اللہ کے خلاف کوئی قابل اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطالبات کے باوجود ان کے مناسب حقوق سے انکار کیا گیا  اور ا نہیں تحویل میں رکھا گیا  ہے۔کووڈ ۱۹؍ پھیلائو کو روکنے کیلئے   جیلوں میں سے  بھیڑ کو کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن حکومت بے پروا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK