کہیں ہم بنگلہ دیش سے پیچھے نہ رہ جائیں : آنند مہندرا

Updated: January 15, 2021, 11:51 AM IST | Agency | Mumbai / New Delhi

معروف صنعت کارنےایک ٹویٹ میںکہا کہ بنگلہ دیش میں۱۰؍ سال میں ۸۰؍ لاکھ افراد غربت سے نجات پاچکے ہیں، انہوں نے اسے متاثر کن پہلو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اب وقت آگیا ہےکہ ہم ایسی پالیسیاں مرتب کریںکہ جس سے ثابت ہوکہ ہم معاشی میدان میں اس پڑوسی ملک سے پیچھے نہیں ہیں

Anand Mahindra - Pic : INN
آنند مہندرا ۔ تصویر : آئی این این

پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے تعلق سے سامنے آنےوالے اعدادوشمار کی بنیادپرملک کے معروف صنعت کار آنند مہندرانے کہا ہےکہ اس ملک کی ترقی کی رفتارکے آگے کہیں ہم پیچھے نہ رہ جائیں ۔ حال  میںورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف)نے اپنے ایک ویڈیو میں دکھا یا تھا کہ بنگلہ دیش دنیا میں  تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے  اوروہ معاشی محاذ پروہ ہندوستان سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کررہا  ہے۔
 ڈبلیو ای ایف کے اسی ویڈیو کو بنیاد بناتے ہوئے صنعت کارآنند مہندرانےایک ٹویٹ میںکہا ہےکہ بنگلہ دیش میں۱۰؍ سال  میں ۸۰؍ لاکھ افراد غربت سے نجات پاچکے ہیں،کہیں ہم پڑوسی سےملک سےپیچھے نہ رہ جائیں۔ انہوں نے اسے متاثر کن پہلو قراردیتے ہوئے لکھا کہ’’  اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا بجٹ بنائیں ، ہمیں ایسی پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے  جس سے یہ ظاہر ہوسکے کہ ہم  معاشی میدان میں بہتر کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے پڑوسی ملک سے پیچھے نہیں ہیں۔
 ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف)  کے ویڈیو میں بنگلہ دیش کو دنیا کی سب سے تیز رفتار ترقی پذیر معیشتوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت ہندوستان سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔۲۰۱۰ء کے بعد سےوہاں۸؍ لاکھ افراد غربت کی لکیر سے اوپر آگئے ہیں اور صرف ۱۰؍ سال  میں فی کس آمدنی تین گنا بڑھ گئی ہے۔
 ویڈیو میں پوچھا گیا ہے کہ اس کی معیشت اتنی تیزی سے کیسے بڑھ رہی ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کی چار وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے  یہ کہ بنگلہ دیش میں چین کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے اور اس کی برآمدات اب بھی سالانہ۱۶؍ فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔ دوم ، اس کی آبادی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ بنگلہ دیش نہ صرف دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، بلکہ ملک کی کل آبادی کا نصف حصہ۲۵؍ سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نیز ، نوجوان ملازمین نئی ٹیکنالوجی تیزی سے سیکھتے ہیں۔
 تیسری اس کی ڈیجیٹل طاقت ہے۔ بنگلہ دیش میں ۶؍ لاکھ آئی ٹی فری لانسرز ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ٹیکنالوجی بنگلہ دیش کو نئی معیشت کے فروغ میں مدد دے رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ ملک میں آن لائن بینک اکاؤنٹ اپنا رہے ہیں۔ چوتھا ، علم پر مبنی معاشرے  کالوگوں میں رجحان بڑھ گیا ہے۔کہا جاسکتا ہےکہ بنگلہ دیش کاشتکاری اور مینوفیکچرنگ پر منحصر رہنے سے آگے بڑھ چکا ہے۔ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ کی شناخت  ایک تکنیکی مرکز کی بنتی جارہی ہے۔
 ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے۱۰۰؍ خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) تیار کیے جارہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئےبنگلہ دیش میں اس سال اقتصادی نمو میں۸؍ فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے وہاں   ایک تہائی آبادی کے بے گھر ہونے کے بھی خدشات  ہیں لینک ان حالات  کے باوجود بنگلہ دیش کی معاشی کامیابی سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK