امریکی وزیر کے تائیوان دورے سے ناراض چین کی خطے میں جنگی مشق شروع

Updated: September 20, 2020, 11:42 AM IST | Agency | Taipei

تائیوان کے سابق صدر کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں امریکہ کے معاون وزیر خارجہ کی شرکت کو چین نے اشتعال انگیزی قرار دیا ۔ تائیوان کی سمندی حدود میںبحری بیڑے تعینات جبکہ فضائی حدود میں جنگی طیاروں کی گشت۔ تائیوان نے اسے اکسانے والی اور خطے میں امن واستحکام کو نقصان پہنچانے والی حرکت قرار دیا۔ مائیک پومپیو کی جانب سے بھی چین پر تنقید۔ چین نے کسی بھی وقت جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی

Taiwan and US
تائیوان کے حکام امریکی معاون وزیر خارجہ کیتھ کریچ( ماسک پہنے) کا استقبال کرتے ہوئے (تصویر: ایجنسی

 ایک طرف جہاں چین نے ہندوستانی سرحدوں میں دراندازی کے ذریعے جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے تو دوسری طرف وہ امریکہ کے ساتھ جاری چپقلش کی بنا پر تائیوان میں بھی جنگی کارروائیوں  کے اشارے دے رہا ہے۔ چین نے جیسا کہ ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ تائیوان  سے قریب سمندری حدود میں جنگی مشق شروع کرنے جا رہا ہے۔  اعلان کے مطابق پہلے جمعہ کو پھر سنیچر کو بحری بیڑے تعینات کئے گئے   ہیں جن میں مختلف قسم کے جنگی طیارے موجود ہیں۔  اس کے علاوہ تائیوان کی وزارت دفاع نے اطلاع دی ہے کہ تائیوان کی فضائی حدودمیں بھی چین کے جنگی طیارے گشت کر رہے ہیں۔ 
  واضح رہے کہ  حال ہی میں انتقال کر جانے والے تائیوان کے سابق صدر لی تنگ ہوئی کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں حصہ لینے کی غرض سے   امریکہ  کے معاون وزیر خارجہ برائے معاشی ترقی، توانائی اور ماحولیات، کیتھ کریچ جمعرات کو تین روزہ دورے پر تائیوان کے دارالحکومت تائی پے پہنچے تھے ۔امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی جانب سے گزشتہ ۴۰؍ برسوں میں یہ کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ ہے۔ اس دوران  انہوں نے   تائیوان کے وزیرِ خارجہ جوزف وو اور صدر سائی اینگ وین سے ملاقات بھی کی۔
ٍ  واضح رہے کہ چین  تائیوان کو   اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ تائیوان کی خاتون صدر سائی اینگ وین نے اعلان کر رکھا ہے کہ تائیوان ایک آزاد ملک ہے۔ ایسی صورت میں کسی بھی ملک کی جانب سے تائیوان کے ساتھ ایک آزاد ملک کے طور پر لین دین یا معاملہ کرنے پرچین اپنے خلاف ایک اقدام سمجھتا ہے جو کہ اس وقت امریکہ نے کیا ہے۔  امریکی معاون وزیر کا یہ دورہ تائیوان کے  ساتھ براہ راست معاملہ تھا اس میں چین کی اجازت یا رضامندی شامل نہیں تھی۔ 
  جمعہ ہی کو ایک پریس کانفرنس میں جب چینی  محکمۂ دفاع کے ترجمان  رین گوجینسے کیتھ کریچ کے  دورے سے متعلق پوچھا گیا تو اُنہوں نے جواب دیا تھا ’’ہم آبنائے تائیوان میں حقیقی جنگی مشقیں کر رہے ہیں۔‘‘رین س نےزور دیتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں آبنائے تائیوان میں چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے جنگی مشقیں  ایک ضروری اور درست اقدام ہے۔ ان کاالزام تھا کہ امریکہ تائیوان کے معاملے میں مسلسل مسائل پیدا کر رہا ہے۔  
 اس کے بعد ہی سے چین نے آبنائے تائیوان میں اپنے جنگی  طیارے بھیجنے شروع کر دئیے جس کا سلسلہ سنیچر کو بھی جاری رہا۔ تائیوان کی وزارت دفاع نے چین کی اس حرکت کو اکسانے والی اور خطے میں امن واستحکام کو نقصان پہنچانے والی قرار دیا   ہے۔ ادھر  امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اس پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تائیوان کی سرحد کے قریب چینی فوجی مشق `فوجی شور شرابے کے مترادف ہے۔ انہوں نے  ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے ایک وفد کو آنجہانی صدر لی تنگ ہوئی کی تدفین کی تقریب میں شرکت کیلئے بھیجا تھا اور چینیوں نے فوجی شور کے ساتھ اس کا  جواب دیا۔ میں اس معاملے کو اسی جگہ چھوڑ دیتا ہوں مگر ہمیں چین کا تائیوان کے حوالے سے طرز عمل قبول نہیں۔ 
  چینی حکومت کے ترجمان اخبار ’گلوبل ٹائمز ‘ نے لکھا ہے ’’ امریکی حکام صورتحال کا غلط اندازہ نہ لگائیں اور فوجی مشقوں کو کرتب بازی نہ سمجھیں، اگر انہوں نے اپنی اشتعال انگیزی جاری رکھی تو  یہاں ایک جنگ ضرور شروع ہوگی۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK