ان دنوں عام سی زندگی گزاررہا ہوں: انل امبانی

Updated: September 29, 2020, 12:31 PM IST | Agency | New Delhi

چینی بینکوں سے لئے گئے قرض کے معاملے میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران ریلائنس کیپٹل کے مالک نے لندن کی عدالت کو بتایاہے کہ ان کے پاس صرف ایک موٹر کار ہے اور وکیلوں کی فیس ادا کرنے کیلئے انہیں زیورات فروخت کرنے پڑے ہیں

Anil Ambani - Pic : INN
انل امبانی ۔ تصویر : آئی این این

میڈیا کے کچھ ذرائع میں آنے والی خبروں کے مطابق معروف صنعتکار انل امبانی نے چینی بینکوں سے لیے جانے والے قرض کے معاملے میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران لندن کی عدالت کو بتایا ہے کہ وہ ان دنوں ایک عام سی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس صرف ایک موٹر کار ہے اور وکیلوں کی فیس ادا کرنے کیلئے انہیں زیورات فروخت کرنے پڑے ہیں۔
 ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انل امبانی نے عدالت کو بتایا کہ رواں سال جنوری اور جون کے درمیان انہیں  زیورات کی فروخت سے۹ء۹؍ کروڑ روپے ملے ہیں اور اب ان کے پاس کوئی ایسی قابل قدر چیز نہیں جس کی کوئی بڑی قیمت ہو۔
 جب ان سے ان کی کاروں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کبھی بھی رولس روئس کار نہیں رہی اور وہ صرف ایک ہی کار میں سفر کرتے ہیں۔اس سے قبل برطانیہ کی ایک عدالت نے۲۲؍ مئی کے اپنے حکم نامے میں انل امبانی کو۱۲؍ جون تک چین کے بینکوںکو۵۲۸۱؍ کروڑ روپے کا قرض ادا کرنے کی ہدایت دی تھی  ۔ ان سے بینکوں کو۷؍ کروڑ روپے قانونی فیس دینے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔ چینی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں کے سلسلے میں یہ سماعت ہوئی ۔
 واضح رہےکہ ہندوستان کے امیرترین شخص مکیش امبانی کے بھائی انل امبانی کی گزشتہ چند برسوں سےمالی حالت ٹھیک نہیں ہے اور انہیں  دیوالیہ  ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ خبررساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انل امبانی کی سربراہی والی کمپنی ریلائنس کیپٹل پر۱۹؍ ہزار۸۰۵؍ کروڑ روپے کا قرض ہے۔ان کی کمپنی پر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن (ایچ ڈی ایف سی) کا تقریباً۵۲۴؍ کروڑ روپے کا قرض ہے جبکہ ایکسس بینک کا۱۰۰؍ کروڑ سے زیادہ کا قرض ہے۔
  سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ انہوں  نے ریلائنس انوو نچرز سے پانچ ارب کا قرض لے رکھا ہے۔کمپنی ریلائنس کیپٹل  نے کہا ہے کہ بینک اور مالی اداروں سے لیا گیا قرض اگست کے اخیر تک سود سمیت۶۷۹؍ کروڑ سے زیادہ ہوگیا ہے۔گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کمپنی نے کہا  تھاکہ  ۳۱؍ `اگست۲۰۲۰ء تک سود کو جوڑ کر قلیل مدتی اور طویل مدتی مجموعی قرض۱۹۸۰۵ء۷؍ کروڑ روپے ہے۔
 اس سے قبل انل امبانی کی اس اپیل کو خارج کر دیا گیا کہ جس میںانہوں  نے سماعت نجی طور پر کیے جانے کی اپیل کی تھی تاکہ وہ خفت سے بچ سکیں۔انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کا خرچ ان کی اہلیہ ٹینا امبانی اور ان کے بیٹے چلا رہے ہیں۔
 لیکن انہوں نے عدالت میں یہ تسلیم کیا کہ حال تک وہ ہندوستان کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے لیکن ان کے پاس اب صرف ایک لاکھ ۱۰؍ ہزار ڈالر کی ایک پینٹنگ ہے۔ان کی اس بات پر چینی بینکوں کے وکیل نے ان سے پوچھا کہ وہ ٹینا اور انل امبانی کلیکشن کے بارے میں معلومات کیوں نہیں دیتے تو امبانی نے کہا کہ’’ `یہ میری اہلیہ کا کلیکشن ہے۔ چونکہ میں ان کا شوہر ہوں اس لیےانہوں  نے یہ بتانے کے لیے میری اجازت مانگی تھی۔انہوں  نے بتایا کہ انہوں  نے ۲۰۔۲۰۱۹ء  کے دوران ریلائنس انفراسٹرکچر سے کوئی پیشہ ورانہ فیس نہیں لی  اور اب جس طرح کے حالات ہیں اس کے پیش نظر انہیں  ایسا نہیں لگتا کہ رواں سال بھی انہیں کچھ ملے گا۔
 جب ان سے پرائیوٹ ہیلی کاپٹر کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹائمس آف انڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق انہوں  نے کہاکہ `میں صرف ذاتی استعمال پر ہی اس کی ادائیگی کرتا ہوں۔ `انہوں  نے مزید کہا کہ انہوں  نے لاک ڈاؤن کے دوران اس کا استعمال نہیں کیا ہے۔ان سے یاٹ کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جبکہ لندن، کیلیفورنیا، بیجنگ اور دوسری جگہ کریڈٹ کارڈ سے خریداری کے بارے میں بھی پوچھا گیا توانہوں  نے کہا کہ زیادہ تر شاپنگ ان کی والدہ نے کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK