دو کروڑ سے زائد بچوں کے اسکول سے خارج ہونے کا خدشہ: انتونیو غطریس

Updated: August 05, 2020, 10:17 AM IST | Agency | Geneva

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطابق ۱۶۰؍ ممالک میں نافذ کردہ لاک ڈائون انسانی تاریخ کے سب سے بڑے تعلیمی تعطل کا سبب  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس میں لاک ڈاؤن کے باعث تدریسی عمل تعطل کا شکار ہے جس کی  وجہ  سے ۱۸۰؍ ممالک کے ۲؍ کروڑ ۳۸؍ لاکھ بچوں کے اسکول سے خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ایک نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل  انتونیو غطریس نے اپنے ایک بیان میں کورونا وبا کے دوران تدریسی عمل معطل ہونے پر خدشے کا شکار اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۱۶۰؍ سے زائد ممالک میں کئے جانے والے اقدامات تاریخ میں تعلیم کے سب سے بڑے تعطل کی وجہ بنے ہیں اور تاحال کئی ممالک نے اسکول کھلنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

Antonio Guterres- Pic : INN
انتونیو غطریس ۔ تصویر : آئی این این

 اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس میں لاک ڈاؤن کے باعث تدریسی عمل تعطل کا شکار ہے جس کی  وجہ  سے ۱۸۰؍ ممالک کے ۲؍ کروڑ ۳۸؍ لاکھ بچوں کے اسکول سے خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ایک نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل  انتونیو غطریس نے اپنے ایک بیان میں کورونا وبا کے دوران تدریسی عمل معطل ہونے پر خدشے کا شکار اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۱۶۰؍ سے زائد ممالک میں کئے جانے والے اقدامات تاریخ میں تعلیم کے سب سے بڑے تعطل کی وجہ بنے ہیں اور تاحال کئی ممالک نے اسکول کھلنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔
 اقوام متحدہ  کے سیکرٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ کورونا  وائرس کے باعث دنیا بھر میں چار کروڑ سے زائد بچے پری پرائمری اسکول میں داخلے نہ ہونے کے باعث اپنی زندگی کے پہلے تعلیمی سال کا آغاز نہیں کرسکے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جو معاشرے میں عدم مساوات اور ترقی میں خطرے کا باعث بن کر نسلوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
 کورونا وائرس کی  عالمی وبا  کے دوران  انتونیو غطریس  اس سے قبل بھی دنیا کو خبردار کر چکے ہیں کہ اس وقت ہم نوجوان اور بچوں کے حوالے سے ایک فیصلہ کن وقت میں ہیں اور اس وقت حکومتوں اور والدین کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے اثرات لاکھوں نوجوانوں پر طویل عرصے تک مرتب ہوں گے اور ممالک کی ترقی میں دہائیوں تک کردار ادا کریں گے۔
  واضح رہے کہ لاک ڈائون کا پورا عمل ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق  ہی انجام دیا گیا ہے۔ اس میں ہر ایسے مقام یا ادارے کو بند کر دیا گیا  جہاں ایک ساتھ کئی لوگ اکٹھا ہوتے ہوں۔ ان میں اسکول سب سے اول  اور اہم جگہ ہیں۔ خاص کر اس لئے کہ یہاں چھوٹے بچے جمع  ہوتے ہیں جنہیں  طبی ماہرین  نے ویسے بھی کورونا  وائرس  کے سبب باہر نہ نکلنے دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔  اس کا اثر یہ ہوا کہ  پوری دنیا میں آدھا تعلیمی سال ختم ہوجانے کے باوجود اسکولوں میں نئے داخلے نہیں ہو سکے  جن اسکولوں میں امتحانات ہو چکے تھے وہاں اگلے سال کی پڑھائی شروع نہیں کی جا سکی۔ بعض تعلیمی اداروں میں امتحان ادھورے ہی تھے کہ لاک  ڈائون نافذ کر دیا گیا۔ ایسی صورت میں کئی طلبہ کے پرچے بھی نہ ہو سکے۔  اس وقت اقوام متحدہ سے لے کر مختلف ممالک کی ریاستی اسمبلیوں تک میں اسی بات پر غور وخوض جاری ہے کہ طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو کس طرح دوبارہ شروع کیا جائے۔ کیونکہ یوں ہی رہا تو طلبہ کےتعلیمی طور اور ان کی روز مرہ کی عادات بھی تبدیل ہو جائیں گی، 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK