دہلی کے وزیر اعلیٰ کے مکان پر حملہ

Updated: March 31, 2022, 9:46 AM IST | new Delhi

تیجسوی سوریہ کی قیادت میں بی جے پی کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی ،آپ نے کہا کہ یہ حملہ کیجریوال کومارنے کی سازش تھا

Attempts were made to paint the gate of Kejriwal`s bungalow saffron while some workers jumped over the gate and entered inside. (PTI)
کیجریوال کے بنگلے کے گیٹ کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی جبکہ کچھ کارکنان گیٹ پھلانگ کر اندر بھی داخل ہو گئے تھے۔(پی ٹی آئی )

:کشمیری پنڈتوں کے موضوع پر دہلی میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کرنے پہنچے بی جے پی کارکنان نے وہاں جم کر ہنگامہ کیا اور کیجریوال کے بنگلے میں کافی توڑ پھوڑ بھی کی۔ ساتھ ہی ان کے بنگلے کا گیٹ بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش بھی کی ۔  یہ مظاہرہ بی جے پی لیڈر تیجسوی سوریہ کی قیادت میں گیا تھا ۔بی جے پی کارکنوں کی ناراضگی اس بات پر تھی کہ وزیر اعلیٰ کیجریوال نے گزشتہ دنوں فلم کشمیر فائلز کے تعلق سے دہلی اسمبلی میں جو بیان دیا تھا اس سے فلم میں پیش کی گئی باتوں کی نفی ہو رہی تھی ۔ ساتھ ہی کیجریوال نے فلم کو ٹیکس فری کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ اس سے بھی بی جے پی میں شدید ناراضگی تھی ۔ 
 پولیس نے حالات کو دیکھتے ہوئے تیجسوی سوریہ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ تیجسوی سوریہ اور تیجندر پال سنگھ بگّا بی جے پی کارکنان کے ساتھ وہاں مظاہرہ کیلئے پہنچے تھے۔ اس دوران وہاں بی جے پی کارکنوں نے کافی ہنگامہ کیا ۔ انہوں نے بنگلے کے باہر لگایا گیا بیریکیڈ توڑ دیا، اس کے بعد بنگلے کے گیٹ کو نقصان پہنچایا اور اسے بھگوا رنگ لگادیا۔ پھر اندر داخل ہوتے ہوئے  لائٹس پھوڑ دیں   اور دیگر چیزوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ تیجسوی سوریہ پولیس کی بس کی چھت پر چڑھ گئے تھے۔پینٹ کرنے کو لے کر بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ کیجریوال کو یاد دلانا چاہتے تھے کہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کس طرح نسل کشی ہوئی ہے۔ اس  لئےوہ آج سڑکوں پر اترے ہیں۔ ’ٹائمز ناؤ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی سوریہ نے کہا کہ کیجریوال کو اس ملک کے ہندوؤں سے معافی مانگنی چاہیے۔ یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ ہندوئوں سے معافی نہیں مانگتے۔
  دوسری طرف دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کیجریوال کی رہائش گاہ پر `بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈوں  نے حملہ کیا جب کہ پولیس نے وزیر اعلیٰ  کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لینے کی کوشش کے دوران سی سی ٹی وی کیمروں اور حفاظتی رکاوٹوں کو نقصان پہنچانے کے الزام میں تقریباً ۷۰؍ افراد کو حراست میں لیا   ہے۔ سسودیا نے اس حملے کے  لئے بی جے پی کو براہ راست  ذمہ دار ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ یہ پنجاب میں بی جے پی کی شکست کے بعد کیجریوال کو قتل کرنے کی کوشش تھی۔ ان کے الزامات کی حمایت دہلی کے کئی وزراء اور ایم ایل ایز نے بھی کی ہے ۔ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے بھی کہا کہ یہ کیجریوال پر حملہ کرنے کی کوشش تھی ۔

ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ بی جے پی کے یوتھ ونگ لیڈروں کی قیادت میں کیجریوال کی رہائش گاہ کے باہر غیر معمولی واقعات کو دیکھ کر قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔دہلی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے تقریباً ۲۰۰؍ مظاہرین نے آئی پی کالج کے قریب لنک روڈ پر واقع وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر فلم ’دی کشمیر فائلز‘  کے بارے میں دہلی اسمبلی میں  ان  کے ریمارکس کے خلاف دھرنا دیاتھا جو بعد میں پرتشدد ہو گیا۔ دہلی پولیس کے مطابق دوپہر ایک بجے کے قریب کچھ مظاہرین دو رکاوٹیں توڑ کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہنگامہ کیا اور نعرے لگائے۔اس دوران مظاہرین پینٹ کا ایک چھوٹا سا ڈبہ اٹھائے ہوئے تھے جسے انہوں نے دروازے کے باہر پھینک دیا۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اس  ہنگامے کے دوران  ایک حفاظتی رکاوٹ کے ساتھ ساتھ ایک سی سی ٹی وی کیمرہ کو نقصان پہنچا ہے۔بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے قومی صدر تیجسوی سوریہ اور دہلی بی جے پی کے ترجمان تاجندر پال سنگھ بگا  اس مظاہرہ کی قیادت کررہے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیجریوال نے بی جے پی لیڈروں کے ذریعے فلم کی تشہیر کے لئے بی جے پی لیڈروں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ’جھوٹی فلم‘ کے پوسٹر نہ لگائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ فلمساز کشمیری پنڈتوں کے دکھ کو استعمال کرکے پیسہ کما رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK