Inquilab Logo

امن اور جمہوریت کی علمبردار سمجھی جانے والی خاتون آہن آنگ سان سوچی

Updated: June 19, 2024, 11:30 AM IST | New Delhi

آنگ سان سو چی نے مارٹن لوتھر اور مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں پرامن ریلیوں کا انعقاد کیا اور ملک میں جمہوریت کے قیام کیلئے کوششیں جاری رکھیں لیکن فوجی حکمرانوں نے طاقت کے بے دریغ استعمال سے ان کی پرامن جدوجہد کو کچل کر رکھ دیا۔

Aung San Suu Kyi. Photo: PTI.
آنگ سان سوچی۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

آنگ سان سوچی کے والد، آنگ سان نے میانمار کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا مگر ان کو ۱۹۴۷ء میں اقتدار اعلیٰ کی منتقلی کے دوران قتل کر دیا گیا۔ باپ کے قتل کے وقت آنگ سان سو چی کی عمر صرف دو برس تھی۔ آنگ سان سو چی ۱۹۶۰ء میں پہلی بار ہندوستان پہنچیں جہاں ان کی ماں کو میانمار کا سفیر مقرر کیا گیا۔ ۱۹۶۴ء میں آنگ سان سو چی پہلی بار آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچیں جہاں انہوں نے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران آنگ سان سو چی کی اپنے شریک حیات مائیکل ایرس سے ملاقات ہوئی۔ کچھ عرصہ تک جاپان اور بھوٹان میں رہنے کے بعد آنگ سان سو چی نے برطانیہ میں مستقل سکونت کا فیصلہ کیا اور ایک گھریلو ماں کی طرح اپنے دو بچوں، الیگزینڈر اور کم کی پرورش کی۔ 
برطانیہ میں رہائش کے دوران آنگ سان سو چی میانمار کے خیالات سے نہیں نکل سکیں اور۱۹۸۸ء میں اپنی بیمار ماں کی تیمارداری کیلئے میانمار پہنچ گئیں۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر تقریر کے دوران کہا کہ میانمار میں جو کچھ ہو رہا ہے میں اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ میانمار واپس پہنچنے کے بعد آنگ سان سو چی نے ملک میں جمہوریت کیلئے کوششیں شروع کیں۔ 
آنگ سان سو چی نے مارٹن لوتھر اور مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں پرامن ریلیوں کا انعقاد کیا اور ملک میں جمہوریت کے قیام کیلئے کوششیں جاری رکھیں لیکن فوجی حکمرانوں نے طاقت کے بے دریغ استعمال سے ان کی پرامن جدوجہد کو کچل کر رکھ دیا۔ ۱۹۹۰ء میں ہونے والے انتخابات میں آنگ سان سو چی کو نااہل قرار دیا گیا اور انہیں حراست میں لیا گیا۔ اس کے باوجود ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ 
میانمار کے فوجی حکمرانوں نے ۱۹۹۱ء میں ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی کامیابی کو ماننے سے انکار کر دیا اور آنگ سان سو چی کو حراست میں لے لیا۔ دوران حراست ہی آنگ سان سو چی کو امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ نوبیل انعام کمیٹی میں شامل فرانسس سیجسٹیڈ نے آنگ سان سو چی کو ’کمزورں کی طاقت‘ قرار دیا تھا۔ دو عشروں میں پہلی بار انتخابات میں آنگ سان سو چی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ میانمار کے باشندوں کیلئے امید کی کرن تھیں۔ آنگ سان سو چی کو ۱۹۹۵ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔ آنگ سان سو چی کو ۲۰۰۹ءمیں حراست کی خلاف ورزی کے الزام میں ۱۸؍ ماہ کی سزا سنا دی گئی۔ نومبر ۲۰۱۰ء میں میانمار کی فوجی حکومت نے ان کی رہائی کا اعلان کیا جس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا گیا۔ اپنی رہائی کے بعدآنگ سان سوچی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے لیڈر کے طور پر کام کر تی رہیں۔ نومبر ۲۰۲۰ء میں  وہ موقع آیا جس کا وہ انتظا رکررہی تھیں۔ نومبر ۲۰۲۰ء میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے میانمار کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں قومی انتخابات کے بعدواضح اکثریت حاصل کرلی تھی لیکن یکم فروری ۲۰۲۱ء کو فوج نے بغاوت کر دی جس کی حمایت یافتہ جماعت نے پارلیمنٹ کی ۴۷۶ ؍ نشستوں میں سے صرف ۳۴ ؍پر کامیابی حاصل کی تھی۔ آنگ سان سوچی کو صدر، متعدد وزراء، ان کے نائبین اور پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔ ان کیخلاف بہت سارے الزامات لگائے اور اب تک ان کا فیصلہ نہیں  ہوا ۔ قانون کے مطابق اگرانہیں سزا ہو گئی تو انہیں سو سال تک جیل میں رہنا پڑے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK