آنگ سان سوچی کو ایک اور مقدمے میں سزا

Updated: April 28, 2022, 1:15 AM IST | Yangon

میانمار کی معزول لیڈر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھی سے ۶؍ لاکھ ڈالرنقد اور ۱۱؍ کلو گرام سونا بطور رشوت وصول کئے تھے ۔ سوچی نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا، عالمی برادری نے فوری طور پر آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کیا

Nobel laureate Aung San Suu Kyi is being held at an undisclosed location. (PTI)
نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی نامعلوم مقام پر قید ہیں۔ ( پی ٹی آئی)

آنگ سان سوچی کو ایک اور مقدمے میں  ۵؍ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق  سوچی پر ایک سابق  وزیر نےلاکھوں  ڈالر نقد اور سونے کی چین بطور رشوت وصول کرنے کا الزام لگایا ہے۔برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ۷۶؍ سالہ نوبیل انعام یافتہ سوچی کے خلاف بدعنوانی کے۱۱؍ الزامات میں سے  ایک تھا۔ ان کیخلاف درج ہر مقدمے میں زیادہ سے زیادہ۱۵؍ سال قید کی سزا ہے۔سوچی کو فروری ۲۰۲۱ء میں میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
  بدھ کو فوجی جنتا کی حکمرانی والے میانمار میں ایک عدالت نے  اقتدار سے برطرف آنگ سان سوچی کو بدعنوانی کے الزامات میں بدھ کو قصور وار قرار دیا اور انہیں ۵؍ برس قید کی سزا سنائی۔ واضح رہےکہ فوجی جنتا کی حکمرانی والی ملک کی عدالتیں  میانمار میں جمہوریت کیلئے جدو جہد کرنے والی سوچی کو پہلے ہی ۶؍ برس قید کی سزا سنا چکی ہیں۔ تازہ فیصلے کے بعد زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پرانہیں دہائیوں تک جیل میں رہنا پڑ سکتا ہے۔ ایک حکومتی قانونی اہلکار نے متعدد خبر رساں ایجنسیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس سزا کی تصدیق کی لیکن اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی گزارش کی کیونکہ مقدمات بند کمرے میں چلائے جارہے ہیں۔سوچی پر ینگون شہر کے سابق وزیر اعلیٰ فایو من تھیئن سے ۶؍ لاکھ ڈالر نقد اور ۱۱؍ کلوگرام سونا بطور رشوت لینے کے الزامات ہیں۔ فایو من  طویل عرصے تک آنگ سان سوچی کے انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اکتوبر۲۰۲۱ءمیں سوچی کو مذکورہ رقم اور سونا دینے کی بات قبول کی تھی۔
 گزشتہ برس ایک فوجی بغاوت میں اقتدار سے بے دخل کردی جانے والی سوچی ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔ بدھ کو جو سزا سنائی گئی اسے دیگر عدالتوں کی جانب سے اب تک سنائی گئی سزاؤں کے ساتھ ملا کر سوچی کی قید کی سزائیں ۱۱؍ بر س ہوگئی ہیں۔
   ادھرآنگ سان سوچی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا۔دوسری جانب عالمی برادری نے آنگ سان سوچی کے خلاف مقدمات کو ’مضحکہ خیز ‘ قرادر دیتے ہوئے ان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
  واضح رہےکہ میانمار کے فوجی لیڈروں نے سوچی پرقانون کی خلاف ورزی کے متعدد الزامات عائد کئے ہیںجن میں سرکاری راز اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی سے لے کر بدعنوانی تک کے الزامات شامل ہیں۔ ان پر جتنے الزامات لگائے گئے ہیں ان کے تحت مجموعی طورپر۱۵۰؍بر س سے زیادہ کی قید میں گزارنے پڑسکتے ہیں۔  اس  سے پہلے انہیں ملک میں کورونا وائرس وبا کے ضابطوں کی خلاف ورزی اور غیرقانونی طورپر واکی ٹاکی درآمد کرنے کا قصور وار پایا گیا تھا اور ۶؍ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سوچی کے خلاف الزامات کی سماعت گزشتہ برس شروع ہوئی تھی۔ قانونی کارروائیاں بند کمرے میں ہورہی ہیں  جس پر  بین الاقوامی برادری نے تنقید کی ہے۔سوچی کی قانونی ٹیم پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں اور انہیں پریس کے ساتھ بات چیت کرنے کی آزادی نہیں ہے۔
 گزشتہ برس فروری میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد  ہی سے میانمار میں افراتفری کا ماحول ہے۔ فوجی بغاوت کے نتیجے میں سوچی کو اقتدار سے ہٹادیا گیا تھا اور ان کی حکومت کو برطرف کردیا گیا تھا۔سوچی کو اس کے بعد ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا لیکن قصور وار قرار دیئے جانے کے بعد انہیں کسی نامعلوم مقام پر قید میں رکھا گیا ہے۔ سوچی کی معزولی کے بعد سے  ملک بھر میںہونے والے مظاہروں  میں فوجی حکومت اور فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی جارہی ہے۔ جمہوریت کی بحال کی مطالبہ کیا جارہا ہےلیکن فوجی جنتاحکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ وہ مظاہرین کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا بے جا استعمال کررہی ہے۔    ان مظاہروں  میں اب تک ایک ہزار ۷؍سوسے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

Myanmar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK