باندرہ :کسانوں کی حمایت اور سیاہ زرعی قوانین منسوخ کرنےکا مطالبہ

Updated: January 13, 2021, 11:26 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

کلکٹر آفس کے قریب اور مہاراشٹر کے ساتھ ملک کے ۵۵۰؍اضلاع میں ۱۷؍جنوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ مظاہرین نے کہا: زرعی قوانین کسانوں اور عوام کے استحصال کیلئے لایا گیا ہے

Farmers Support - Pic : Inquilab
کسانوں کی حمایت ۔ تصویر : انقلاب

کسانوں کی حمایت، سیاہ زرعی قوانین کی منسوخی اور کسانوں کے دوسرے مطالبات پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راشٹریہ کسان مورچہ، بھارت مکتی مورچہ اور بہوجن کرانتی مورچہ کے اشتراک سے ضلع کلکٹروں کے دفاتر کے باہر دھرنا شروع کیا گیا ہے۔ یہ دھرنا ۱۷؍ جنوری تک جاری رہے گا۔ منتظمین کے مطابق ممبئی اور مہاراشٹر میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے ۵۵۰؍ اضلاع میں یہ دھرنا جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر ۱۷؍جنوری تک کسانوں کے مطالبات منظور کرتے ہوئے ان سیاہ قوانین کو ختم نہ کیا گیا تو مزید شدت کے ساتھ احتجاج کیا جائے گا۔ ممبئی میں یہ دھرنا باندرہ میں ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر میدان کے سامنے شروع کیا گیا ہے۔ یہاں دھرنے کا منگل کو دوسرا دن تھا۔
  غریبوں کے حقوق کا استحصال 
 اس آندولن میں پیش پیش رہنے والے ایڈوکیٹ منگیش ہمنے نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ کسان اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے فکر مند ہیں اور انہیں یہ فکر ستا رہی ہے کہ کالے قانونوں کے ذریعے انہیں اس زمین سے بے دخل کر دیا جائے گا جس پر محنت کرکے وہ اور ان سے پہلے ان کے آباواجداد اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ ایڈوکیٹ ہمنے کے مطابق کسانوں کی یہ فکر بجا ہے کیونکہ ٹرینوں، ہوائی اڈوں، کوئلہ کانوں اور اسی طرح ملک کی دیگر املاک کو بیچنے والی موجودہ حکومت کے وعدوں پر کسان یقین نہیں کر سکتے۔  یہ اس لئے بھی کہ اس حکومت نے صنعت کاروں اور پونجی پتیوں کے مفادات کے تحفظ کا ایک طرح سے ٹھیکہ لے رکھا ہے اور غریبوں اور کمزوروں کے حقوق سلب کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
  بہوجن کرانتی مورچہ کے رکن اور دھرنے میں شامل وکرم سوناونے نے کہا کہ یہ آندولن کسانوں کی حمایت میں شروع کیا گیا ہے ۔ہم سب کسانوں کے ساتھ ہیں اور صرف ۲؍ مطالبات ہیں اس کے علاوہ حکومت کی کوئی اور پیشکش بالکل منظور نہیں ہے۔ اول یہ کہ بغیر کسی شرط یا ٹال مٹول کا رویہ اپنائے تینوں قوانین واپس لئے جائیں اور دوسرے ایم ایس پی کو آئین کے دائرے میں تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راشٹریہ کسان مورچہ کے صدر رام سریش ورما سنگھو بارڈر پر اپنے کارکنان کے ساتھ پہلے ہی پہنچے ہوئے ہیں اور ہم سب مل کر کسانوں کی آواز کو تقویت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسری جانب وامن میشرام کے ذریعے اس سلسلے میں ملکی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
  ارجن پوار نے کہا کہ کسان انتہائی مضبوط ارادے اور تیاری کے ساتھ الگ الگ بارڈر پر احتجاج کررہے ہیں اور انہوں نے حکومت پر یہ واضح کردیا ہے کہ جن‌ مطالبات کو بنیاد بنا کر وہ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ کسی اور پیشکش سے سمجھوتا ممکن ہی نہیں ہے، چنانچہ بہتر یہی ہے کہ کسانوں کے بغیر مشورے کے ، انہیں برباد کرنے کیلئے اور چوکیدار کے ذریعے صنعت کاروں کی چوکیداری کے لئے جو کالا قانون لایا گیا ہے اسے واپس لیا جائے۔ اس کے بغیر کسان بھائی اپنے گھر جانے کو تیار نہیں ہیں۔ حکومت خواہ کچھ بھی کہے اسے قانون واپس لینا ہی پڑے گا۔
‌پولیس کی مداخلت
 باندرہ میں کلکٹر آفس کے قریب ڈاکٹر امبیڈکر میدان کے قریب ۱۱؍ جنوری سے۱۷؍  جنوری تک احتجاج شروع کیا گیا ہے اور یہاں باقاعدہ پنڈال بنایا جارہا تھا لیکن پولیس نے وزیر اعلیٰ کا گھر قریب ہونے اور حالات کا حوالہ دیتے ہوئے منع کیا۔چنانچہ اب رات میں یہاں قیام نہ کرکے صبح ۱۱؍ بجے سے شا م ۵؍بجے تک دھرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے اور اسی ترتیب سے شرکاء دھرنے میں شریک ہوتے ہیں۔
تھانے میں بھی زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ 
 تھانے ضلع کلکٹر آفس کے سامنے منگل کو زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے کے ساتھ یک روزہ مظاہرہ کیا گیا۔ ریسٹ ہاؤس کے گیٹ کے قریب یہ مظاہرہ بہوجن ریپلکن سوشلسٹ پارٹی (بی آر ایس پی ) کی جانب سے کیا گیاتھا۔ مظاہرین نے کسانوں کے خلاف بنائے گئے زرعی قوانین کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا۔  اس موقع پر انہوںنے ای وی ایم ہٹاؤ دیش بچاؤ کے بھی نعرےلگائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK