بنگلہ دیش : پانی سے گھر ے ۳۵؍ لاکھ بچےپینے کےصاف پانی کیلئے ترس رہےہیں

Updated: June 27, 2022, 1:18 PM IST | Agency | New York

اقوام متحدہ کے ادارےیونیسیف نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی ، گندہ پانی پینے سے ہیضہ اور اسہال جیسی بیماریوں کے وبائی شکل اختیار کرجانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا

Children carry drinking water in an area of ​​Sylhet.Picture:INN
سلہٹ کے ایک علاقے میں بچے پینے کا پانی لے کر جارہےہیں۔ ۔ تصویر: آئی این این

 بنگلہ دیش میں تباہ کن سیلاب  کے  سبب ۳۵؍ لاکھ  بچے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے ادارےیونیسیف کے نمائندے شیلڈن ژیٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، `’’شمال مشرقی بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خراب سے خراب تر ہو چکی ہے۔ ۳۵؍ لاکھ متاثرہ بچوں کو پینے کے صاف پانی کی فوری ضرورت ہے۔ یہ صورتحال اس لئے انتہائی تشویش ناک ہے کہ صرف ایک ہفتہ قبل تک ایسے بچوں کی تعداد محض ۱۵؍  لا کھ تھی جو پینے کے محفوظ پانی سے محروم تھے۔‘‘ شیلڈن ژیٹ نے صحافیوں کو مزید بتایا ، ’’کئی علاقے اتنی بری طرح زیر آب ہیں کہ وہاں پھنسے ہوئے باشندوں، خاص کر بچوں کو پینے کا صاف پانی یا کوئی خوراک تک میسر نہیں۔ ان بچوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘
 بنگلہ دیش میں یونیسیف کے نمائندے نے مزید بتایا کہ سیلاب سے  صاف پانی کے حصول میں شدید دشواری ہورہی ہے۔۴۰؍ ہزار سے زائد مقامات اور تقریباً۵۰؍ ہزار بیت الخلاء اتنی بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ اگر بچے آلودہ ہو جانے والا پانی پینے پر مجبور ہو گئے تو  سیلاب زدہ علاقوں میں اسہال اور ہیضے جیسی بیماریوں کے وبائی شکل اختیار کر جانے کا شدید خطرہ ہے۔  ان کے مطابق بہت سے متاثرہ علاقوں میں پیٹ کی بیماریاں پہلے ہی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں۔ یونیسیف کے مطابق بنگلہ دیش میں موجودہ سیلاب کے نتیجے میں سلہٹ ڈویژن اور اس کے علاقائی دارالحکومت میں صحت عامہ کے۹۰؍ فیصد مراکز پانی میں ڈوب چکے ہیں جبکہ ۵؍ ہزار اسکول اور دیگر تعلیمی مراکز بھی زیر آب  ہیں۔  قبل ازیں سلہٹ ایئر پورٹ  بند ہونے کی وجہ سے یونیسیف نے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعے پہنچایا۔اب تک سیلاب زدہ علاقوں سے تقریباً۵؍ لاکھ متاثرین کو نکالا جا چکا ہے۔ مگر انہیں مجبورا ایسے  مراکز میں رکھا جا رہا ہےجو پہلے ہی سے بھرے پڑے ہیں اور جہاں  بچوں، لڑکیوں اور خواتین کی سلامتی نیز حفظان صحت کے تقاضے پورے کرنے کے انتظامات  ناکافی ہیں۔ شیلڈن ژیٹ نے زور دے کر کہا کہ یونیسیف کو فوری طور پر۲۵؍ لاکھ ڈالر کی امدادی رقم کی ضرورت ہے تاکہ ایمرجنسی فوری طور پر سیلاب سے متاثر شہریوں، خصوصاً تقریباً۳۵؍  لاکھ بچوں کی ہنگامی بنیادوں پر مدد کی جا سکے۔  واضح رہےکہ بنگلہ دیش مانسون کی شدید بارش کے بعد سے سیلاب کی زد میں ہے۔  سیلاب نے امسال گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہی مچائی ہے۔  ۵۰؍  سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے  ہیں۔ کچھ اب بھی  پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی تعداد کاگھر بھی منہدم ہو گیا ہے۔بنگلہ دیش کے شمال مشرق  کے  جو علاقے گزشتہ ہفتے ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے کٹ  گئے ہیں، ان میں متاثرین کی مدد کیلئے فوج بھی مامور ہے۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK