بنگلہ دیش میں دہائی کا بدترین طوفان، اب تک۱۰ ؍ لاکھ افراد بے گھر

Updated: July 16, 2020, 8:51 AM IST | Agency | Dhaka

ایک ماہ قبل شروع ہوئی سیلابی صورتحال گزشتہ ۲؍ روز میں اور بڑھ گئی، آئندہ مزید بارش کا امکان اور سیلاب کا خدشہ، راحتی کام جاری

Bangladesh Flood - Pic : PTI
سیلاب میں ڈوبی ہوئی بنگلہ دیش کی ایک بستی(تصویر: ایجنسی

بنگلہ دیش میں حکام اور رضاکاروں نے بتایا ہے کہ شدید بارش کے سبب دریائوں میں طغیانی آنے سے ملک کا وسیع علاقہ زیرآب آگیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس سیلاب میں ۱۰؍لاکھ سے زائد متاثرین گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ منگل کو ان بپھرے ہوئے دریاؤں میں کم از کم دو درجن مقامات پر پانی کناروں سے بہہ کر قریبی آبادیوں کے نشیبی علاقوں میں بھر گیا، جس سے کئی افراد کے ڈوبنے کی اطلاع ہے۔
 آبی گزرگاہوں کے انتظامی ادارے کے ایگزیکٹو انجینئروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران بنگلہ دیش کے شمالی، شمال مشرقی اور وسطی علاقے کے متعدد مقامات زیر آب آچکے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاںسیلابی صورتحال کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا تھا، جو بڑھتے بڑھتے شدت اختیار کرگیا۔ اس کی زد میں آکر وسیع زمینوں پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، جبکہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
 بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال کی پیش گوئی کرنے والے مرکز نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے شمال مغربی اور وسطی میں صورت حال مزید بگڑنے کے خدشات ہیں۔ ادارے کے ایک اہلکار نے  بتایا کہ یہ اس  دہائی کا بدترین سیلاب ہے۔اس کا آغاز شدید بارش کے ساتھ  ہوا تھا، جس کے بعد سیلابی پانی نے تیزی کے ساتھ نشیبی علاقوں کی جانب رخ کیا۔ دریائوں کی سطح اونچی ہوتی گئی اور پانی کناروں کو کاٹتے ہوئے قریبی نشیبی علاقوں کی طرف بہنے لگا۔
 اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ متاثرین کی فوری امداد اور کھانے پینے کی اشیا کی تقسیم کا کام شروع کیا گیا ہے۔ اس مقصد کیلئے ادارے نے ۹۷۵؍مراکز قائم کئے ہیں جبکہ ۱۷۵؍ طبی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔آئندہ چند روز کے دوران شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔خطے میں مانسون کا موسم جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران بنگلہ دیش  کے ۲۳۰؍ دریاؤں میں طغیانی آتی ہے، جن میں سے ۵۳؍دریا ایسے ہیں جو بھارت اور بنگلہ دیش گزرتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ  آئے سیلاب سے ہندوستانی ریاست بنگال بھی متاثر ہوئی تھی  کولکاتا تک پانی بھر گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ 

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK